19 نومبر 2018

مسئلہ کشمیر۔ نئی حکومت کیا کرے؟ مسئلہ کشمیر۔ نئی حکومت کیا کرے؟

پاکستان کو درپیش مسائل گننا شروع کریں تو لمبی فہرست تیار ہوسکتی ہے، جن کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی اور پختہ عزم و حوصلے کے ساتھ شب و روز محنت کی ضرورت ہے۔ ان مسائل میں ایک اہم تنازع کشمیر ہے، جس کے ساتھ جہاں ہماری سلامتی، معیشت اور جغرافیائی بقا وابستہ ہے، وہیں یہ ہمارے ایمان اور قومی حمیت کا بھی معاملہ ہے۔ کشمیر کے عوام بھارت سے نفرت اور پاکستان کی محبت میں آج جس مقام پر کھڑے ہیں، وہاں پاکستان کسی صورت غلطی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے سرِدست یہ بات ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کی طرف سے کچھ ایسے اقدامات کیے جائیں، جن سے ناصرف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو تقویت ملے، بلکہ یہ حوصلہ بھی کہ پاکستان ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گا اور ان کا بہنے والا خون ضرور رنگ لائے گا۔
چوںکہ حالیہ دنوں پاکستان میں نئی حکومت تشکیل پاگئی۔ قائدِ ایوان کے انتخاب کے بعد حکومت سازی کا عمل حتمی مرحلہ طے کرچکا۔ اس لیے ہم نئی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں سب سے پہلی بات یہ کہ حکومت ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوشش ضرور کرے، مگر بھارت جو اس وقت کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے، اس سے تعلقات استوار کرتے وقت عجلت نہ برتی جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ کشمیر پاک بھارت تعلقات میں سرفہرست رہے، کیوںکہ کشمیر کے بغیر بھارت سے تعلقات کا مطلب ماضی کی ناکام پالیسیوں کا تسلسل ہوگا۔
مسئلہ کشمیر کے ضمن میں دوسرا قابل غور پہلو یہ کہ نئی حکومت کشمیر کمیٹی کو متحرک کردار کا حامل بنائے، نہ کہ گزشتہ ادوار کی طرح یہ صرف ایک عہدہ اور مفادات کے حصول کا سلسلہ ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ایسے فرد کو بنایا جائے جو ناصرف کشمیر سے جذباتی وابستگی رکھتا ہو، بلکہ کشمیریوں کی قربانیوں، ان کی جدوجہد اور اس مسئلے کی حساسیت سے صحیح طور پر آگاہ ہو۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کو اس کا بخوبی ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ اس سلسلے میں کشمیر کمیٹی کو درج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
(1)کشمیر کمیٹی کی جانب سے پارلیمنٹ میں موجود تمام اراکین کو کشمیر کی تاریخ، جغرافیائی اہمیت، پاکستان کی سلامتی سے اس کا تعلق، اقوام متحدہ میں کشمیر پر قراردادیں اور موجودہ دور میں کشمیریوں کی جدوجہد سے متعلق ہر حوالے سے مکمل بریف کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کے لیے مسئلہ کشمیر پر بریفنگز، حریت قیادت کے لیکچرز اور لٹریچر تیار کیے جائیں، کیوںکہ انہی لوگوں نے آئندہ دنوں دنیا بھر میں اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے۔
(2)اسی طرح دنیا بھر سے پاکستانی سفارت کاروں کو بلاکر درست معلومات لی جائے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے باہر کی دنیا میں کیا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؟ اس کے لیے ماہرین امور کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ افراد سے رائے لے کر ہر ملک کی صورت حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دنیا کی غلط فہمیاں دُور کی جائیں۔ مزید براں پاکستانی سفارت خانوں کو اس حوالے سے خصوصی طور پر متحرک کیا جائے، جو وہاں کے بااثر افراد، حکومتی ارکان، سیاسی اکابرین اور ماہرین تعلیم سے ملاقاتیں کرکے مسئلہ کشمیر کی اصل صورتحال سے انہیں آگاہ کرے۔
(3)اقوام متحدہ میں کشمیر پر جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے اور اقوام متحدہ کے ہر فورم پر اس مسئلے کو اٹھایا جائے۔ پاکستان میں موجود دنیا بھر کے سفارتی عملے کو کشمیر کی صورت حال، پاکستانی قوم کا کشمیر سے لگائو اور وہاں موجود بھارتی غاصب افواج کے ظلم و ستم سے انہیں بھرپور انداز میں آگاہ کیا جائے۔
(4)پاکستانی ٹی وی چینلز پر کشمیر کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر وقت مقرر کیا جائے، جس سے کشمیری قوم کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
(5)اسی طرح کشمیر کمیٹی میں سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے، جس کے ذریعے پورے ملک سے رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے نوجوانوں، طلبہ اور سوشل میڈیا پر متحرک افراد کو باہم منسلک کیا جائے۔
(6)تحریک آزادی کشمیر پر مشتمل ڈاکومنٹریز، بریفنگز، کتابچے اور پمفلٹس پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تقسیم کیے اور پڑھائے جائیں، تاکہ بھارت جدوجہد آزادی کشمیر کے حوالے سے جو منفی پروپیگنڈا کررہا ہے، اس سے ہماری نسلِ نو کے ذہن بھی بچ جائیں اور وہ اپنی سطح پر ہر فورم پر کشمیر کی آواز بن سکیں۔
ہم امید کرتے ہیں نئی حکومت اپنے دور اقتدار میں ان تجاویز پر عمل درآمد کرکے مسئلہ کشمیر کو خصوصی اہمیت دے گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد جب کشمیر کی تحریک آزادی اپنے عروج پر تھی تو ہم نے مودی کو پاکستان بلاکر کشمیری قوم کو جو غلط پیغام دیا، اس سے ان کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، مگر اس سب کے باوجود کشمیری پاکستان سے رشتہ کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعرے لگارہے ہیں اور جانیں نچھاور کرکے پاکستان سے اپنی لازوال محبت کا اظہار کررہے ہیں۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم بھی آگے بڑھیں اور ہمارے حکمران کشمیریوں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے نعرہ لگائیں کہ کشمیریوں سے رشتہ کیا، لا الٰہ الا اللہ۔