24 ستمبر 2018
تازہ ترین

مرادِ پیغمبر سیدنا عمر فاروقؓ مرادِ پیغمبر سیدنا عمر فاروقؓ

خلیفۂ دوم سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کو تمام اصحابؓ میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپؓ کو آنحضرتؐ نے خدا سے مانگ کر لیا ہے۔ حضور اکرمؐ مراد ابراہیمؑ ہیں اور حضرت عمر فاروقؓ مرادِ مصطفیٰﷺ ہیں۔ حضورﷺ کی دعا سے حضرت عمر فاروقؓ نے اسلام قبول کیا اور صحن حرم میں باجماعت نماز ادا کرنے کی باقاعدہ ابتدا ہوئی، حضرت عمرؓ  کے مقام ومرتبہ کا اندازہ ان باتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ 
اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم الشان درجہ نبوت کا ہے، بندہ محنت وریاضت کے ذریعے ولی تو بن سکتا ہے لیکن نبی نہیں۔ حضور اکرمؐ نے حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں فرمایا، اگر میرے بعد نبوت ہوتی تو حضرت عمر فاروقؓ کو یہ درجہ عطا کیا جاتا مگر میں خاتم النبین ہوں۔
آنحضرت ؐنے آپؓ کو اللہ رب العزت سے مانگ کر لیا ہے، حضرت عمر فاروقؓ کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے، وہیں خطہ ارضی پر (22لاکھ 55 ہزار مربع میل) پر حکمرانی کا شرف بھی حاصل ہے۔
مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں جو باتیں خلاف عادت وتوقع انبیاء کرام علیہم السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوں، انہیں معجزہ جو اللہ کے نیک بندوں کے ذریعے ظاہر ہوں انہیں کرامات کہتے ہیں۔
حضرت عمر فاروقؓ ایک بار مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے کہ زلزلہ کی کیفیت زمین پر طاری ہوئی اور زمین کانپنے لگی۔ حضرت عمرؓ نے اپنا درہ زمین پر مارا اور فرمایا، کیوں کانپتی ہے کیا زمین تجھ پر عمرؓ نے انصاف نہیں کیا۔ زلزلہ اسی وقت تھم گیا، یہ امر گواہی تھا کہ آپؓ نے انصاف کا حق ادا فرمایا ہے۔ 
نیل مصر کا مشہور دریا ہے، سال میں ایک بارخشک ہو جاتا تھا، مصر جب فتح ہوا، اسلام کی روشنی جب وہاں پہنچی تو حسب روایت دریا خشک ہونے کے وقت لڑکی کو تیار کرکے اہل مصر پھینکنے لگے تو مصر کے حاکم نے حضرت عمرؓ کو اس رسم بد سے بذریعہ خط آگاہ فرمایا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ انسانی جان دریا سے قیمتی ہے، میرا یہ خط دریا میں ڈال دو، لوگ حیران تھے، حضرت عمرؓ نے لکھا، ’’اللہ تعالیٰ کے بندے عمر بن خطابؓ کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے، اگر تُو اپنے اختیار سے جاری رہتا ہے تو ہمیں کوئی ضرورت نہیں اور اگر تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہے تو پھر تجھے جاری رہنا چاہیے۔‘‘ یہ خط جب دریا میں ڈالا گیا تو نیل میں پانی ایسے چڑھنا شروع ہوا  جیسے سیلاب کے دنوں میں تیزی سے چڑھتا ہے اور ایسا جاری ہوا کہ آج تک جاری ہے، اس کی روانی وفیض رسانی میں کوئی فر ق نہیں آیا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر غیر مسلموں نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا کہ جس مذہب حق کے ماننے والے کی تحریر کا حکم دریا بھی مانے، اس دین حق کی برکات کا عالم کیا ہوگا۔  
حضرت عمر فاروق ؓ ایک روز جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک خلاف معمول دوتین بار فرمایا، یا ساریۃ الجبل، اے ساریہؓ پہاڑ کی طرف دیکھ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے بعد میں دوران خطبہ اس جملے کے کہنے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ عراق میں نہاوند کے مقام پر حضرت ساریہؓ کی قیادت میں جو لشکر مصروف جہاد ہے، میں نے دیکھا کہ اس کے سامنے سے کفار کا لشکر آرہا ہے، جس کی حضرت ساریہ ؓ کو خبر ہے اور پیچھے سے جو لشکر آرہا ہے پہاڑ سے اس کی خبر نہیں۔ چنانچہ میں نے یہ الفاظ بے اختیار کہے (اور اس یقین کے ساتھ کہے کہ اللہ تعالیٰ ان تک پہنچادیں گے) کچھ دنوں بعد عراق سے جب حضرت ساریہؓ کا قاصد آیا تو اس نے اس کی تصدیق کی کہ ہم لوگوں نے جمعہ کو فلاں وقت حضرت عمرؓ کی آواز سنی اور سنبھل گئے اور پہاڑ پر چڑھ کر دشمن سے مدافعت کی، اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ 
حضرت عمر فاروقؓ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دوران خطبہ آپؓ نے اچانک فرمایا (میں حاضر ہوں)۔ تمام صحابہؓ کچھ سمجھ نہ سکے، ایک لشکر تو جہاد سے فتح یاب ہو کر واپس آیا اور سردار لشکر نے فتوحات کے سلسلہ میں بات چیت شروع کی، حضرت عمرؓ نے فرمایا، باقی باتیں بعد میں ہوں گے، پہلے یہ بتائو تم نے سردی کے موسم کا لحاظ بھی نہیں کیا اور ایک شخص کو راستے میں حائل پانی کی گہرائی معلوم کرنے کے لیے اس میں اتار دیا، اس شخص نے مجھے پکارا کہ میرے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، میں نے اس کو جواب دیا، مگر وہ پانی اور شدت سردی کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکا اور خدا کے حضور پہنچ گیا۔ اگر قصاص میں تمہاری جان لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، مگر پھر بعد میں آنے والے عام سی بات پر بھی سزا تجویز کرنا شروع کر دیں گے، جاؤ اب اس کا فدیہ دو۔
حجاز کی گھاٹیوں سے آگ نکلی، جس نے سب کچھ خاکستر کردیا، حضرت عمرؓ نے حضرت تمیم داریؓ کو ساتھ لیا اور آگ بجھانے نکلے، حضرت عمرؓ نے حضرت تمیم داریؓ سے فرمایا کہ آگ کو ہنکانہ شروع کرو۔ انہوں نے آگ کو اپنی چادر سے ہنکانہ شروع کیا اور اسے دھکیلتے دھکیلتے اس گھاٹی سے جہاں سے نکلی اندر فرمادیا، آج تک دوبارہ وہ آگ نہیں نکلی۔
حضرت عمرؓ پروردگار کے حضور اکثر دعا مانگا کرتے تھے، اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت نصیب فرما اور دے بھی شہر مدینہ میں۔ صحابہ کرام ؓ اس پر تعجب کا اظہار کرتے، کیونکہ شہادت تو میدان میں آتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی، شہادت بھی مدینہ شہر میں مسجد نبوی میں نماز پڑھتے ہوئے نصیب ہوئی اور مزید یہ کہ تدفین بھی نبیﷺ اور سیدنا صدیق اکبرؓ کے پہلو میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان حضرات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ (آمین)۔