15 نومبر 2018
تازہ ترین

 قوم پرستی کا ہیرو قوم پرستی کا ہیرو

تاریخ میں اب تک یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا عظیم شخصیتیں تاریخ کے عمل کو آگے بڑھاتی ہیں یا سماجی قوتیں اس کی تشکیل کرتی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مذہبی شخصیتیں تاریخ ساز تھیں۔ عوام میں ان کے لیے عزت و احترام کے جذبات تھے اور وہ ان کے مزاروں کی زیارت کر کے روحانی تسکین پاتے تھے۔ یہ فکر یورپ میں اس وقت بدلی جب وہاں روشن خیالی کا زمانہ آیا اور یورپی مفکرین نے عقل اور دلیل کی روشنی میں خیالات و افکار اور انسانی رویوں کا تجزیہ کرنا شروع کیا۔ عظیم شخصیتوں کے بارے میں اس وقت خیالات بدلے جب فرانسیسی انقلاب کے بعد قومی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی قومی ہیرو پیدا ہوئے جنہوں نے سماجی اور سیاسی طور پر قوم اور ریاست کی تشکیل میں حصہ لیا تھا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں ایشیا اور افریقا کے ملکوں کو ایسے ہیروز کی ضرورت تھی جنہوں نے ماضی میں حملہ آوروں سے مقابلہ کیا ہو اور قوم کے دشمنوں پر فتح پائی ہو۔ یہ ضرورت اس لیے تھی کہ کیونکہ ایشیا اور افریقا کے ممالک یورپی سامراج میں جکڑے ہوئے تھے، لہٰذا تاریخ سے تلاش کر کے ہیروز کو سامنے لایا گیا تا کہ ان کے نقش قدم پر چل کر آزادی کی جدوجہد کی جائے اور یہ بھی ثابت کیا جائے کہ سامراج سے نجات پانے کے لیے ان کی جدوجہد کی جڑیں ان کی تاریخ میں موجود ہیں۔ ویلن پیٹر (WILEN PETER) نے اپنی کتاب (Arab Nationalism the Policies of history and culture in the modern middle east-2018) میں عرب قوم پرستی کی ابتدا کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی ابتدا بیسویں صدی میں عثمانی خلافت کے خلاف شروع ہو چکی تھی، اگرچہ عثمانی خلافت مذہبی طور پر عرب ممالک کو متحد کیے ہوئے تھی، مگر عربوں میں اپنی شناخت کا احساس ابھر چکا تھا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اسلامی خلافت سے آزاد ہو کر اپنی علیحدہ ریاستیں قائم کرنی چاہئیں، لیکن 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے بعد عثمانی خلافت کا خاتمہ ہو گیا اور مشرق وسطیٰ میں نئی سیاسی تبدیلیاں آئیں۔ انگلستان اور فرانس نے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا اور اسرائیل کی ریاست کو فلسطین میں قائم کیا، جہاں سے فلسطینیوں کو وطن سے باہر نکالا گیا اور ان کا قتل عام کیا گیا۔ یہ وہ صورتحال تھی کہ جس میں ایک ایسے ہیرو کی تلاش تھی جس نے ماضی میں مشرق وسطیٰ کو دشمنوں سے نجات دلائی ہو اور سیاسی تسلط کو قائم کیا ہو۔ یہ شخصیت صلاح الدین ایوبی کی تھی جس کا مزار دمشق میں ہے اور جب فرانسیسی جنرل نے دمشق پر قبضہ کیا تو اس نے صلاح الدین کی قبر پر جا کر کہا کہ صلاح الدین ہم دوبارہ سے واپس آ گئے ہیں۔
بیسویں صدی میں مشرق وسطیٰ کی جو سیاسی صورتحال تھی اگر اس کا موازنہ صلیبی جنگوں سے کیا جائے تو اس میں بہت سی باتیں مشترک نظر آتی ہیں۔ صلیبی جنگوں کا آغاز گیارھویں صدی میں ہوا۔ جب جوش و جنون کے ساتھ یورپ کے حکمران اور فوجی یکے بعد دیگرے مشرق وسطیٰ پر حملہ آور ہوئے تاکہ مقدس مقامات کو مسلمانوں سے چھڑایا جائے، کیونکہ مسلمان سیاسی طور پر کمزور تھے اس لیے انہیں شکست دے نا صرف مشرق وسطیٰ کے ایک علاقے پر قابض ہو گئے بلکہ یروشلم کی فتح کے بعد وہاں بسنے والے مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلمان حکمران بے بس نظر آتے تھے۔ اس بحران میں جب صلاح الدین ایوبی مصر کا حکمران بنا (R.1174-1194) تو اس نے نا صرف صلیبیوں کو شکستیں دیں بلکہ یروشلم کو بھی ان سے آزاد کرایا۔ صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کی، بلکہ انہیں اجازت دے دی کہ معہ اپنے مال و اسباب کے یروشلم سے چلے جائیں، لہٰذا تاریخ میں صلاح الدین ایوبی نا صرف ایک فاتح کے طور پر مشہور ہے بلکہ اس کی فیاضی اور دریا دلی سے اہل یورپ بھی متاثر ہوئے۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات میں صلاح الدین ایوبی کا کردار مسائل کے حل کی جانب توجہ دلاتا تھا، لہٰذا لوگوں میں اس کے کارناموں اور اس کی فتوحات کے بارے میں پوری طرح سے تشہیر کی گئی۔ ناول اور افسانے لکھے گئے۔ ڈراموں اور فلموں میں اس کی کامیابیوں کو ابھارا گیا، اخباروں اور رسالوں میں اس کے بارے میں کہانیاں چھاپی گئیں، جس کی وجہ سے عرب عوام میں یہ امید پیدا ہوئی کہ جس طرح صلاح الدین ایوبی نے قرون وسطیٰ میں مسلمانوں کو صلیبیوں سے نجات دلائی تھی اور یروشلم کو ان کے قبضے سے نکالا تھا، ایک بار پھر ایسے ہی ہیرو کی ضرورت ہے جو اسرائیل کو شکست دے۔ یروشلم کو آزاد کرائے، یورپی سامراج سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو چھٹکارا دلائے۔
عرب قوم پرستی کی یہ لہر بہت تیزی سے اُبھری اور خاص طور سے جب جمال عبدالناصر کا انقلاب آیا اور عرب اتحاد کی کوششیں ہوئیں تو لوگوں کو ایک بار پھر صلاح الدین ایوبی کی یاد آئی کہ جس نے مشکلات پر قابو پا کر مسلمانوں کو بحران سے نکالا تھا۔ بدقسمتی سے یہ خواہشات اور امیدیں اس وقت دم توڑ گئیں، جب 1967ء میں عرب ملکوں کو اسرائیل کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہوا اور مشرقی یروشلم جو اب تک اُردن کے قبضے میں تھا، اس پر بھی اسرائیل کا تسلط ہوا اور فلسطین کے مغربی کنارے پر اسرائیل نے فلسطینیوں کو نکال کر وہاں اپنی بستیاں آباد کرنا شروع کیں۔ اس صورتحال میں بہت سے عرب سیاستدانوں کی یہ سوچ کہ جس طرح ماضی میں ڈیڑھ سو سال کے بعد مشرق وسطیٰ سے صلیبیوں کو نکال دیا تھا، مستقبل میں اسرائیل کو بھی فلسطین چھوڑنا پڑے گا، لیکن جس طرح اسرائیل اپنی سیاسی قوت کو مضبوط کر رہا ہے اور عرب ممالک اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں ضروری نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دوہرائے۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی کے ہیروز اور فاتحین کو دوبارہ سے موجودہ عہد میں واپس لا کر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر کوئی نیا ہیرو پیدا ہو گا اور وہ حالات پر قابو پائے گا۔ اس کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی امیدیں اور خواہشات بڑھ جاتی ہیں اور وہ اپنے عہد میں کئی نئے ہیرو کو تلاش کرتے ہیں، جیسے مشرق وسطیٰ میں یہ کبھی جمال ناصر کی شکل میں نظر آیا، کبھی حافظ اسد کی اور کبھی صدام حسین کی، لیکن یہ تمام توقعات ایک ایک کر کے ختم ہو گئیں۔ کیونکہ تاریخ خود کو دوہراتی نہیں ہے، اس کے لیے معاشرے کو تبدیل ہو کر اپنے اندر کی قوتوں کو ابھارنا ہوتا ہے۔ ہم پاکستان میں بھی اسی ذہن کو پاتے ہیں اور ہر نئے آمر کو صلاح الدین ایوبی کی شکل میں دیکھ کر امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بگڑتے حالات کو ٹھیک کرے گا، لہٰذا تاریخ کو بنانے کے لیے افراد پر بھروسہ کرنے کے بجائے معاشرے کو اپنی توانائی سے مسائل پر قابو پانا ہو گا۔