20 ستمبر 2018

مرا پیمبرؐ  عظیم تر ہے مرا پیمبرؐ عظیم تر ہے

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن واقعات و حقائق اس سے مختلف نہیں کہ مغرب نے تہذیبوں کے نام پر غیرعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ اہل علم و دانش اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مغرب کے ایک نام نہاد محقق اور دانشور سیموئیل پی ہنٹنگٹن نے اپنی ایک کتاب ’’ The Clash of Civilizations‘‘ میں واضح طور پر لکھا تھا ’’مغرب کی تہذیب ہر طرح سے کامل و اکمل ہے اسے اگر کوئی خطرہ ہے تووہ خطرہ صرف اور صرف اسلام سے ہے‘‘۔ ہنٹنگٹن نے جس دن سے یہ کتاب لکھی اس دن سے اہل مغرب شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور اسی خوف کی بنیاد پر انہیں جب موقع ملتا ہے وہ اسلام پر حملہ آورہوتے ہیں، انہیں ان گھنائونے کاموں میں اپنی حکومتوں اور شیطانی قوتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہوئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جب سے یہ کتاب منظر عام پر آئی ہے اس وقت سے آج تک مغرب اسلام پر عسکری و تہذیبی لحاظ سے کئی بار یلغار کر چکا ہے۔ کبھی مسلم ممالک پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر چڑھائی کی جاتی ہے اوران کے وسائل پر قبضے کیے جاتے ہیںتو کبھی قرآن مجید اور حضورنبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔حضور نبی کریمؐ کے توہین آمیز خاکے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ شائع ہو چکے ہیں۔ چارلی ہیبڈو جیسے کئی میگزین اور اخبارات اس میں ملوث ہیں، مغرب کے کئی نام نہاد دانشوروں کا ذہن اس کے پیچھے کام کر رہا ہےاور باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت اس ناپاک جسارت کو آگے بڑھایا جاتا رہا، لیکن ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے ایک بدبخت رکن گیرٹ ویلڈرزنے تو حد ہی کردی۔ اس مکروہ انسان نے کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے خاکوں کا مقابلہ کرانے کا اعلان کر رکھا ہے اور مقامی حکومت نے اسے اس ناپاک عمل کے لیے این او سی بھی دے دیا ہے۔ہالینڈ کی حکومت کی طرف سےملعون گیرٹ ویلڈرز کو اجازت دینااس بات کی دلیل ہے کہ یہ کسی ایک شخص کا انفرادی فعل نہیںبلکہ اس کے پیچھے وہاں کی حکومت کارفرما ہے۔ 
بلاشبہ اس اعلان سے ایک تہذیب کو ماننے والے اربوں انسانوں کی دل آزاری ہوئی ہے،اس کا جواب ہر محاذ پر دینا ضروری ہے ۔ اسلامی دنیا اور پاکستان کو ہالینڈسے اپنے سفارتی تعلقات پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے، وزیر اعظم عمران خان نے معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے جو راست قدم ہے۔ ہالینڈ کے ملعون پارلیمنٹرین کے اس ناپاک اعلان کے بعد ہر مسلمان دکھی ہے،خون کی آنسو رو رہا ہےکہ ان بدبختوں کو حضور اکرمؐ کی عظمت کا اندازہ نہیں ،مسلمان فرط جذبات میں بے قابو ہوئے جارہے ہیں،ان کے اندر غصے اور نفرت کا جذبہ امڈ رہا ہے، یہی وہ جذبہ ہے جو امت مسلمہ کا اثاثہ ہےکیونکہ یہی عشق مصطفیٰﷺ کا عملی اظہار ہے ۔ آج پوری دنیا کے مسلمان اس ناپاک جسارت پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیںاور مغرب کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ ایک ادنیٰ سا مسلمان بھی سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے آقا ؐ کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ مسلمان اپنے نبی کریمؐ کا تودل و جان سے احترام کرتے ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء علیہ السلام کی تعظیم دل و جان سے کرتے ہیں ہے، ہم تو تمام انبیاء علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں، کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ تمام انبیاء علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔ ہمیں تمام اقوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آنحضورؐ اپنے سے پہلے آنے والے تمام ابنیاء اور آسمانی کتب کی تصدیق کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی قریب و ماضی بعید میں مسلمانوں اورمسیحیوں کے درمیان تنائو تو رہا ہے اب بھی دنیا میں کچھ ملک اور علاقے ایسے ہیں جہاں دونوں کے درمیان دشمنی نسبتاً زیادہ ہے ، ابھی تو ہالینڈ کے ملعون پارلیمنٹیرین نے توہین آمیز خاکوں کا اعلان کیا ہے ، اس سے پہلے سویڈن ،فرانس اور ڈنمارک میںتوہین آمیز خاکے شائع ہوچکے ہیں ،پھر امریکا کے ایک علاقے میں ٹیری جونز نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی ، مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان کشمکش کافی عرصے سے جاری ہے، فرانس کے ساتھ مسلمانوں کی جنگیں ہوچکی ہیں، دوسری صدی میں بھی بہت بڑی جنگ ہوئی تھی جس میں مسلمانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا، جب صلیبی جنگوں کا دور آیا تو فرانس کے بادشاہ نے کئی جنگوں کی قیادت کی،اس لیے اہل مغرب اور خاص طور پر فرانس کے لوگوں کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مسلمانوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ یہ دشمنی زیادہ نہ پھیلے بلکہ اسے کم کیا جائے۔ آپ نے دیکھا کہ جب چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ ہوا تو اس حملے کے خلاف پیرس میں ہونے والے احتجاج میں جہاں دوسرے ملکوں کے سربراہان شریک تھے وہاں ترکی، فلسطین اور اردن کے سربراہان مملکت بھی شریک ہوئے، یہ مسلمانوں کی طرف سے خیر سگالی اور محبت کا پیغام تھا۔اہل مغرب اسلام اورامت مسلمہ سے خوفزدہ ہیںحالانکہ ان کا خوف بلا جواز ہے، ماضی میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان اچھے تعلقات بھی رہے ہیں، لیکن سیموئیل پی ہنٹنگٹن نے نفرت کا جو بیج بو دیا ہے اب اس کی فصل پک کر تیار ہوچکی ہے جو تہذیبوں کے درمیان ٹکرائو کا سبب بن رہی ہے۔
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی ایک بڑی وجہ وہاں کے لوگوں کا اظہاررائے کی آزادی ہے،ان کے ہاں اظہار رائے کی آزادی کا تصور غیر محدود ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو روکا تو یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ، حتیٰ کہ وہاں کی عدالتیں بھی اس قسم کے معاملات سے کتراتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ دوہرے معیار کی انتہا دیکھئے کہ ایک طرف اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں ہمارے پیارے پیغمبر ؐ کی توہین کی جاتی ہے اوردوسری طرف ہولوکاسٹ پر لب کشائی کی اجازت نہیں ۔ ہولوکاسٹ پر لب کشائی کی اجازت نہیں تو دوسرے مذاہب کی مقدس ہستیوں کی توہین کیوں کی جاتی ہے؟ ہولوکاسٹ پر بات کرنے والے کو سزا ہوسکتی ہے توپھرتوہین آمیز خاکے شائع کرنے والوں کو سزائیں کیوں نہیں مل سکتی؟ اظہار رائے کی آزادی کی کوئی حدود و قیود بھی ہیں، انسان کی آزادی اظہار رائے وہاںتک ہے جہاں کسی دوسرے کی دل آزاری نہ ہو۔ ایک طرف دنیا میں قیام امن کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں اور دوسری طرف ایسی ناپاک جسارتیں کی جارہی ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں بسنے والے اربوں انسانوں کے جذبات کو بھڑکایا جارہا ہے، اس طرح دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی۔
ہمارا یہ ایمان ہے کہ ایسی ناپاک جسارت سے کائنات کی اس عظیم ہستی اور اللہ کے محبوب رحمت للعالمینؐ کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مسلمان کا دل ضرور دکھتا ہے، لیکن اس دکھی دل کے ساتھ ہر مسلمان کا یہ ماننا ہے کہ  
مرا پیمبر عظیم تر ہے
کمالِ خلاق ذات اُس کی
جمالِ ہستی حیات اُس کی
بشر نہیں عظمتِ بشر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے
وہ شرحِ احکام حق تعالیٰ
وہ خود ہی قانون خود حوالہ
وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری
وہ آپ مہتاب آپ ہالہ
وہ عکس بھی اور آئینہ بھی
وہ نقطہ بھی خط بھی دائرہ بھی
وہ خود نظارہ ہے خود نظر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے