13 نومبر 2018

لیاقت علی خان سے بھٹو، محمد خان جونیجو اور عمران خان تک لیاقت علی خان سے بھٹو، محمد خان جونیجو اور عمران خان تک

راج تھا جن کا وہ تاراج ہوئے دیکھے ہیں
تاج والے بھی تو محتاج ہوئے دیکھے ہیں
(انور مسعود)
تحریک انصاف کی حکومت نے ’’ون وے‘‘ پر دوڑنا شروع کر دیا ہے۔ فی الحال ون وے صاف ہے، حکومت کی نیت کا فیصلہ وقت کرے گا۔ سینیٹ میں عمران خان کی آمد اور توہین رسالتؐ پر موقف بلکہ دوٹوک موقف نے عاشقان رسولؐ میں اطمینان کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہر دو ہفتے میں سینیٹ میں حاضری کے بیان سے محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کو متحرک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان کی بہت اہمیت ہے کہ اگر ہم نہیں چاہیں گے تو تبدیلی نہیں آئے گی۔ آج میں لکھنا بھی اس پر ہی چاہتا تھا۔
 خان لیاقت علی خان نے اپنی کابینہ کا پہلا وزیر برطرف کیا۔ وزیر کا قصور یہ تھا کہ وہ خود بذریعہ ریل لاہور سے ملتان گئے۔ گاڑی بھی بائی روڈ بھجوا دی۔ نوابزادہ جس نے جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ نہیں پہنا، برہم ہو گئے۔ وزیر موصوف کی خطا کو معاف نہیں کیا تا کہ سب کو ’’کان‘‘ ہو جائیں۔ یہی نوابزادہ جب لیاقت باغ (کمپنی باغ) میں قتل ہوا توایک سوٹ، شیروانی، پاجامہ اور پھٹا ہوا بنیان کل کپڑے تھے۔ سب کچھ ملک پر قربان کر دیا۔ کرنال کا بڑا نواب، ہزاروں مربع زمین میں سے پاکستان آ کر کچھ بھی کلیم نہیں کیا۔ جرابیں بھی پھٹی ہوئی تھیں۔خان لیاقت علی خان بطور وزیراعظم واہ فیکٹری، واہ کینٹ کے مین گیٹ کے افتتاح کیلئے آئے تھے۔ کھلی جیپ میں آئے، قدم نیچے اتارا تو شیروانی کے نیچے پھٹی ہوئی جرابیں نظر آ رہی تھیں۔ پوچھا گیٹ پر کتنی لاگت آئی؟ جواب ملا اڑھائی لاکھ، باہر رکھا ہوا قدم واپس جیپ میں رکھ لیا۔ سر پر ہاتھ مار کر کہا کہ اتنی بڑی رقم سے تو مہاجرین کیلئے ملیشیا آ جانا تھا۔ گیٹ کا افتتاح کیے بغیر واپس چلے گئے۔
ذوالفقار علی بھٹو انٹرکان میں بیٹھے تھے۔ جی ہاں، موجودہ پی سی راولپنڈی، جسے ایک آمر نے کوڑیوں کے بھاؤ خود ساختہ ایماندار سیٹھ کو اقساط میں تحفتاً دے دیا۔ بھٹو صاحب نے جی ایم راؤ ندیم شمشاد کو کہاکہ ان کا ’’چیک‘‘ لے آؤ۔ بھٹو صاحب کی عادت تھی کہ وہ کیش یا چیک دیتے تھے۔ ان کا چیک کبھی باؤنس نہیں ہوا تھا۔ پاس سے گزرتے گورنر سٹیٹ بینک ایس کیو درانی (شہباز شریف کے سسر) نے کہا کہ جناب رہنے دیں، بل میں دے دیتا ہوں۔ بھٹو نے ایک عدد موٹی سی گالی سے انہیں نوازتے ہوئے کہا کہ ’’تم نودولتیے میرا بل دو گے‘‘ میں نسلوں سے نواب ہوں۔ ایس کیو درانی شرمندہ شرمندہ سر جھکائے چلے گئے۔ راؤ ندیم شمشاد نے کہا کہ جناب آپ نے کچھ زیادہ نہیں کر دی، برہم بھٹو نے کہا کہ آج کہتا ہے کہ بل میں دے دیتا ہوں کل دس لوگوں کو بتائے گا کہ بھٹو کا بل تو میں دیتا ہوں۔ راؤ ندیم کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب نے اس روز ویٹرز کو ٹپ بھی پانچ کے بجائے دس ہزار روپے دی۔
محمد خان جونیجو آ گئے۔ ان کے خاندان نے ساڑھے تین سال وزیراعظم ہاؤس میں قدم تک نہیں رکھا۔ وہ  1300 سی سی پر خود آ گئے اور جنرلوں تک کو اسی گاڑی پر لے آئے۔ قومی خزانے سے ایک فالتو پائی کے روادار نہیں تھے۔ اپنے سات وزراء کو کرپشن کے الزامات پر وزارت سے فارغ کیا۔ حاجی سیف اللہ اور چودھری انور عزیز (دانیال کے والد) اسی زد میں آئے۔ایک روز نوجوان اے ڈی سی حامد علی خان کو ضیاء الحق نے بلا بھیجا۔ ضیاء الحق ریس کورس میں ’’گالف‘‘ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ انہوں نے حامد علی خان سے کہا کہ تمہارے  صاحب کس کی بات مانتے ہیں؟ کہا پیر پگارو کی۔ ضیاء الحق نے کہا کہ انہوں نے ہی تو تمہارے صاحب کی شکایت کی ہے۔ وہ پی ڈبلیو ڈی کے ڈی جی کا کیا قصہ ہے۔ حامد علی خان نے بتایا کہ جونیجو صاحب نے تین ہفتے قبل کارساز روڈ پر مجھے صبح صبح بلایا اور کہا کہ حامد بیٹا رات نیند نہیں آئی، ذرا اے 
سی تو مرمت کرا دو۔ میں ہدایات دے کر آ گیا۔ اگلے ہفتے گئے تو وزیراعظم جونیجو نے کہا حامد بیٹا کمال ہو گیا، رات اے سی نے کیا کولنگ کی ہے۔ ذرا اے سی کی مرمت کا بل تو منگوا لو۔ میں کچھ دیر کے بعد جونیجو صاحب کے پاس گیا تو میں نے کہا کہ جناب ذرا سی گڑبڑ ہو گئی ہے۔ اے سی کی مرمت کے بجائے نیا سپلٹ یونٹ لگا دیا گیا ہے۔ محمد خان جونیجو نے گھبرا کر کہاکہ بابا، میں تو نیا سپلٹ یونٹ افورڈ نہیںکر سکتا، میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں ہیں۔ حامد علی خان نے کہا کہ سر ایک دوسری گڑبڑ بھی ہے، سپلٹ یونٹ پی ڈبلیو ڈی والوں نے عباسی شہید ہسپتال سے اتار کر لگوایا ہے۔ محمد خان جونیجو اس پر شدید غصے میں آ گئے اور انہوں نے ڈی جی کو نوکری سے برخاست کر دیا، پیر پگارو نے سفارش کی تو ان کی بات بھی نہیں مانی۔ ضیاء الحق نے مسکراتے ہوئے کہا حامد بیٹا، اس کا مطلب ہے کہ تمہارے صاحب آدمی ٹھیک ہیں مگر پیر پگارو کو میں ناراض نہیں کر سکتا، راستہ بتاؤ؟ حامد خان نے کہا کہ پھر آپ اگلے ہفتے ان سے ملنے سندھڑی ان کے گاؤں جا رہے ہیں، وہیں بات کر لیجئے گا۔ حامد خان کہتے ہیں کہ محمد خان جونیجو بمشکل اس بات پر راضی ہوئے کہ یہ شخص دوبارہ اب زندگی بھر سندھ میں نوکری نہیں کرے گا۔
محمد خان جونیجو کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کا عدم اعتماد سے پہلے کا زمانہ بھی بہترین دور تھا مگر جب اسامہ بن لادن کے 19 ارب روپے نے انٹری ماری تو سب کچھ برباد ہو گیا۔ غلام مصطفیٰ جتوئی کو 72 کروڑ ملے تھے، آٹھ کروڑ ارباب رحیم کو بھی ملے۔ اس نے 7 کروڑ 80 لاکھ جتوئی کو واپس کر دیے۔ ارباب غلام رحیم کا جیکب آباد والا دوست کھوسو ان کی منت کرتا رہا کہ یہ چوری کا مال ہے، لاٹھیوں کے گز ہے، دونوں بھائی لندن چلتے ہیں خوب تفریح کریں گے۔ ارباب رحیم نہیں مانا۔ ان کا دوست ہنستے ہوئے کہتا تھا کہ عدم اعتماد ارباب کی وجہ سے ناکام ہوا۔ اسے ابھی آٹھ کروڑ اور ملنے تھے، وہ گیسٹ ہاؤس میں رات دن پیسے ہی گنتا رہتا تھا۔ بہرحال اس کے بعد ’’زرداری کی فکر‘‘ نے پی پی پی کی حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بزنس مینوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پیسے کا ہونا بہت ضروری ہے۔ 2018ء تک 30 سال میں ’’پیسہ بناؤ 
اور سیاست کرو‘‘ کے اس نظریہ نے وہ تباہی کی داستان رقم کی ہے کہ الامان الحفیظ، الامان الحفیظ۔ آج ایک خاندان جیل میں ہے دوسرا گھیرے میں ہے۔ شنید ہے کہ ’’سب کچھ واپس کرو، جان بخشی کراؤ‘‘ کا فارمولا تیار ہے۔ قوم سے معافی مانگنے کی شرط، شرط اول ہے۔ لندن میں بیٹھی بیان حلفی والی ہستی، سنا ہے تیار ہے۔ جلد ہی پتا چل جائے گا۔ عربی بھائیوں کو یہی پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت کراؤن پرنس کی قومی دولت کی ریکوری والی سوچ سے بہت متاثر ہے، جس کے بعد سفیر کی حالت تو دیدنی تھی کہ سنا ہے کہ کراؤن پرنس نے اسے بہت ’’انجوائے‘‘ کیا ہے۔
اس پوری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ تین روز سے وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے تین مختلف چیزیں سامنے آئی ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں ان کی تصاویر، اس کے بعد حکومت پنجاب کے خصوصی جہاز میں ان کی فیملی کے ساتھ تصاویر۔ اب ڈی پی او پاکپتن رضوان عمر گوندل کے تبادلے کی جو وجوہات سامنے آ رہی ہیں وہ لمحہ فکریہ ہیں۔
عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اندرون ملک خصوصی جہاز استعمال نہیں کریں گے، ان کا وزیراعلیٰ پھر کس سمت جا رہا ہے۔ ابھی تو ابتدا ہے، انہیں اپنا ڈسپلن سخت کرنا ہو گا۔ ڈی پی او کے حوالے سے جو مبینہ الزامات آ رہے ہیں کہ خاور مانیکا سے معافی نہ مانگنے پر ان کا ٹرانسفر کیا گیا، بہت الارمنگ ہیں۔ اس کی وضاحت ضروری ہے۔ میں نے بہت سے واقعات بطور آئینہ اور رہنمائی قلم بند کر دیے ہیں۔ اعتراضات بتا دیے ہیں۔ امید ہے اگر کچھ غلط ہوا ہے تو وہ محاسبہ کریں گے۔ ہم کسی بیڈ کے پراپیگنڈہ کا حصہ نہیں ہیں مگر بیڈ گورننس بھی نہیں چاہتے۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرعام رکھ دیا