21 ستمبر 2018
تازہ ترین

مالیاتی بحران اور سعودی عرب کی کاوشیں مالیاتی بحران اور سعودی عرب کی کاوشیں

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے عمران خان سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے انہیں انتخابات میں جیت پر مبارک باد پیش کی اور مستقبل میں مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عمران خان کو دورۂ سعودی عرب کی بھی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کیا اور جوابی طور پر خادم الحرمین الشریفین کو بھی دورۂ پاکستان کی دعوت دی۔ سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اورہم پاکستان سے تجارتی تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں، جس پر عمران خان نے ان کے جذبہ خیرسگالی کو سراہا اور کہا کہ ولی عہد کی زیر نگرانی سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف موثر مہم چلائی گئی، جس پر ہم بھی ان کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاک سعودی تعلقات کو مزید مضبوط و مستحکم بنایا جائے گا۔ بہترین گورننس کرپشن کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ عنقریب دونوں ملکوں کے سربراہان ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے۔ 
عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف حالیہ انتخابات جیت چکی اور وفاق کی طرح صوبوں میں بھی حکومتیں بن چکیں۔ حالیہ انتخابات میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کوجس طرح شکست ہوئی اور ان کی مرضی کے نتائج نہیں آسکے، اس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر وہ پاکستان کے خلاف مختلف طریقوں سے غصہ نکال رہے ہیں۔ نئی حکومت کو بنے کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ پاکستان کو ابھی سے مشکلات سے دوچار کرنے اور مسائل پیدا کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
سابق حکمرانوں نے جس طرح وسیع پیمانے پر غیر ملکی قرضے لیے ہیں، اس سے ملکی معیشت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی قرضے لیے گئے، لیکن 2013 میں جب پیپلز پارٹی نے اقتدار چھوڑا تو پاکستان کے ذمے واجب الادا قرض 14138 ارب روپے تھا، جو فی کس 77 ہزار روپے بنتا ہے، لیکن نواز شریف کے دور حکومت میں بڑے پیمانے پر بیرونی قرضے لے کر پاکستان پر بہت بڑا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ جون 2017 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق (ن) لیگی حکومت کے پہلے چار سال میں 9000 ارب روپے مزید قرض لیا گیا اور فی کس 50ہزار روپے قرض بڑھ گیا۔ یعنی سابق دور حکومت میں بیرونی قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے سود کی ادائیگی کے لیے بھی قرضے لیے گئے اور پاکستان کی آئندہ نسل کو عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی میں جکڑ دیا گیا۔ اس وقت نئی حکومت کے لیے بیرونی قرضوں کی ادائیگی اورملکی معیشت کو سہارا دینا بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایک طرف یہ خوفناک صورتحال ہے تو دوسری جانب امریکا مسلسل پاکستان پر دبائو بڑھارہا ہے۔ اس نے یو ایس انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت پاکستانی فوجی افسروںکی تربیت کا سلسلہ بند کردیا ہے، چنانچہ رواں برس افواج پاکستان کا کوئی بھی افسر اس پروگرام کے تحت امریکا نہیں جاسکے گا۔ ملٹری ایجوکیشن پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے 66سیٹیں مختص رکھی گئی تھیں، تاہم اب یہ سیٹیں یا تو کسی اور ملک کو دے دی جائیں گی اور یا انہیں ختم کردیا جائے گا۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے آئی ایم ایف سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں عمران حکومت کو کوئی ایسا بیل آئوٹ پیکیج نہ دے جسے وہ چین کا قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کرسکے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس سلسلے میں باقاعدہ دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا اور کہا کہ ایسی غلطی نہ کی جائے جو کچھ آئی ایم ایف کرے گا ہم دیکھ رہے ہوں گے۔ 
آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان 1980ء سے لے کر اب تک عالمی مالیاتی ادارے سے 14 بار قرضہ حاصل کرچکا ہے، جس میں 2013 میں منظور کیا جانے والا 6 ارب 70 کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی شامل ہے، جو تین سال کے عرصے کے دوران پاکستان کو دیا گیا۔ پاکستان کی جانب سے واضح کہا گیا کہ وہ آئی ایم ایف کی طرف سے حاصل کردہ قرضوں کو چین کا قرضہ اتارنے کے لیے استعمال نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود امریکا عالمی مالیاتی ادارے پر دبائو بڑھائے ہوئے ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی پاکستان سے کسی طور مخلص نہیں اور خطہ میں بھارت کو ہی درحقیقت اپنا اصل اتحادی سمجھتے اور اسی سے رشتے استوار رکھنا چاہتے ہیں۔ 
امریکا کی طرف سے پاکستان کے لیے قرضوں کے حصول میں روڑے اٹکانے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہر مشکل وقت میں کام آنے والے سعودی عرب نے پاکستان کا حوصلہ بڑھایا اور اسلامی ترقیاتی بینک کی طرف سے پاکستان کو 4ارب ڈالر سے زائد قرض دینے کا گرین سگنل دیا ہے۔ پاکستان کو طویل المدتی قرضوں کی ادائیگی کے لیے فوری 9ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس کے لیے نئی حکومت آئی ایم ایف کے علاوہ مالی بحران سے نکلنے کے لیے دیگر آپشن استعمال کرنے پر غور کررہی ہے۔ پاکستانیوں کے لیے بانڈز جاری کرنے کی بھی تجویز ہے۔ سعودی عرب کے اس اعلان پر بھی امریکا اور دیگر مغربی ملکوں کو سخت تکلیف ہے۔ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو مالیاتی بحران سے نکالنے کی کوششیں کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں اور اسے اپنی غیر ملکی ادائیگیوں کے سلسلے میں مسائل کا سامنا ہے۔ برآمدات اس کی درآمدات کے مقابلے میں بہت کم ہیں جس سے تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور زرمبادلہ پر بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل اور مائع گیس درآمد کرتا ہے، جس کی بڑھتی ہوئی مانگ اور قیمتیں زرمبادلہ پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ اس لیے نئی حکومت کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مالی امداد کی ضرورت ہوگی۔ سعودی عرب نے ان حالات میں جس طرح آگے بڑھ کر پاکستان کا حوصلہ بڑھایا ہے اور ایک ہفتہ میں تین مرتبہ عمران خان سے رابطہ کرکے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ، اس سے پاکستانی قوم کے دلوں میں برادر اسلامی ملک کے لیے محبت مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔ آئندہ دنوں میں بھی ان شاء اللہ وہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گا۔
ضروری ہے کہ پاکستان خود بھی امریکیوں سے جان چھڑائے اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے علیحدہ ہو۔ امریکا پہلے پاکستان کا دوست تھا اور نہ آئندہ کبھی بنے گا۔ حکومت کو چین، روس، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ملکوں سے تعلقات مزید مضبوط و مستحکم کرنے چاہئیں۔ بیرونی قوتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے سے نکلے بغیر پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں۔