لالہ دونی چند اور فساداتِ سہارنپور لالہ دونی چند اور فساداتِ سہارنپور

(16 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
 بندےؔ ماترم لکھتا ہے کہ اسی تقریر میں لالہ دونی چند جی نے یہ بھی فرمایا کہ زمیندارؔ اور دوسرے اسلامی اخبارات نے مجھے گالیاں دینے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ لالہ جی بار بار غلط بیانیوں سے کام لے رہے ہیں اور اسلامی جراید پر تہمتیں باندھ رہے ہیں۔ اگر ہم ان سے عرض کریں کہ ہماری تحریرات میں سے ’’گالیوں‘‘ کا کوئی ثبوت پیش فرمایئے تو انہیں اس الزام تراشی پر کیسی افسوسناک پشیمانی ہو۔ یہ صحیح ہے کہ ہم ان کے بیان کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے اور ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ وہ بیان یکطرفہ ہے لیکن محض یہ کہہ دینا قطعاً گالی نہیںہے۔ پھر معلوم نہیں کہ لالہ دونی چند جی نے ہم پر ایسی تہمت باندھنے کی جرأت کیوں کی؟
فسادات سہارنپور کے متعلق ہمارے نامہ نگار خصوصی کی روداد مکمل ہو چکی ہے اور اس نے برقی پیغام کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ میں مفصل روداد بھیج رہا ہوں۔ انشاء اللہ ہم ایک دو روز میں اسے شایع کر سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تشدد کی بجلیاں
بہادر اور اولوالعزم اکالیوں پر
’’یوم نابھہ‘‘ کے سلسلے میں مختلف ریاستوں کے ارباب اقتدار نے بہادر اور اولوالعزم اکالیوں پر جو شدید مظالم روا رکھے ان کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ نابھہ، جیتوں، پٹیالہ، سرہند، بھوانی گڑھ، برنالہ، جیند اور دیگر مقامات پر صدہا سکھ بے قصور و بے گناہ گرفتار کر لئے گئے ہیں جن کی خطا اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ نہایت پرامن طریق سے دیوان منعقد کرنا اور گوردواروں میں جا کر اپنے مذہبی فرایض بجا لانا چاہتے تھے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ حکومت پنجاب نے اپنے علاقے کے کسی شہر یا قصبے میں اکالیوں کے جلوسوں اور مظاہروں کی مزاحمت نہیں کی اور ایک اکالی کو بھی گرفتار نہیں کیا لیکن اب تک جتنی ریاستوں سے ’’یوم نابھہ‘‘ کے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی ریاستوں کے کارپردازوں نے اپنی فوج اور پولیس کے ذریعے سے اکالیوں کے پرامن مظاہروں کو روکا، دیوانوں کے انعقاد میں خلل انداز ہوئے، بے قصور لوگوں کو گرفتار کیا اور اب ان پر مقدمات چلانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔
گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی ہدایات کے ماتحت مختلف گوردواروں کو نفس پرست مہتوں کے اثر سے آزاد کرانے کیلئے اور ’’گورو کے باغ‘‘ کو پنتھ کی ملکیت بنانے کیلئے ہمارے سرفروش اکالی بھائی جس عدیم المثال شجاعت اور بردباری کا ثبوت دے چکے ہیں ان کی یاد اب تک اہل ہند کے دلوں میں تازہ ہے۔ 9 ستمبر کے ’’یوم نابھہ‘‘ میں بھی ان حضرات نے بعض مقامات پر مذہبی جوش و استغراق کے نہایت دلفریب مناظر پیش کئے ہیں۔ نابھہ میں جب مسٹر ولسن جانسٹن نے اکالیوں کے جلوس کو روکا تو اکالی زمین پرتمازتِ آفتاب میں بیٹھ گئے اور نہایت پریم اور انہماک کے ساتھ شبد گاتے رہے۔ جب حکام نے انہیں منتشر ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے اس کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ بالآخر موٹر لاریاں لائی گئیں اور پولیس نے ان بہادروں کو اٹھا اٹھاکر ان میں بھرنا شروع کر دیا۔
اکالیوں کے دو جتھے نابھہ کے نواحی دیہات میں سے نابھہ کی طرف آ رہے تھے کہ شہر کے دروازے پر روک دیئے گئے۔ چنانچہ وہ شہر پناہ سے باہر ہی بیٹھ گئے اور صبح کی دعا پڑھنی شروع کر دی۔ پولیس نے ان کے جتھے دار کو گرفتار کر کے انہیں منتشر ہو جانے کاحکم دیا لیکن ضابطہ و تنظیم کے بندھے ہوئے بہادروں نے کہاکہ جب تک شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی حکم نہ دے ہم یہاں سے ہرگز نہیں اٹھ سکتے۔ چنانچہ جو شخص اس واقعہ کا پیغام شرومنی کمیٹی کے پاس لے کر گیا تھا اس کو کمیٹی نے نابھہ میں واپس بھیج دیا اور ان اولوالعزموں کو کہلا بھیجا کہ شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی جتھے کی استقامتِ ایمانی کو بنظر استحسان دیکھتی ہے اور ان سے استدعا کرتی ہے کہ وہ اب اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں کیونکہ ان کا فرض ادا ہو چکا۔ بھوانی گڑھ اور جیند کے بہادروں کو بھی یہی پیغام بھیجا گیا ہے۔
مقام برنالہ سے چار میل دور ایک گوردوارہ ہے اس میں بے شمار اکالی مجتمع تھے۔ جب وہ جلوس بنا کر باہر نکلے پولیس نے ان کے جتھے دار کو اور پانچ دیگر سکھوں کو گرفتار کرلیا۔ اس پر باقی اکالیوں نے کہہ دیا کہ ہم اپنے جتھے دار سے الگ نہیں ہو سکتے چنانچہ ڈھائی سو اکالی وہی گرفتار کر لئے گئے اور پولیس انہیں برنالہ کو لے گئی۔ جب سکھ عورتوں نے دیکھا کہ مردوں کے گرفتار ہو جانے سے جلوس نہ نکلے گا تو انہوں نے عورتوں کا جلوس مرتب کیا اور شبد گاتی ہوئی برنالہ کے گلی کوچوں سے گزریں۔ سکھ مردوں میں عورتوں کے اس جوش و خروش کو دیکھ کر ولولہ حیات کی ایک لہر دوڑ گئی، انہوں نے نہایت شان و شوکت کا ایک جلوس نکالا اور پنتھ کی لاج رکھ لی۔
جس قوم کے افراد میں اس قسم کی روح حیات کام کر رہی ہو اسے کون پامال کر سکتا ہے؟ حکومت یہ تجربہ کر چکی ہے اور ریاستیں کر رہی ہیں۔ حکومت نے عملاً عجز کا اظہار کیا ہے اور ریاستوں کو بھی یہی کرنا پڑے گا۔ کیا مسٹر اوگلوی، مسٹر جانسٹن اور سردار نرائن سنگھ ناظم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جبر و تشدد سے نابھہ کی موجودہ صورت حالات میں کوئی اصلاح کر لیں گے؟ اگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو ہمیں ان پر رحم آتا ہے۔ تشدد نہ کبھی پہلے کامیاب ہوا ہے نہ آیندہ ہو گا۔ اگر ’’یوم نابھہ‘‘ کا مظاہرہ چپ چاپ ہونے دیا جاتا اور اکالیوں کی آزادی پر دستِ مزاحمت دراز نہ کیا جاتا تو ان میں اتنا جوش نہ پھیلتا جتنا آج پھیل رہا ہے۔    (جاری ہے)