23 ستمبر 2018
تازہ ترین

محبوبِ قوم ملک عبدالقیوم کا مکتوب محبوبِ قوم ملک عبدالقیوم کا مکتوب

(14 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
ہم تمام مسلمانان ہند کی طرف سے ملک صاحب کی اس نوازش کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دست بہ دعا ہیں کہ ملک صاحب بخیر و عافیت مادر وطن کی آغوشِ مرحمت میں پہنچیں اور اپنے تمام دینی و دنیوی مقاصد میں کامیاب ہوں، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یومِ نابھہ
9 ستمبر کو ہمارے اولوالعزم اکالی بھائیوں نے مہاراجہ صاحب نابھہ کی معزولی کیخلاف ہر شہر اور ہر قصبہ میں جو عظیم الشان مظاہرے کئے ہیں ان کی شوکت و عظمت کیلئے اتنا ہی عرض کرنا بس ہے کہ وہ مظاہرے اور جلوس اکالیوں کے تھے جنہوں نے گزشتہ دو سال کے دوران میںاپنی اولوالعزمی و شجاعت کی دھاک چار دانگِ عالم میں بٹھا دی ہے۔ اب تک ان مظاہروں کے متعلق جس قدر اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ریاستوں کے ارباب اختیار و حکومت نے اکالیوں کے ان پرامن جلسوں کو سختی سے روکا۔ ظاہر ہے کہ ان تمام ریاستوں کے اہل اقتدار زیادہ تر ہندوستانی ہیں۔ کوئی ایماندار شخص ان کی اس حرکت کو بنظر استحسان نہیں دیکھ سکتا۔
ان ریاستوں کے خداوندانِ اقتدار کو یاد رکھنا چاہئے کہ جس قوم کے پرامن مظاہروں میں وہ مزاحم ہوئے ہیں اس نے اپنے اثبات و استقلال اور عزم بالجزم کے سامنے بڑے بڑے مغروروں کے سر خم کر دیئے ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ان ریاستوں نے صرف اس امر کو مدنظر رکھ کر اکالیوں کے مظاہروں کی مزاحمت کی ہے کہ اکالی حکومت وقت کے مخالف ہیں لیکن ہم ان عقل مندوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ جب انگریزی علاقہ میں اکالیوں کے پرامن مظاہروں میں کوئی حاکم حائل نہیں ہوا تو پھر آپ کیوں ’’مدعی سست گواہ چست‘‘ کے مصداق بنتے ہیں۔ یہ مظاہرہ نہایت کامیابی سے انجام کو پہنچا اور ہم اپنے اکالی بھائیوں کو اس کی کامیابی پر ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسیاستِ مصر
(15 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
سرزمین مصر بھی ان برگشتہ بخت ممالک میں سے ہے جنہوں نے مغربی شہنشاہی اور سرمایہ داری کے ہاتھوں شدید مصائب برداشت کئے ہیں اور اپنی حریت و آزادی کی خاطر عدیم المثال قربانیاں کی ہیں لیکن آئرلینڈ کی طرح اب تک اس کو بھی مکمل آزادی کی صورت دیکھنی نصیب نہیں ہوئی۔ اگرچہ فروری 1922ء میں حکومت برطانیہ نے مصر کو لفظی آزادی کا پروانہ عطا کر دیا تھا اور ایک نہایت بلند آہنگ اعلان شایع کر کے تمام دنیا پر یہ ظاہر کیا تھا کہ انگریزوں نے بے نظیر اولوالعزمی کو کام میں لا کر مصر کو آزاد کر دیا ہے۔ لیکن جس حالت میں انگریزی اثر بدستور ملک پر مسلط ہو، انگریزی افسر حکمرانی کر رہے ہوں، انگریزی فوج ملک پر قابض ہو، مارشل لا کا دور دورہ ہو اور محبان وطن کی جلاوطنی عمل میں آ رہی ہو اس قسم کا اعلانِ آزادی ایک مذاق تھا جس سے اہل ملک کے زخمی دلوں پر نمک پاشی کی گئی تھی۔ اپریل 1923ء میں مصر کو دستوری حکوم بھی دے دی گئی لیکن اس سے بھی مصر کی مصیبتیں ختم نہ ہوئیں اور لارڈ ایلن بائی بدستور سیاہ و سفید کے مالک و مختار بنے رہے۔
اس میں شک نہیں کہ مارشل لا رسمی طور پر اٹھا لیا گیا ہے اور قائد ملت سعد زاغلول پاشا کو بھی مصر میں آنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن دستوری حکومت کے آئین میں بعض ایسی توہین آمیز دفعات و شرایط ہیں جن کو کوئی خوددار قوم منظور نہیں کر سکتی۔ مثلاً جو انگریز افسر دستوری حکومت کے قیام کے بعد مصر میں کام نہیں کرنا چاہتے اور خدمات سے سبکدوش ہونے کے آرزو مند ہیں ان کیلئے جو معاوضہ بطور تلافیِ مافات طلب کیا گیا ہے اس کی رقم اس قدر کثیر و خطیر ہے کہ اگر مصر اس کو ادا کر دے تو دیوالیہ ہو جائے۔ علاوہ بریںاب تک مصر میں جو انگریز عہدہ دار بہت بڑی بڑی تنخواہیں پا رہے ہیں وہ بھی مصر کے ذرایع آمدنی پر ایک ناقابل برداشت کوہ گراں بنے ہوئے ہیں۔ مصر کو آئین ملنے کے بعد بھی لارڈ ایلنبائی اور ان کے رفقا کی حرکتیں بدستور جاری ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں پانچ معزز مصریوں کو بعض مزعومہ سازشوں میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا ہے۔
ان تمام حالات سے ظاہر ہے کہ دستور و آئین کے باوجود اب تک انگریزی اثر و اقتدار کا یہ حال ہے کہ مصر کے مالیات اور فوجی طاقت پر برطانیہ بدستور مسلط ہے۔ محض ایک شاہ شطرنج، ایک جھوٹ موٹ کی پارلیمنٹ اور آئین و دستور کا تمام ظاہری ساز و سامان مہیا کر کے اہل مصر کے آبائو اجداد پر بہت بڑا احسان کیا گیا ہے اور مصری اس مکر و فریب کے جال کو خوب سمجھتے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ جب جدید آئین کے ماتحت مصر میں کونسلیں مرتب ہو جائیں گی تو اہل مصر خود اپنے ملک میں راج کریں گے۔ مجلس وضع قوانینِ مصر کے ابتدائی انتخابات تو آج کل ہو رہے ہیں اور اسمبلی کے ارکان کا قطعی انتخاب اکتوبر کے وسط میں ہوگا۔ اس کے بعد مجلس وزرا کا تقرر و انتخاب نومبر میں ہو سکے گا۔ غالباً جدید آئین کے مطابق مصر کی حکومت سالِ آیندہ کے آغاز سے شروع ہو گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات کی صورت حالات کیا ہے۔ آج کل مصر میں دو جماعتیں ہیں ایک تو احرار ہیں جو زاغلول پاشا کی سرکردگی میں مدت سے آزادی مصر کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔     (جاری ہے)