20 نومبر 2018

مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ

وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان فون پر خیرمقدمی کلمات کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی، جس کے شائع ہوتے ہی وزارت خارجہ کی جانب سے تردید، وضاحتوں کا حیران کن سلسلہ شروع ہوگیا۔ عمران خان کا موقف امریکا مخالف رہا ہے، عوام اُن سے اب اسی کی توقع کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ’’امریکی غلامی‘‘ سے نجات دلائیں۔ راقم کو امریکی ریاست کے مختلف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز و دیگر ایسے ایشوز کی بریفنگ کی رپورٹس بذریعہ ای میل باقاعدہ ملتی رہتی ہیں (جسے امریکی ریاست جاری کرنا ضروری سمجھتی ہے)۔ احباب کی آگاہی کے لیے U.S. Department of State کی جانب سے ملنے والی پریس ریلیز کو من و عن پیش کررہا ہوں۔
Secretary Pompeo's Call With Pakistani Prime Minister Imran Khan
Share
Readout
Office of the Spokesperson
Washington, DC
August 23, 2018
The below is attributable to Spokesperson Heather Nauert:ý
Secretary Michael R. Pompeo spoke today with Pakistani Prime Minister Imran Khan and wished him success. Secretary Pompeo expressed his willingness to work with the new government towards a productive bilateral relationship. Secretary Pompeo raised the importance of Pakistan taking decisive action against all terrorists operating in Pakistan and its vital role in promoting the Afghan peace process.
امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے ’’پاکستان کی جانب سے اپنے ہاں تمام دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام اور افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں اس کے اہم کردار پر (پاکستانی وزیراعظم) سے بات کی‘‘۔ اچانک پاکستانی وزارت خارجہ نے امریکی بیانیے کے اس پیرائے پر اعتراض کیاکہ اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ امریکی وزارت خارجہ اپنا بیان واپس لے۔ لیکن امریکی انتظامیہ اپنے بیان پر قائم رہی اور امریکی بیانیہ تبدیل نہیں کیا گیا۔ یہ عمل نومنتخب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے لیے سبکی و شرمندگی کا سبب بنا۔ نئی حکومت اپنے پہلے قدم میں ہی لڑکھڑا گئی اور بلند بانگ دعوے زمیں بوس ہوتے نظر آئے۔ لیکن یہاں ہم ’’حسنِ ظن‘‘ سے کام لے لیتے ہیں کہ چونکہ عمران خان پہلی بار حکومت سازی کررہے ہیں، انہیں ریاستی امور چلانے کا قطعی تجربہ نہیں۔ ویسے بھی بڑے دل سے اقرار کرچکے تھے کہ اچھا ہوا کہ انہیں 2013 میں حکومت نہیں ملی، انہیں ریاست چلانے کا تجربہ نہیں تھا۔ بہرحال یہ سمجھ چکے ہوں گے کہ ایک صوبائی اور وفاقی حکومت چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، یہ اندازہ انہیں یقینی طور پر اپنے اقتدار کے پہلے ہفتے میں ہی ہوگیا ہوگا۔ ریاست مدینہ، کفایت شعاری، گورنر، وزیراعلیٰ ہاؤسز اور یہاں تک وزیراعظم ہائوس تک کو استعمال نہ کرنے، ملازمین کی تعداد کم کرنے، سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کے علاوہ صوابدیدی فنڈ کے خاتمے سمیت کئی ثانوی اعلانات کیے لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہوتا تو کوئی نئی بات ہوتی۔ یہ تو کئی بار ہوچکا ہے۔ ایک معروف اینکر نے اپنے کالم میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے وزیراعظم ہائوس کے اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے جانے کے کچھ ناقابل یقین اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے چیلنج دیا کہ اگر ان کے اعداد و شمار غلط ہیں تو ثابت کردیں، لیکن دعوے کا جواب دینے کے بجائے فاضل کالم نگارکو آڑے ہاتھوں لے لیا گیا۔ وزیراعظم ہائوس استعمال نہ کرنے پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی مثال بھی سامنے ہے کہ انہوں نے بھی عمارت کو استعمال نہیں کیا تھا، لیکن ان کی اچھی روایت کو بھی بلیک آئوٹ کردیا گیا۔
سادگی اور کفایت شعاری میں ہی ترقی کا راز مضمر ہے، اس سے انکار نہیں۔ لیکن ہم سب کو تنقید برائے تنقید کی روش کو اپنانا نہیں چاہیے۔ سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے پارلیمانی امورسے وابستہ ایک سرکاری نیوز چینل پی ٹی وی نیشنل کی بنیاد رکھی، نئے وفاقی وزیر اطلاعات نے اس چینل کا نام ’’سیاسیات‘‘ رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر پی ٹی وی نیشنل میں کسی بات کی کمی ہے تو اس کی درستی اچھی بات ہے۔ اسی طرح وزیراعظم دو گاڑیاں اور دو ملازم رکھیں گے، یہ بھی’’اچھی بات‘‘ ہوگی۔ لیکن سیکیورٹی کے نام پر صدر پاکستان کے لیے21 سے22 گاڑیوں کا  قافلہ اور وزیراعظم کے لیے 22 سے لے کر 25 سیکیورٹی گاڑیوں کا قافلہ معہ ایمبولینس رواں دواں ہوتا ہے۔ پھر وزیراعظم کے ساتھ ان کے وزراء یا کسی دوسرے صوبے کے وزیراعلیٰ وزراء کا سیکیورٹی اسٹاف اس کے علاوہ ہے۔ اب میڈیا صرف اگلی دو گاڑیاں دکھائے تو یہ ’’ناانصافی‘‘ ہے۔ تاہم سیکیورٹی مینجمنٹ کو براہ راست دکھانے سے مسائل ضرور جنم لے سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ ’’پروٹوکول‘‘ نہیں ہوگا، یہ ناقابل فہم ہے، کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ سیکیورٹی پر مامور پولیس ((SIU، انسداد دہشت گردی اسکواڈ، 
ایلیٹ فورس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ایمبولینس، رینجرز، فوج سمیت حساس اداروں کی گاڑیوں کے پروٹوکول (سیکیورٹی) اور روٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کو ہٹایا جاسکے۔ میری ذاتی رائے کے مطابق بدقسمتی سے عمران خان ابھی تک ’’بھاٹی چوک‘‘ سے باہر نہیں آسکے۔ شاید انہیں تھوڑا وقت ضرور لگے گا۔
 وزیراعظم ہائوس سے بنی گالہ جانے کے لیے دس منٹ کی مسافت کو طے کرنے کی خاطر سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، تو پہلے ہی دنیا بھر میں مذاق بن چکا ہے۔ کفایت شعاری و سادگی کو حقیقی معنوں میں متعارف کرانا ہے تو تمام ریاستی ستونوں کی مراعات ختم کرکے فکس تنخواہ یا اعزازیہ مقرر کردیں۔ بجلی، گیس، ٹیلی فون، دیگر یوٹیلٹی بلز، بیرون ملک علاج و بے معنی سیمینار کی سہولتوں و اخراجات، حکومتی خرچوں پر حج و عمرے، بیرون ملک دورے، پٹرول، ڈیزل، سی این جی کی مد میں لاکھوں لیٹر کی ماہانہ پرچیاں، اضافی ملازمین ایک سرکاری800 سی سی گاڑی کے علاوہ بچوںکے لیے 1300سی سی، سودا سلف لانے کے لیے 1200 سی سی، گھر کے ہر فرد کے لیے 1600سی سی گاڑیاں، کرایے کے مکانات کے اخراجات سمیت لاتعداد مراعات جو تنخواہ کے علاوہ لی جاتی ہیں، سب کو ختم کرکے تمام ملازمین کا پے اسکیل یکساں کردیں تو اربوں نہیں کھربوں روپوں کی بچت قومی خزانے کو ہوگی۔ گورنر سندھ کی نامزدگی کے بعد ملک بھر سے اعتراض سامنے آچکا ہے کہ ایک انٹرمیڈیٹ ’شخص‘ سندھ کی ’’یونیورسٹیوں کا چانسلر‘‘ بنے گا۔ وہ وائس چانسلر تعینات و ڈگریاں دے گا۔ اعتراض کا بھونڈا جواب ملا کہ اس سے پہلے والا تو صدر میٹرک پاس تھا جب وہ پاکستان کا صدر بن سکتا ہے تو انٹرمیڈیٹ گورنر کیوں نہیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ ’’نئے پاکستان‘‘ بنانے والوںکے دعوے کیا تھے۔ کیا پاکستان تحریک انصاف کے پاس تعلیم یافتہ قابل افراد کی کمی ہے جو انہیں گورنر جیسے عہدے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت نہیں مل رہی۔ ابھی یہ معاملہ زیر بحث تھا کہ بلوچستان کے نامزد گورنر نیب زدہ نکل آئے۔ ایسا لگتاہے کہ وزیراعظم کے گرد ’ٹولہ‘  انہیں غلط بریفنگ دے رہا ہے یا پھر عمران خان سخت سیاسی دبائو کا شکار ہیں۔ اپنی جماعت کی گروپ بندیوں کی وجہ سے پسند و ناپسند کے گرداب میں پھنستے جارہے ہیں۔ اس وقت کیونکہ ان کی حکومت کو کسی قسم کی منفی تنقید کا نشانہ بنانا اچھی روایت نہیں ہوگی لیکن مثبت تنقید و اصلاح کے حوالے سے انہیں درست آگاہی کی سخت ضرورت ہے۔ 
پاکستان کو جو سنگین مسائل درپیش ہیں، اس کے سدباب کے لیے دوررس اور قلیل المدت منصوبہ بندیاں اہمیت کی حامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں نہ جانا اس لیے بہتر فیصلہ ہے کیونکہ انہیں پاکستانی ریاست کی خارجہ پالیسی کا علم ہی نہیں۔ اقوام متحدہ میں رسمی تقریر یا عالمی سربراہان سے ملاقات کرکے ’’کرنا کیا ہے‘‘ کسی کو جانے کی ضرورت نہیں، ملیحہ لودھی لکھی تقریر پڑھ دیں گی۔ کابینہ جلد ازجلد پہلے خارجہ پالیسی بنالے۔ پھر اہم ایشوز پر سب کو اعتماد میں لے کر چلیں، بھارت سے مذاکرات کے لیے بے کلی کا مظاہرہ کرنے سے پرہیز کریں۔ ابھی تو صرف ایک امریکی کال کے بعد اس کی وضاحتوں نے بیچ چوراہے پر ہانڈی پھوڑ دی ہے۔ آگے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے؟