13 اگست 2020

لوڈشیڈنگ کے تابوت میں آخری کیل لوڈشیڈنگ کے تابوت میں آخری کیل

گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے چین کی توانائی کمپنی چائنہ انجینئرنگ کارپوریشن کے ساتھ 1263 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کی تنصیب کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ اس طرح 2017 کے آخر اور 2018 کے شروع میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے عزم کی تکمیل ہونے جارہی ہے۔ یقیناً یہ امر ملک و قوم کے لیے کسی خوش خبری سے کم نہیں ہے۔ اس پر حکومت کی جتنی توصیف کی جائے کم ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں شروع کردہ بجلی منصوبوں میں سے متعدد نے پہلے ہی نیشنل گرڈ میں بجلی دینا شروع کردی ہے، جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ قریباً مرجھا چکی اور آخری سانسیں لے رہی ہے۔ گھنٹوں لوڈشیڈنگ کا شکار رہنے والی صنعت اب مسلسل چلنے لگی اور مارکیٹوں و دُکانوں پر دستی پنکھوں پر انحصار لگ بھگ ختم ہوچکا ہے۔ حالیہ معاہدے کے مطابق جھنگ میں قائم ہونے والا گیس پاور پروجیکٹ لوڈشیڈنگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ اس معاہدے کی تکمیل میں پنجاب اسپیڈ کا شاندار اظہار اس طرح ہوگا کہ پہلے 14 ماہ میں پروجیکٹ سے 810 میگاواٹ بجلی ملنا شروع ہوجائے گی جب کہ 26 ماہ کی مدت میں پروجیکٹ مکمل ہوکر 1263 میگاواٹ بجلی دے گا۔ بتایا گیا ہے کہ گیس سے حاصل ہونے والی بجلی تمام تھرمل منصوبوں سے کافی سستی ہوگی۔ 
جھنگ پاور پروجیکٹ شروع کرنے پر پنجاب کے کاروباری طبقے نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو مبارک باد دی ہے۔ اس لیے کہ سستی اور وافر بجلی ملنے سے سرمایہ کاری اور صنعت کاری کو فروع ملے گا۔ ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ دیکھا جائے تو 2013 میں نواز شریف کے اقتدار میں آنے سے قبل ملک کو دو خوف ناک چیلنج درپیش تھے۔ پہلا چیلنج دہشت گردی کا تھا، جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات پاکستان کا رخ کرنے سے کتراتے تھے۔ میاں محمد نواز شریف نے تدبر اور جرأت مندانہ اقدامات کے سلسلے میں پاک فوج کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑی اور ملک میں کافی حد تک امن قائم ہوا۔ بجلی بحران ایک عشرے سے زائد عرصے سے وطن عزیز کو لاحق ہے اور اس کا چٹکی بجاکر حل نہیں نکل سکتا تھا، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے 2013 کے بعد حکومت نے جو اقدامات کیے وہ لائق تحسین ہیں۔ اُس نے اس کے لیے ہر ممکن اقدام کو کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لیے قیادت نے دوست ملکوں کے اشتراک و تعاون سے بجلی کے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ سب سے بڑا کام یہ کیا کہ چین کے ساتھ مل کر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کام شروع کیا، جس کے لیے چین نے گراں قدر سرمایہ فراہم کردیا۔ سی پیک کے تحت بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو خوش آئند امر ہے اور  اُمید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ وقتوں میں ان منصوبوں کی بدولت ناصرف وافر بلکہ انتہائی ارزاں نرخوں پر عوام کو بجلی میسر ہوگی۔ 
2013 سے قبل ایک وقت تھا کہ جب چین کا ایک تجارتی وفد بھارت گیا، جہاں اسے بتایا گیا کہ پاکستان جانے اور اس کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے کہ پاکستان میں بجلی کا شدید بحران ہے۔ صنعت اور کاروبار کے لیے بجلی ناپید ہے۔ اسی قسم کے اور بھی وطن عزیز کے خلاف بھارت نے پروپیگنڈے کیے، لیکن نامُرادی ہی اُس کے ہاتھ آئی، کیوںکہ موجودہ حکومت نے صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے بھارت کے سازشی منصوبوں اور خوش فہمیوں پر پانی پھیرنے کے لیے دھڑا دھڑ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کیا۔ اس سے سب سے زیادہ تکلیف بھارتی حکمرانوں کو ہوئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سی پیک اور پاکستان کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے متعلق اب بھی سخت مخالفانہ پروپیگنڈا جاری رکھا ہوا ہے۔ بجلی کے منصوبوں پر کام اسی رفتار سے جاری رہا تو بہت جلد بھارتی حکمرانوں کو ایسی خبر بھی سننا پڑے گی کہ پاکستان دوسرے ملکوں کو بجلی برآمد کررہا ہے۔ 
بدقسمتی کی بات ہے کہ وطن عزیز کے اندر بعض سیاست دان مختلف حیلے بہانوں سے ملک میں افراتفری، خلفشار اور مقدمے بازیوں کے ذریعے بجلی کے منصوبوں اور سی پیک کی تعمیر میں تعطل پیدا کرکے بھارت کے انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کی سازشوں کو تقویت دے رہے ہیں۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ سیاست دانوں کی پیدا کردہ تمام ناہمواریوں اور مشکلات کو عبور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے چین کی انجینئرنگ کارپوریشن کے اشتراک و تعاون سے جھنگ پاور پروجیکٹ پر دستخط اور 26 ماہ کے قلیل عرصے میں اسے مکمل کرنے کے عزم کا اعلان کردیا ہے۔ موجودہ حالات کے پس منظر میں قلیل مدت میں گیس پاور پروجیکٹ سے بجلی دینے کا اعلان پہاڑ کا سینہ چیر کر جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سازشوں سے بچائے۔ تمام سیاست دانوں کی سوچ کو عوام کی امنگوں کے سانچے میں ڈھالے۔ موجودہ قیادت کے شروع کردہ خوش حالی منصوبے، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور عوام کی خوشیوں کو دوبالا کرسکیں۔ ملک کے ہر شہری کو روزگار اور اس کے بچوں کو علاج معالجہ اور تعلیم کی سہولت میسر آئے۔ (آمین)