16 نومبر 2018
تازہ ترین

قیام پاکستان پر ہندو کی مسلم دشمنی قیام پاکستان پر ہندو کی مسلم دشمنی

18 جولائی 1947ء کو برطانوی پارلیمنٹ نے قانون آزادی ہند منظور کر لیا تھا۔ اس سے پہلے آخری وائسرائے ہند لارڈ لوئی مونٹ بیٹن نے 3 جون کے اعلان میں 15 اگست 1947ء آزادی کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس نے یہ تاریخ 15 اگست 1945ء کی مناسبت سے مقرر کی تھی جب جاپانیوں نے اس کے آگے ہتھیار ڈالے تھے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ (NWFP) میں ریفرنڈم کا فیصلہ بہت بھاری اکثریت سے پاکستان کے حق میں آ چکا تھا۔ لیکن وہاں بدستور سرخ پوشوں اور کانگرسیوں کی مخلوط حکومت تھی جس کے سربراہ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب (عبدالجبار خاں) تھے۔ کانگرس کو صوبہ سرحد کو پاکستان سے الگ رکھنے میں سخت ناکامی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود لاہور کے ایک ہندو مہاسبھائی اخبار نے لکھا: ’’صوبہ سرحد کی حالت اس جوالا مکھی کی سی ہے جس کے پھٹنے کا ہر وقت ڈر ہو۔ 15 اگست کو جب انگریزی راج ختم ہو جائے گا تو صوبہ سرحد کی آزادی کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 15 اگست کے بعد سرخ پوشوں اور مسلم لیگیوں میں کھلم کھلا ٹکرائو ہو گا۔ مسٹر جناح کی ضد صوبہ سرحد میں بھی خون خرابہ کرائے گی۔‘‘
اس پر 3 اگست کو مدیر نوائے وقت نے اداریے میں گرفت کرتے ہوئے لکھا: ’’صوبہ سرحد کے معاملے میں مسٹر جناح کو ضدی کہنا صحافتی بے حیائی کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جو صرف لاہور کے مہاسبھائی اخبار ہی کر سکتے ہیں۔ اس اخبار نے ڈاکٹر (خان) صاحب کو یہ اشتعال دلایا ہے کہ استصواب (ریفرنڈم) محض ڈھونگ تھا، لہٰذا انہیں 15 اگست کو صوبہ سرحد میں اپنی (آزاد) حکومت قائم کر دینی چاہیے۔ معمولی عقل کا مسلمان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مہاسبھائیوں کے اس مشورے کی تہہ میں کیا گھنائونی اغراض پوشیدہ ہیں۔‘‘ اداریے میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’صوبہ سرحد استصواب عامہ کے بعد پاکستان میں شامل ہو چکا ہے۔ اس صوبے کے نئے گورنر کا بھی طے شدہ امر ہے۔ وزارت سرحد کی زندگی صرف چند روز ہے۔ ڈاکٹر خان صاحب کو جمہوری اصولوں کا پاس ہوتا تو وہ خود وزارت سے مستعفی ہو جاتے مگر وہ اپنی ضد پر قائم ہیں‘‘۔
5 اگست کو مغربی پنجاب کی مسلم لیگی پارلیمانی پارٹی نے نواب افتخار حسین ممدوٹ کا نام بطور وزیراعلیٰ منتخب کر لیا جبکہ راجہ غضنفر علی خان نے اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ ادھر مشرقی پنجاب (بھارت) میں گوپی چند بھارگوا وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔ متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعظم خضر حیات ٹوانہ مسلم لیگی ایجی ٹیشن کے بعد 3 مارچ 1947ء کو مستعفی ہو گئے تھے اور تب سے یہاں گورنر راج تھا۔ تب صوبائی سربراہ وزیراعظم کہلاتا تھا۔
ایک طرف ہندو اخبار’’صوبہ سرحد میں آزادی کا اعلان‘‘ ہونے کی امید باندھے ہوئے تھے۔ دوسری طرف کانگرس کا صدر اچاریہ کرپلانی پاکستان کے ہندوئوں کو یہ حکم دے رہا تھا کہ وہ 15 اگست کو اپنے ملک میں تقریب آزادی میں حصہ نہ لیں۔ گویا ہندو اقلیت کو اول روز ہی سے حکومت پاکستان کیخلاف عدم وفاداری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی جا رہی تھی۔ کرپلانی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’اقلیت کو اکثریت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ مٹھی بھر مرہٹوں نے مغل سلطنت کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے‘‘۔ اس پر حمید نظامی مرحوم نے صدر کانگرس کی خبر لیتے ہوئے9 اگست کے اداریے میں لکھا: ’’انہیں معلوم نہیں کہ پاکستان کی تیسری لڑائی میں جس طاقت نے مرہٹوں کے بخیے ادھیڑے تھے کہ اب تک سیے ہی نہیں جا سکے وہ (مسلم) اقلیت ہی تھی۔ اچاریہ جی کے مولد سندھ کو فتح کرنے والا سترہ سالہ مسلمان نوجوان بھی ایک حقیر اقلیت کے ساتھ ان کے آبائو اجداد پر حملہ آور ہوا تھا۔ علاء الدین خلجی بھی اقلیت ہی کا ایک سردار تھا (جو فاتح دکن کہلایا)‘‘۔ کرپلانی نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی تھی کہ ’’ہندوستان ایک ہے، کوئی اسے تقسیم نہیں کر سکتا، اگر پاکستان نے پاسپورٹ کی پابندیاں عائد کیں تو میں ستیہ گرہ کروں گا‘‘۔ اس پر حمید نظامی مرحوم کو لکھنا پڑا: ’’اچاریہ جی ستیہ گرہ کریں گے تو پاکستانی پولیس انہیں ایک رات حوالات میں رکھے گی اور دوسرے دن ہندوستان کی یہ لعنت ہندوستان ہی کو واپس بھیج دے گی‘‘۔ 
17 اگست کے نوائے وقت کے اداریے کا عنوان تھا: ’’امرتسر سے سبق‘‘ اس میں اطلاع دی گئی تھی کہ ’’اگست کو لاہور کی فرقہ وارانہ حالت خراب ہو گئی اور پریس کے بند ہو جانے کی وجہ سے ہم پانچ دن اخبار شائع نہ کر سکے۔ اس مختصر وقفہ میں ملک میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے۔ پنجاب میں لیگ وزارت قائم ہو گئی، ہندوستان آزاد ہو گیا اور پاکستان کی آزاد خود مختار سلطنت جو صرف چند ماہ پہلے شاعر کا خواب سمجھی جاتی تھی، معرض آزاد ہو گیا اور پاکستان کی آزاد خود مختار سلطنت جو صرف چند ماہ پہلے شاعر کا خواب سمجھی جاتی تھی، معرض وجود میں آ گئی مگر ہمارے نزدیک سب سے زیادہ توجہ طلب سانحہ امرتسر کی تباہی ہے۔ پنجاب میں مسلمانوں کے اس دوسرے بڑے شہر میں یہ قتل عظیم پنجاب میں سکھا شاہی کے بعد پوری ایک صدی کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ امرتسر پر جو قیامت گزر گئی ہو، اس کی تفاصیل اخبارات میں شائع نہیں ہوئیں۔ خبر رساں اداروں اور آل انڈیا ریڈیو نے اس معاملے میں افسوسناک بددیانتی سے کام لیا۔ جو خبریں دوسرے ذرائع سے لاہور پہنچیں وہ سنسر کی پابندیوں کے باعث شائع نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس لاہور میں جو ہنگامہ ہوا، باوجودیکہ وہ امرتسر کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا، خبر رساں ایجنسیوں اور آل انڈیا ریڈیو نے اس کی خوب تشہیر کی اور اخبارات نے بھی اسے زیب عنوان بنایا۔‘‘ (اس دوران میں شاہ عالم مارکیٹ لاہور جس پر ہندو سیٹھ قابض تھے، فسادات امرتسر وغیرہ کے ردعمل میں جلا دی گئی تھی)۔
’’نوائے وقت‘‘ (لاہور) نے امرتسر کے وحشیانہ قتل عام کی کچھ تفصیل یوں دی: ’’امرتسر میں بے گناہ، مردوں، عورتوں اور بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا گیا۔ امرتسر کے غیور مجاہد چھ ماہ سے حیرت انگیز بہادری اور استقلال کے ساتھ اپنی انفرادی عزت اور قومی آبرو کو بچا رہے تھے۔ انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں منظم غنڈہ گردی کا مقابلہ کیا اور اسے ناکام بنایا مگر (اعلان آزادی کے ساتھ ہی) یکایک ایسا پانسا پلٹا کہ وہ بے بس و  مجبور ہو کر رہ گئے اور غنڈوں کے منظم اور مسلح گروہوں نے ان پر وحشیانہ مظالم ڈھائے۔ جب پوری سرکاری مشینری، فوج اور پولیس سمیت، غنڈوں کی پشت پر ہو تو مسلمانوں کے لئے اس کا مقابلہ ناممکن تھا۔ امرتسر مسلمانوں کیلئے وارننگ ہے، امرتسر کی تاریخ، جالندھر، ہوشیار پور، لدھیانہ میں بھی دہرائی جا سکتی ہے۔ جالندھر اور ہوشیار پور سے جو رپورٹیں آ رہی ہیں وہ بے حد تشویشناک ہیں اور اگر فوری تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو ان اضلاع کے مسلمانوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘ (حمید نظامی مرحوم کا خدشہ درست نکلا اور امرتسر کے بعد مشرقی پنجاب کے دیگر شہروں، قصبوں اور دیہات میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا)۔ 
پھر 27 اگست 1947ء کے اداریہ (نوائے وقت) میں لکھا گیا: ’’مشرقی پنجاب میں حکومت کا نظام معطل ہے، وزیراعظم ڈاکٹر گوپی چند بھارگوا اپنے صوبے میں قیام امن کے خواہاں نہیں۔ صوبے میں اس وقت کوئی ایسی حکومت نہیں جسے کسی مہذب سوسائٹی میں حکومت کے نام سے یاد کیا جا سکے۔ غنڈے اس صوبے میں راج کر رہے… مسلمانوں اور قائداعظم کے سامنے اس وقت سب سے اہم مسئلہ مشرقی پنجاب کے لاکھوں مسلمانوں کی جانیں بچانے کا ہے۔ کم از کم ڈیڑھ لاکھ مسلمان مشرقی پنجاب میں شہید کیے جا چکے ہیں اور جو زندہ بچ گئے ہیں ان کی حالت مردوں سے بدتر ہے۔ غنڈوں نے ان کے مکانات جلا دیے اور مال و اسباب لوٹ لیے۔ جو لوگ جان بچا کر بھاگ نکلے، وہ صرف تن کے کپڑے ساتھ لا سکے ہیں اور ابھی لاکھوں مسلمان مشرقی پنجاب ہی میں بعض کیمپوں اور مسلم مراکز میں پناہ گزین ہیں، سب سے اہم مسئلہ ان مظلومین کو بچانا ہے!‘‘
بقیہ: حقیقت حال