25 ستمبر 2018

مائیکل ہارٹ کیا کہتا ہے! مائیکل ہارٹ کیا کہتا ہے!

کیوں ہر بار ہمیں تکلیف پہنچائی جاتی ہے، کیوں ہمارے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے، ہر مرتبہ مختلف حربے آزما کر ہمیں درد کیوں دیا جاتا ہے، کیوں ہر دفعہ ہمیں بے چین کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا نہیں، پوری امت مسلمہ کا معاملہ ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی دیکھیں تو کروڑوں انسانوں کے جذبات مجروح کیے جا رہے ہیں۔ ابھی خبر آئی ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ کے متعلق خاکوں کا مقابلہ منسوخ کر دیا گیا ہے، روح کو قرار ملا ہے، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔ نئی حکومت سمیت ہم سب کو اس معاملے پر اپنی توانائیاں خرچ کرنا ہوں گی۔ کیونکہ یہ معاملہ اس محبوب ترین ہستی کا ہے جس پر مسلمان اپنی جان، عزت، مال سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ کل ہی ’’سو عظیم آدمی‘‘ کتاب کا ابتدائیہ دیکھ رہا تھا۔
1978ء میں مائیکل ہارٹ نے The 100 کے نام سے شاندار کتاب لکھی تھی۔ مائیکل ہارٹ امریکا میں پیدا ہوا، اس نے ایڈلفی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹر اور پھر پرنسٹن یونیورسٹی سے علم فلکیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ہارٹ طویل عرصے تک معروف امریکی ادارے ’’ناسا‘‘ کے ساتھ کام کرتا رہا۔ اس دوران مختلف سائنسی موضوعات پر ریسرچ مضامین بھی لکھتا رہا۔ اس دوران ہارٹ کی مختلف سائنسی تحقیق سے متعلق کتابیں بھی شائع ہوتی رہیں۔ 1978ء میں مائیکل ہارٹ نے دنیا کے سو عظیم انسانوں کی فہرست مرتب کرنے کی ٹھانی، بعد ازاں یہ فہرست کتاب کی شکل میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کو لکھتے ہوئے ہارٹ کہتا ہے ’’وہ کونسے سو افراد ہیں جنہوں نے تاریخ اور دنیا کے نظام کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ میں نے مرتبے کے اعتبار سے ان سو افراد کی ترتیب دی ہے، جن میں سے ہر ایک نے انسانی تاریخ اور دیگر انسانوں کی روزمرہ زندگی پر اثر ڈالا۔ ان غیر معمولی لوگوں کا گروہ چاہے کتنا ہی نفیس یا قابل ملامت ہو، معروف یا گمنام ہو، تند یا منکسر مزاج ہو۔ یہ دلچسپ ضرور ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو متشکل کیا اور ہماری دنیا کو نئے سرے سے ترتیب دیا‘‘۔ یہ کتاب اپنی اشاعت کے بعد فوراً ایک متنازع کتاب طور پر مشہور ہوئی، خاص طور پر مسیحی اور صیہونی قدامت پرستوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں حضرت محمدﷺ کو پُراثر ترین سو افراد کی فہرست میں اولین درجہ دیا گیا تھا، لیکن پھر مائیکل ہارٹ کے دلائل جن کی بنیاد پر اس نے ان سو افراد کو منتخب کیا اور پھر ان کی تاریخی اعتبار سے درجہ بندی کی، یہ ہر طرح سے اتنے ٹھوس اور مضبوط تھے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے لگی اور دنیا بھر کی زبانوں میں اس کے تراجم کیے گئے۔ مصنف نے اس بات کو تسلیم کیا کہ حضرت محمدﷺ تاریخ کی واحد ہستی ہیں جو مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر کامیاب رہی۔ آپؐ نے دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک کی بنیاد رکھی اور اسے پھیلایا۔ آپؐ ایک انتہائی مؤثر راہنما ثابت ہوئے۔ آج تیرہ سو برس گزرنے کے باوجود ان کے اثرات انسانوں پر ہنوز مسلم اور گہرے ہیں۔ جی ہاں! آج بھی یہود و نصاریٰ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ بلاشبہ آپؐ ہی دنیا کی عظیم ترین ہستی ہیں، جنہوں نے لوگوں کو ایک نئی راہ دکھائی۔ جہالت کے اندھیروں میں روشنی کی شمع آپؐ نے ہی جلائی۔ آپؐ کی سیرت ہمیں کیا سبق سکھلاتی ہے اور ہمارے فعل کیا کسی طرح بھی سیرت نبویؐ کی سمت کی طرف جا رہے ہیں۔ آقا دو جہاںؐ کے خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ کیا تھے۔
’’سن رکھو جاہلیت کے دستور میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘۔
’’عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تم سب آدمؑ کی اولاد ہو، آدمؑ مٹی سے پیدا ہوئے تھے‘‘۔
تمہارے غلام، جو خود کھاؤ وہ ہی ان کو کھلاؤ، جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ‘‘۔
’’میں تم میں ایک چیز چھوڑے جاتا ہوں اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو تم گمراہ نہ ہو گے، وہ ہے اللہ کی کتاب‘‘۔
’’عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو، تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے‘‘۔
بلاشبہ آپؐ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپؐ کی عظیم فتوحات پر لکھنے  والا لکھتا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں عرب فتوحات کے انسانی تاریخ پر اثرات ہنوز موجود ہیں۔ یہ دینی اور دنیاوی اثرات کا ایک ایسا بے نظیر اشتراک ہے جو میرے خیال میں حضرت محمدؐ کو انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ متاثر کن شخصیت کا درجہ دینے کا جواز بنتا ہے۔ جی ہاں! یہ مائیکل ہارٹ کے الفاظ ہیں۔