20 ستمبر 2019
تازہ ترین

قتل غیرت کے خاتمے میں میڈیاکا کردار قتل غیرت کے خاتمے میں میڈیاکا کردار

غیرت کے نام پر خواتین اور غریب مردوں کو قتل کرنا صدیوں پرانا رواج ہے لیکن پاکستان جیسے صنفی تفریق کے حامل معاشرے میں اس کا شکار زیادہ تر خواتین ہی بنتی آئی ہیں۔ ملک کے بیشتر حصوں میں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھنے کی سماجی و ثقافتی سوچ غالب ہے۔مرد کی بالادستی کے اصول پر قائم پاکستانی معاشرے میںخواتین کو اب بھی ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر واقعات ان علاقوں میں رپورٹ ہوتے ہیں جہاں اب بھی قبائلی نظام بہت مضبوط ہے۔ جنوبی پنجاب،بلوچستان اور سندھ کے کئی علاقوں میں دشمنی کی بنا پر مخالفین کے مرد کو قتل کر کے اپنی کسی بے گناہ عورت کو بھی موت کے گھاٹ اتار کر اسے کالا کالی کا کیس بنا دیا جاتا ہے۔ یادرہے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کو پنجاب میں کالا کالی، سندھ میں کارو کاری ،خیبر پختون خوا میں طور طورہ جبکہ بلوچستان میں سیاہ کاری کہا جاتا ہے۔
ایک سال قبل پاس ہونے والے ’’اینٹی آنرز کرائم بل‘‘ سے پہلے پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل میں دفاع کے طور پر ایسے قوانین موجود رہے ہیں جس کے ذریعے غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کا دفاع کر کے سزا میں تخفیف کی گنجائش پیدا کی جاتی رہی ہے۔ایک قانون کی رو سے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنے رشتے کی کسی خاتون کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر مشتعل ہونے کے بعد اسے قتل کر دے تو قانون اسے دفاع کا راستہ فراہم کرتا تھا، ایک اورقانون کی رو سے بیوی بیٹی کا قتل شوہر کو معاف کر سکتی تھی۔ غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل راضی نامہ جرم قرار دینے کیلئے قانون سازی کا آغاز2014ء میں پیپلز پارٹی کی ریٹائرڈ سینیٹرصغری امام نےـ’’اینٹی آنر کرائم بل‘‘ پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پیش کر کےکیا۔ 
شرمین عبید چنائے کی فلم کو آسکر ایوارڈ ملنے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے ’’اینٹی آنر کرائم بل‘‘کی منظور ی کیلئے کوششیں کیں لیکن تمام تر کوششوںکے باوجود اگلے پانچ ماہ تک قومی اسمبلی یہ بل منظور نہ کر سکی۔ 16 جولائی 2016ء کو سوشل میڈیا سے شہرت پانے والی نامور ماڈل قندیل بلوچ کے غیرت کے نام پر قتل کے بعد اس قانون کی فوری منظوری بارے پارلیمنٹ پر دبائو بڑھا اور اسی دبائو کے نتیجے میںاکتوبر2016ء میں پارلیمنٹ میں غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے پہلا مؤثر قانون منظور کر لیا گیا۔اس قانون کے تحت اب غیرت کے نام پر قتل کے مرتکب فرد کو سزائے موت دی جا سکتی ہے اور اگر قتل کی جانے والی عورت یا مرد کے خاندان والے قاتل کو معاف بھی کر دیتے ہیں تو بھی مجرم کو عمر قید کی سزا ہر صورت میں بھگتنا پڑتی ہے۔
اینٹی آنر کرائم بل کی منظوری سے پہلے اکثر و بیشتر کیسز میںغیرت کے نام پر قتل کرنے والے افراد دبائو یا پھر دیت کے قانون کے تحت متاثرہ خاندانوں سے راضی نامہ کر کے سزاسے بچ جاتے تھے ۔اگرچہ نئے قانون کی منظوری سے غیرت کے نام پر قتل کرنے والے مجرموں کا سزا سے بچ پانا ممکن نہیں رہالیکن بدقسمتی سے ابھی غیرت کے نام پر قتل کے واقعات تسلسل سے رونما ہو رہے ہیں۔اب بھی ہر سال ایک ہزار کے قریب خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جا رہا ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اور رسم و رواج کے ہاتھوں ماری جانے والی خواتین اور بچیوں کی المناک موت کی کہانیاں سامنے لانے میں مین سٹریم میڈیا کا اہم کردار ہے لیکن بدقسمتی سے چند ایک کیسز کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والے اکثر و بیشتر واقعات میڈیا میں کوئی قابل ذکر کوریج حاصل نہیں کر پاتے۔ چند ہفتے قبل کراچی میں 15سالہ بخت تاج اور17سالہ غنی رحمان کو شادی کے ارادے سے گھر سے بھاگنے کی پاداش میں خاندان کے افراد نے بجلی کے جھٹکے دے کر مار دیا لیکن یہ واقعی مین سٹریم اور سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ا کیسویں صدی میں تسلسل کے ساتھ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کا پیش آنا پاکستان کے چہرے پر ایک بدنما داغ کے مترادف ہے اور اس کی ذمہ داری کہیں نہ کہیں میڈیا پر عائد ہوتی ہے اخبارات اور چینلزنیوز فیڈ میں ایسے واقعات کو بھرپور انداز میں ہائی لائٹ کرنے کے علاوہ فیچرز اور دستاویزاتی پروگرامز کے ذریعے معاشرے سے اس گھنائونے فعل کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل سمیت مختلف سطح پر خواتین کے استحصال کے خاتمے میں ٹی وی ڈرامے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے چینلز معاشرے کی سوچ بدلنے والے ڈراموں کے بجائے روایتی محبت و رومانس کی شادیوں اور طلاقوں کے گرد گھومتے ڈرامے بنا رہے ہیں۔ لکھاری،ڈرامہ نگار اور فلم ساز اپنے اپنے حصے کی شمع جلائیں تو ـ’’قتل غیرت‘‘جیسے معاشرتی ناسور سے جلد جان چھڑائی جا سکتی ہے۔