20 ستمبر 2018

مسندِ اقتدار پر براجمان عمران خان مسندِ اقتدار پر براجمان عمران خان

1977ء کے بعد پاکستان کے دھاندلی میں لپٹے دوسرے متنازع انتخابات ’’جیت‘‘ کر عمران احمد خاں نیازی نے مسندِ اقتدار تو پا لی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکمرانی ان کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش ٹھہری ہے۔ انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگنے پر یہ تو کہہ دیا کہ وہ سارے حلقے کھولنے کے لیے تیار ہیں لیکن جیسے ہی ہائیکورٹ کے حکم پر حلقہ این اے 131 کی دوبارہ گنتی شروع ہوئی اور خواجہ سعد رفیق کے ووٹ بڑھتے نظر آئے تو فوراً سپریم کورٹ سے گنتی رکوانے کا آرڈر لے لیا۔یاد رہے این اے 131 میں عمران خان بمشکل 700 ووٹوں سے جیتے تھے جبکہ یہاں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد تقریباً 15 ہزار تھی۔
 وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعدعمران خان کی تقریر نے ان کے پاکستان کے بجائے پی ٹی آئی کے وزیر اعظم ہونے کا تاثر دیا۔ انہوں نے 2013ء کے چار حلقے کھولنے کی بے موقع راگنی چھیڑی جس کی شاہ محمود قریشی نے بھی گردان کرنی ضروری سمجھی۔ عمران خان کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن 2015ء میں فیصلہ دے چکا تھا کہ جنرل الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی لیکن عمران خان اپنی بات پر اڑے رہے ۔ انہوں نے اپوزیشن کو یہ بے تکی پیشکش بھی کر ڈالی کہ وہ اسلام آباد میں دھرنا دیں تو ہم انہیں کھانا اور کنٹینر فراہم کریں گے۔ باشعور پاکستانی جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دھرنوں نے قوم کا اربوں روپے کا نقصان کیا تھا۔ 2014ء کے عمرانی دھرنے کے دوران میں پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا۔ ججوں کے سپریم کورٹ پہنچنے کا راستہ بند کیا گیا۔ تب عمران خان نے عوام سے بجلی کے بل نہ دینے اور تارکین وطن سے ہنڈی کے ذریعے رقوم بھیجنے کی ناقابل عمل اپیل بھی کی تھی۔ 17 اگست کو وزیر اعظم کا انتخاب ہوا تو اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی پر احتجاج کا حق استعمال کیا لیکن جب اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے جوابی تقریر میں کہا کہ خان صاحب، اگر دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو ہم تحریک چلائیں گے لیکن ہم وہ کام نہیں کریں گے جو پی ٹی آئی نے کیے تھے۔ اس پر حکومتی بنچوں کی طرف سے تحمل کا مظاہرہ ہونا چاہیے تھا، لیکن شہباز شریف کی تقریر کے دوران میں ایک طرف پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی شور کرتے رہے، دوسری طرف گیلری میں براجمان پی ٹی آئی کے کارکن بد تہذیبی کا مظاہرہ کرنے لگے حتیٰ کہ سپیکر اسد قیصر کو انہیں باہر نکالنے کی دھمکی دے کر خاموش کرانا پڑا۔
 وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں قومی زبان میں حلف کے بعض الفاظ عمران خان کے لیے مشکل کا باعث بنے جس ایک طرح کی مزاحیہ کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ’’ روز قیامت‘‘ کو ’’روز قیادت‘‘ پڑھ گئے اور ’’خاتم النبیینﷺ‘‘ کی ادائیگی بھی ٹھیک طرح سے نہ کر سکے۔ اس پر’’ جھورا جہاز ‘‘والے عمرانی کالم نگار نے لکھا کہ ’’عمران خان کے گرد نمبر بنانے والوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہے جن میں اتنی قابلیت بھی نہیں کہ منتخب وزیر اعظم کو حلف اٹھانے سے پہلے حلف نامہ ایک دفعہ پڑھنے کے لیے دے دیتے۔‘‘ ایک اور صاحب عمران خان کی شکل میں آنے والی تبدیلی کو ’’امرِ ربی‘‘ اور ’’تکوینی‘‘ قرار دیتے ہیں، عربی کے یہ 
پروفیسر مذکورہ حلف نامے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’غلطی عمران کی نہیں بلکہ ایوان صدر کی ہے کہ سادہ لفظوں کے بجائے اتنے مشکل لفظوں پر مشتمل حلف تیار ہوا۔‘‘ جب ’’تکوینی‘‘ تبدیلی والا ’’قیامت‘‘ اور ’’خاتم النبیینﷺ‘‘ جیسے الفاظ بھی درست نہیں پڑھ سکتا تو اس کا ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانے کا خواب کیونکر پورا ہو گا؟ ۔ صاحبِ ’’محاسبہ‘‘ ناصر جمال صاحب کو عمران خان کی بعض ابتدائی تقرریاں پسند نہیں آئیں۔ ’’سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا انتخاب قابل تحسین نہیں۔‘‘ جمال صاحب کے بقول وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اکیس بائیس گریڈ کے 150 سے زیادہ افسران سے جونیئر اور نا تجربہ کار ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے ’’نئے پاکستان کو عمران خان کے مشیروں سے خطرہ ہے۔‘‘ اور ان کا یہ جملہ تو بلاغت کا شاہکار ہے کہ عامر لیاقت اور شیریں مزاری عمران خان کے اوپر کسی بھی روز سکڈ میزائل کی طرح سے گریں گے۔ آخر صحافتی دانشوروں نے اناڑی سیاسی کھلاڑی سے اس قدر خوش کن توقعات کیونکر وابستہ کر لی تھیں؟
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار کے بارے میں پی ٹی آئی کے چیئر مین نے یہ’’ انکشاف‘‘ کیا کہ سردار صاحب کے اپنے گھر میں بجلی نہیں۔ اس پر تحریک انصاف کے ہمدرد فاروق امام ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا ہے ’’ بنیادی مرکز صحت(Basic Health Unit) وزیر اعلیٰ کے گھر کے پاس ہی ہے جس کا عمران خان نے ذکر کیا اور اس بی ایچ یو میں سردار صاحب کے گھوڑے بندھتے ہیں اور لوگ دوائیاں کریانے کی دکان سے خریدتے ہیں۔ مذکورہ گھر سردار صاحب کا گھر نہیں، مکان ہے۔ ان کے گھر تو تونسہ، ڈیرہ غازی خاں اور ملتان میں ہیں، جبکہ ان کے سیاسی ڈیرے یا مکان میں پچھلے بیس سال سے برقی سولر سسٹم کام کر رہا ہے۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق عثمان بُزدار کے اعلان کردہ اثاثے کروڑوں میں ہیں۔قوم کے نام خطاب میں عمران خان نے لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کے لیے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف  عمران خان نے اپنے خطاب میں کالا باغ ڈیم کا ذکر تک نہیں کیا کیونکہ وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر کالا باغ ڈیم کی مخالف پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے ان کی جانب ٹھنڈی ہوائیں چلی تھیں جن سے محروم ہونے کے وہ روادار نہیں۔ خان صاحب نے گیم چینجر منصوبے سی پیک کا ذکر کرنا بھی مناسب نہ جانا کیونکہ اس پر نواز شریف کی مہر لگی ہوئی ہے اور دھرنے کے باعث اس میں ایک سال کی تاخیر ہوگئی تھی۔
رہا لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کا عزم تو وہ ویسا ہی بے بنیاد محسوس ہوا جیسا کہ 2012ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زرداری سوئس اکائونٹس سے کرپشن کے ساٹھ کروڑ ڈالر واپس لانے کی تما م تر کوششیں ناکام رہی تھیں، ’’ملک رہے گا یا کرپٹ ٹولہ‘‘ جیسے جذباتی نعرے کامیاب نہیں ہوں گے۔جنرل ایوب خان نے بھی 1958ء کا مارشل لاء لگا کر احتساب کا ایسا ہی جذباتی نعرہ لگایا تھا لیکن آخر میں کنونشن لیگ نامی کٹھ پتلی جماعت میں بہتیرے کرپٹ عناصر اکٹھے کر لیے۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے بھی احتساب کا بوگس نعرہ لگایا تھا لیکن 2007ء میں انہوں نے این آر او کے ذریعے قومی دولت لوٹنے والے بیشتر ڈاکو ئوں کو معاف کر دیا۔ اپریل 2016ء میں پاناما سکینڈل سامنے آتے ہی وزیر اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی تاکہ تمام کرپٹ عناصر کا احتساب ہو لیکن افسوس کہ صرف نواز شریف کو ٹارگٹ کیا گیا۔ چار پانچ سال کے حیران کن میڈیا ٹرائل اور پھر جوڈیشل ٹرائل کے باوجود ان پر کرپشن کے الزامات ثابت نہ ہوئے تو پہلے انہیں اقامہ کی کمزور بنیاد پر نا اہل کیا گیا اور پھر نیب عدالت سے دس سال کی سزا سنوا کر بیٹی اور داماد سمیت جیل میں ڈال دیا گیا۔ نیز عید الاضحی سے پہلے ان کی ضمانت بھی نہ ہونے دی گئی۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں ڈالر کی گرانی اور کمر توڑ مہنگائی پر قابو پانے کا ذکر بھی نہیں کیا۔ 
بابا رحمتا بھی ڈالرکے ہو شربا چڑھائو پر خاموش ہیں۔ عمران خان بیرونی ممالک سے قرض نہ لینے کی بات کرتے ہیں مگر ان کے وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے قرض کے خواہاں ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ پومپیونے خلاف ضابطہ عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ قائم کر کے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سر زمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہو گی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اس کی تردید کر دی مگر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نورات نے کہا کہ ہم اپنے بیان پر قائم ہیں۔