19 نومبر 2018

قوم میں صبر کا فقدان قوم میں صبر کا فقدان

پاکستانی قوم میں شاید صبر کا فقدان ہے، ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم بلاوجہ اور خوامخواہ کی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی بھی کام کو مکمل ہونے میں وقت لگتا ہے۔ کسی کے پاس الٰہ دین کا چراغ یا جادو کی چھڑی نہیں ہوتی، کہ چراغ کو رگڑتے یا چھڑی ہلاتے ساتھ ہی دنیا یکسر بدل جائے۔ عمران خان کی نئی حکومت کو ابھی 17 دن ہی ہوئے ہیں اور رائی کا پہاڑ بنایا جانے لگا۔ امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان ہو، گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کا معاملہ یا پھر ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کا مسئلہ۔ ہر بات پر تنقید اور وہ بھی بلاسوچے سمجھے۔ معروضی حالات کو پیش نظر رکھنا تو ہمیں آتا ہی نہیں، عمران اور ان کی نوزائیدہ حکومت نے ملک کو احترام بخشا ہے، جو عرصۂ دراز سے غائب تھا، 4 سال تو ہم وزیر خارجہ جیسے اہم معاملے کو نظرانداز کرتے رہے، پھر خواجہ آصف کو چند دنوںکے لیے عہدہ بخشا گیا۔ انہوں نے قلیل مدت میں کئی ایک اچھے کام کیے اور اب تو یہ خلیج بھی پُر کر دی گئی۔ شاہ محمود قریشی نے شروع میں قوم کو ذہن نشین کرا دیا تھا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے دفتر میں بنے گی۔ اس سے کچھ زیادہ ہی دیکھنے میں آیا۔ قومی عزت اور احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے، امریکی وزیر خارجہ (یا سیکریٹری آف اسٹیٹ کہہ لیں) کا خیرمقدم اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ایڈیشنل فارن سیکریٹری نے کیا۔ یہی طریقہ مغربی ملکوں میں رائج ہے، مائیک پومپیو جب وزراتِ خارجہ پہنچے تو شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کے ساتھ 40 منٹ تک بات چیت رہی، جس میں جن افراد کو شرکت کرنا تھی، انہوں نے کی۔ ملک عزیز کو احترام دیا گیا۔ بعد میں مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں عمران خان نے صاف طور پر امریکا پر واضح کر دیا کہ دونوں ملکوں میں برابری کی سطح پر تعلقات ہوں گے۔ ہمیشہ کی طرح پاکستان پر زبردستی کا بوجھ نہ ڈالا جائے جیسا کہ پہلے ہوتا رہا ہے۔
مشرف دور میں اس وقت کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کولن پاول نے رات کے تین بجے فون پر مشرف سے پوچھا کہ افغانستان کی پالیسی میں پاکستان امریکا کے ساتھ ہے یا نہیں۔ سابق صدر کو چاہیے تو یہ تھا، وہ کہتے کہ حضور میں کل اپنے رفقائے کار سے صلح مشورہ کر کے جواب دوں گا۔ 20/22 گھنٹے کی ملاقات کوئی بڑی بات نہ تھی، لیکن مشرف نے اس ڈر سے کہ کہیں امریکا انہیں بھٹو کی طرح عہدے سے ہٹا نہ دے، بلاچون و چرا ہامی بھر لی۔ قوم کی عزت خاک میں مل گئی، یہ صرف فرد واحد کا فیصلہ تھا، قوم کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ ہی فارن آفس سے پوچھا گیا، نہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلاکر بحث کی گئی۔ اسی وجہ سے تو آج تک امریکا ہم کو ڈکٹیٹ کر رہا ہے لیکن آج جب میں یہ سطور رقم کر رہا ہوں، عمران نے کوئی بھی شرط ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ پاکستان نے اب تک اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے، 70 ہزار معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور پھر بھی ہم سے کہا جائے کہ آپ افغانستان کے معاملے میں مزید کچھ اور کریں، دراصل امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان پر خوامخواہ کی ذمے داری ڈالتا ہے، لیکن محض الزام تراشی سے کچھ نہیں ہوتا۔ عمران کے مطابق پاکستان افغانستان میں ہر قیمت پر امن چاہتا ہے، اس لیے کہ یہ امن ہمارے لیے ضروری ہے۔ افغانستان پڑوسی ملک ہے، وہاں کے اندرونی حالات کا ہم پر اثر پڑنا لازمی ہے، لیکن امریکا خود بھی تو کچھ کرے۔
11ہزار امریکی فوج کابل کی حفاظت پر مامور ہے اور اب بھی 50 فیصد سے زائد افغان علاقوں پر طالبان اور داعش کا قبضہ ہے۔ تو یہ امریکا کی ذمے داری ہے کہ وہ افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھے، دوسروں پر الزامات کی بوچھاڑ نہ کرے، شاید پہلی مرتبہ کسی امریکی اعلیٰ عہدے دار کو احساس ہوا ہو گا کہ پاکستان میں تبدیلی آ چکی ہے۔ وہ اب ہاں میں ہاں نہیں ملائے گا، بلکہ عزت کی زندگی کو ترجیح دے گا۔ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کے ساتھ ملاقات سے پہلے عمران نے کابینہ کا اجلاس بلایا اور اس میں دو تین اہم کمیٹیاں قائم کر دیں، جس میں سے ایک نے تو 80 ارب روپے کے اخراجات میں کٹوتی کرنے کی خوش خبری قوم کو سنا دی۔ یہ بات کچھ کم کارنامہ ہے جو فضل الرحمٰن اور پیپلز پارٹی کے لیڈر مولابخش چانڈیو کی سمجھ میں نہ جانے کیوں نہیں آتی۔ یہ ہارے ہوئے جواریوں کی طرح شکست تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوتے، تو اس میں 
عمران خان یا ان کے ساتھیوں کا کیا قصور؟ ہاں وزیراعظم سے شکوہ ہمیں بھی ہے کہ انہوں نے گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اضافے کی منظوری دے دی، حالاںکہ اوگرا نے 180 فیصد اضافے کی سمری ارسال کی تھی۔ اس وقت ایک عام پانچ آدمیوںکے گھرانے کا گیس کا بل 1200سے 1500روپے مہینہ آتا ہے۔ اب یہ بڑھ کر 2000 روپے سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔ اوسط آمدنی کا حامل خاندان کیسے یہ بوجھ برداشت کر پائے گا۔
ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ سرکاری ملازمین کو اب بلاوجہ ملازمت سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔ 1973ء سے پہلے سرکاری ملازمین کو آئینی تحفظ حاصل تھا، جو بھٹو نے 1973ء کے آئین میں ختم کر دیا۔ نتیجتاً سرکاری ملازمین حکومت وقت کے تابع ہو گئے۔ افسر شاہی ظاہر ہے، اپنا اصل کام کرنے کے حکومتی عہدیداروں کی خوشامد میں مصروف ہو گئی، جس کا نتیجہ ہم سب آج تک بھگت رہے ہیں، عمران سے کچھ غلطیاں تو ہوئی ہیں لیکن کئی ایک اچھے اقدامات بھی ہوئے، جن کی تعریف کرنا پڑے گی۔ محض تنقید سے کام نہیں چلے گا۔
بقیہ: حد نظر