24 ستمبر 2018
تازہ ترین

قومی اداروں کی حفاظت قومی اداروں کی حفاظت

قوموں کی زندگی میں ادارے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں لیکن یہ بات اٹل ہے کہ مضبوط ادارے ہی مستحکم ریاست کی دلیل ہوا کرتے ہیں ہمارے ہاں گذشتہ71سالوں میں ’’الٹی گنگا‘‘بہتی رہی۔آمرانہ حکومتوں نے ہی نہیں ،جمہوری حکومتوں کے دعویداروں نے بھی اپنی اپنی سہولت کیلئے مختلف ادارے بنائے ۔’’وفاقی محتسب اور قومی احتساب بیورو‘‘آمرانہ دور کی پیداورہیں انہیں ہر دور میں مختلف انداز سے چلایا گیا کبھی ان سے حقیقی معنوں میں استفادہ کیا گیا اور کبھی انہیں ضرورت کے مطابق من مرضی کے فیصلوں کیلئے سہولت بنا دیا گیا پھر بھی موجودہ دور میں ان دونوں آمرانہ اداروں کی افادیت کھل کر سامنے آ چکی ہے ،قومی و فاقی اداروں کے ستائے ہوئے لوگ وفاقی محتسب سے رابطہ کر کے مفت انصاف حاصل کر سکتے ہیں اسی لئے اَب تک لاکھوں فیصلوں میں متاثرہ افراد اپنا حق اور انصاف لے  چکے ہیں ۔’’قومی احتساب بیورو‘‘کی بارگینگ شق کو خاصا متنازعہ سمجھا گیا لیکن اس ادارے نے بھی غریبوں کی لٹی ہوئی نہ صرف کمائی واپس دلائی بلکہ قومی خزانے کو لوٹنے والے صاحب اقتدار کو بھی آڑے ہاتھوں لیا،اسی طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور میں ’’دہشت گردی عدالتوں‘‘کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن جب انہیں ان عدالتوں کے رو برو پیش ہونا پڑا تو انہیں یہی عدالتیں بری محسوس ہونے لگیں ۔دراصل قومی ادارے اجتماعی مفادات کیلئے کام کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں انہیں ہر دور میں انفرادی سوچ میں استعمال کیا گیا،یہی وجہ ہے کہ ہمارے ریکارڈ ہولڈر نا اہل وزیراعظم کے مقبول عام ’’بیانیہ‘‘میں اداروں سے ٹھکرائو پیدا کیا گیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ نادان دوستوں نے ان کی واہ واہ کر کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سلاخوں کے پیچھے بند کرادیا۔
حقیقت میں قومی ادارے قومی امانت ہوا کرتے ہیں ان اداروں کے استحکام سے معاشرے کی فلاح و بہبود اور قومی مفادات کو تقویت پہنچائی جاتی ہے لیکن اقتدار کی طاقت میں صاحب منصب ایسے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی سوچ اور منصوبہ بندی سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ہمارے ہاں ایک عرصے تک قومی مفاد کے منصوبوں کی پانچ سالہ منصوبہ بندی لازمی کی جاتی تھی پھر حالات بدلے تو ویژن 2015ء اور 2025ء متعارف ہوئے لیکن سب کے سب ادھورے اس لئے رہ جاتے ہیں کہ ان منصوبوں کی سوچ ایک خاص انداز میں کی جاتی ہے جو اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی بدل جاتی ہے۔پاکستان میں تاجر نواز دوستوں کی حکومت تین مرتبہ آئی ،عام لوگوں کا خیال تھا کہ تجارتی مواقع بڑھیں گے ،بیرونی سر مایہ کاری سے روز گار کے حالات بھی بدلیں گے لیکن ضرب جمع تقسیم کے فارمولے پر قوم کو صرف خواب دکھائے گئے ایک دور میں سیف الرحمان حکومتی چہیتے ملک چھوڑ گئے دوسرے دور میں قومی خزانے کے مختار کل سمدھی اسحاق ڈار بیماری کے بہانے سے غائب ہو گئے بات سیدھی سی ہے کہ جب منتخب نمائندوں کے ’’سیاہ سفید‘‘اور کار کردگی پر قومی ادارے انگلی اٹھاتے ہیں تو صاحب طاقت اسے برداشت نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کیلئے نت نئے راستے اور بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ماضی میں اسی سوچ کی بدولت قومی اداروں کی پرائیویٹ سیکٹر یعنی نجکاری کے فیصلے بھی کئے گئے جہاں حکومتوں کا دائو لگا انہوں نے اپنے من پسندوں کو اونے پونے نواز دیا لیکن قدرت نے پھر بھی بہت سے ادارے بچا لئے ۔
ماضی میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے ’’نیشنل پریس ٹرسٹ‘‘کے اخبارات کو چند اخباری مالکان کی تجویز پر ’’سفید ہاتھی‘‘قرار دے کر بند کرنے کا فیصلہ کیا جس پر عمل در آمد پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے ’’گولڈن شیک ہینڈ‘‘کے فارمولے پر کر دکھایا حالانکہ دنیا بھر میں حکومتی آواز کی تقویت کیلئے حکومتی میڈیا ہوتا ہے جو کبھی بھی منافع بخش نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں روزنامہ مشرق اور پاکستان ٹائمز جیسے اخبارات کا گلا گھونٹ کر لوگوں کو بے روز گارکر دیا گیا۔تبدیلی اور نئے پاکستان کے وزیر اطلاعات نے پاکستان ٹیلی ویژن کو حکومتی پابندیوں سے آزادی کی نوید سناتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اب پی۔ٹی۔وی پر تنقیدی تجزیہ کار ہی نہیں بلکہ اپوزیشن رہنماء بھی دکھائی دیں گے مسئلہ صرف یہی نہیں ،اس قومی ادارے کی نجکاری اور اس کی خوبصورت عمارتوں کو گروی رکھنے کی کوشش بھی کی گئی پس پردہ کچھ لوٹ مار سمجھتے ہوئے گروی رکھی بھی جا چکی ہیں ماضی کی حکومتوں نے ایسے بہت سے ’’قومی مفاد دشمن‘‘فیصلے کر کے آمدن بڑھانے کے دعوے کئے لیکن حقیقت میں کچھ نہیں ہو سکا بلکہ پی۔ٹی۔وی  جیسے ’’کمائو پتر‘‘میں بے جا سیاسی بھرتیاں کر کے اسے ایک ناکام ادارہ بنایا گیا اسی طرح ’’قومی مفاد اور آواز‘‘کا سب سے بڑا ڈنکا بجانے اور اندرونی و بیرونی محاذ پر نظر یاتی وضاحت کا امین ’’ریڈیو پاکستان‘‘بھی انتہائی کسمپرسی کی تصویر بنا ہوا ہے اور اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔
ہمارے دوست بھائی اور وفاقی وزیر فواد چودھری نے دو نئے ٹی وی چینلز بنانے کا بھی اعلان کیا ہے لیکن حقیقت میں پہلے موجود ہ اداروں کو فعال اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہےہ وہ جانتے ہوں گے کہ این ۔ٹی۔ایم کے جھگڑے اور بندر بانٹ کے بعد قومی ادارہ ’’ایس۔ٹی۔این‘‘برسوں بند رہا اور شالیمار  ریکارڈنگ کمپنی کے ملازمین کا کوئی والی وارث نہیں بناء پھر اسے نجی سیکٹر میں دے دیا گیا جس سے موجودہ دور میں تقریباً تین کروڑ ماہانہ معاوضہ بھی حاصل ہو رہا تھا یہ چینل اے۔ٹی۔وی کی انتظامیہ نے تقریباً 13سال کامیابی سے چلایا لیکن بہت سے مفاد پرستوں اور حاسدوں کو یہ اچھا نہیں لگا اور ایک بیوروکریٹ کی ہٹ دھرمی نے اے۔ٹی۔وی کو فتح کر کے 13سال پرانے حالات میں مبتلا ہی نہیں، ایس۔ٹی ۔این کے سینکڑوں ملازمین کو پی۔ٹی۔وی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جو بجلی بلوں سے ایک بڑی رقم وصول کرنے کے باوجود خسارے میں ہے۔
 وزیر موصوف اگر قومی اداروں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو ان کی اولین ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر پی۔ٹی۔وی اور ریڈیو پاکستان جیسے اداروں کیلئے مربوط پالیسی بنا کر انہیں بچائیں ۔ایسے میں انہیں ان دونوں اداروں کے زیرانتظام چلنے والے پی۔ٹی۔وی ورلڈ ،پی۔ٹی۔وی نیشنل،پی۔ٹی۔وی نیوز اور ریڈیو پاکستان کے ان چینلز کی فکر لاحق ہونی چاہیئے جو پرانے نظام کے تحت خسارہ کم کرنے کے بہانے بند کردئیے گئے انہیں باقاعدہ جائزہ لینا ہو گا کہ ’’ریڈیو پاکستان‘‘ سے وابستہ صداکاروں ،تکنیک کاروں ،تجزیہ کاروں اور کمپیئرز کو معاوضوں کی ادائیگی بھی ہو رہی ہے کہ نہیں،،صورت حال یہی ہے کہ سینکڑوں جز وقتی کسمپرسی اور معاوضوں کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث ریڈیو اور ٹی ۔وی سے منہ موڑ کر زندگی کے دن انتہائی ناقابل بیان حالات میں گزارنے پر مجبور ہیں ۔وفاقی وزیر فواد چودھری کو اللہ تعالیٰ نے ایسے تجربات و مشاہدات سے نوازا ہے کہ گورنر ہائو س سے وزیراعظم ہائوس ہی نہیں ،دیہی و شہری علاقوں کے حقیقی مسائل سے واقف ہیں اس لئے انہیں اس عہدے پر مصلحت پسندی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ہر قیمت پر قومی اداروں کی حفاظت کرنی ہو گی ،اگر قومی ادارے مستحکم ہو گئے تو نئے اداروں کا قیام بھی آسان ہو جائے گا لہذٰا فی الحال نئے اداروں کا خیال چھوڑ دینا چاہیئے تا کہ حقیقی معنوں میں قومی اداروں کی حفاظت ممکن ہو سکے۔