22 ستمبر 2018

قانون کی حکمرانی قانون کی حکمرانی

صد شکر کہ پاکستانیوں کو قائد اعظم کے بعد ایک بہت ہی بااصول اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والا حکمران نصیب ہوا، جو قائد کے اصولوں کی راہنمائی میں اپنا طرز حکومت تشکیل دینے میں دن رات مصروف ہے۔ مجال ہے کہ کوئی ان اصولوں سے روگردانی کا سوچ بھی سکے۔ اس راہنما نے اب تک جتنے بھی وزراء اعلیٰ، گورنر اور وزراء بھرتی کیے ہیں، سب کے سب ایک سے بڑھ کر ایک بااصول اور صاحب کردار ہیں۔ قوم کی امیدیں بھر آئیں اور دعاؤں نے قبولیت حاصل کی۔ اب کچھ ہی دن جاتے ہیں ہر طرف قانون کی حکمرانی کے ڈنکے ہی نہیں، ڈھول بج رہے ہوں گے، لیکن جب تک یہ ڈھول بجتے ہم دیکھ نہیں لیتے، اس وقت تک ہم قائد اعظم کی حیات کو دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔
قائد اعظم محمد علی جناح نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ جناح کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کراچی کے پیدائشی اور لنکن ان سے بیرسٹری کی تربیت حاصل کرنے والے جناح، بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں میں آل انڈیا کانگریس کے اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ اپنی سیاست کے ابتدائی ادوار میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کام کیا۔ 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین ہونے والے میثاق لکھنؤ کو مرتب کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح آل انڈیا ہوم رول لیگ کے اہم رہنماؤں میں سے تھے۔ انہوں نے چودہ نکات بھی پیش کیے، جن کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔ یہ مہینہ ان کی پیدائش کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں پوری قوم، قومی سطح پر انہیں خراج عقیدت اور تحسین پیش کرنے کے ساتھ ان کے افکار اور کردار پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، جسے بانی پاکستان سے محبت کا اظہار کہا جا سکتا ہے۔ قائد اعظم ایک بااصول رہنما تھے جن کی پوری زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے، جس کا ہر ورق ان کے افکار اور کردار کی گواہی دیتا ہے۔ ان کے قول و فعل میں تضاد تھا نہ عمل میں، جو کچھ کہا اس پر عمل کر کے دکھایا۔ ان کی خواہش تھی کہ پاکستان ایک ایسا ملک بنے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، کوئی چھوٹا بڑا نہ ہو، جس کے لیے انہوں جد وجہد بھی کی اور عمل کر کے بھی دکھایا۔
قائداعظم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی چاہتے تھے وہ عوام کو بااختیار دیکھنا چاہتے تھے۔ انصاف، انسانی مساوات اور سماجی و معاشی عدل چاہتے تھے۔ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں ہر شخص کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی پوری آزادی ہو۔ قائداعظم کی پوری سیاسی زندگی کی جدوجہد کا مرکز اور محور یہ اعلیٰ ارفع نظریہ تھا کہ برصغیر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو 
سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی حقوق سے بہرہ ور کر کے ان کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ باوقار شہری بنایا جائے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے مستقبل کے بارے میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان فرمایا تھا۔ ’’پاکستان کے مستقبل کا دارومدار پاکستان کے عوام پر ہے نہ کہ ان مٹھی بھر ایڈمنسٹریٹرز اور آمروں پر جنہوں نے اپنی قسمت ان کے ساتھ وابستہ کر لی ہے‘‘۔ یہ وہ غریب پاکستانی مرد اور خواتین تھے جنہوں نے قائداعظم کی تائید و حمایت کی جس نے مسلم لیگ کو اتنا مضبوط اور طاقتور بنایا ان کی تائید و حمایت سے قائد پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جہاں آج ہم آزاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں۔ قائد ایک بااصول راہنما تھے، جنہوںنے اپنی ساری زندگی نجی اور سیاسی، صاف ستھری اور ایماندارانہ طریق سے بسر کر کے دنیا بھر میں ایک مثال قائم کی۔ ان کی ساری زندگی ہر حیثیت میں شاندار ڈسپلن اور درخشاں اصولوں کی پابند رہی۔ قائد نے زندگی گزارنے کے جو اصول بیان کیے، ان کے مطابق انسان کو نجی زندگی کے ساتھ سیاست میں دیانت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پابندی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ قائداعظم نا صرف اپنی نجی بلکہ سیاسی زندگی میں بھی اعلیٰ اقدار کے ہمیشہ پابند رہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 1946ء میں مرزا حسن اصفہانی، جو قائداعظم کے معتمد ساتھی رہ چکے 
ہیں، مسلم چیمبر آف کامرس کلکتہ کی نشست سے بنگال صوبائی اسمبلی کے لیے امیدوار تھے۔ انہیں اور ان کے حامیوں کو پورا یقین تھا کہ وہ بلا مقابلہ منتخب ہو جائیں گے۔ تاریخ مقررہ سے صرف دو تین دن قبل ایک اور شخص نے بطور امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر دیے۔ اس دوران میں کلکتہ کے مشہور مسلم لیگی راہنما جناب عبدالرحمٰن صدیقی نے مرزا حسن اصفہانی کو بتایا کہ ان کا مخالف امیدوار زرِ ضمانت، جو اس نے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت جمع کرایا تھا، کی ادائیگی پر مقابلہ سے دستبردار ہونے کو تیار ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسے اڑھائی سو روپے زر ضمانت ادا کر دیا جائے تا کہ انتخاب بلا مقابلہ ہو جائے۔ قائداعظم اتفاق سے ان دنوں کلکتہ میں مرزا حسن اصفہانی کے ہاں مقیم تھے، انہیں اس بات کا پتا چلا تو انہوں نے ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا اور کہا کہ دو سو پچاس روپے کی رشوت دے کر دوسرے امیدوار کو مقابلہ سے ہٹانے کی کوشش کرنا نہایت غلط بات ہے، مزید کہا کہ مخالف امیدوار کو بتا دیا جائے کہ ایسا نہیں ہو گا اور انتخاب میں مقابلہ ہو گا۔ چنانچہ مرزا حسن اصفہانی کو یہ الیکشن لڑنا پڑا اور ان کا مخالف امیدوار کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکا۔ اس طرح کی ہزاروں مثالوں سے تاریخ بھری پڑی ہے کہ قائد نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔
قائداعظم نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں جذبات سے کام نہیں لیا، ہمیشہ اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھنڈے دل اور دماغ سے سیاست کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کی کوشش کی۔ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ان کے ذہن میں کیا تھا، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے، قائد اعظم محمد علی جناح نے فروری 1948ء میں امریکی عوام کو ریڈیو کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا: پاکستانی قانون کو ابھی پاکستانی اسمبلی نے بنانا ہے، مجھے یہ بات معلوم نہیں کہ قانون کی اصل وضع کیا ہو گی، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ جمہوری قسم کی ہو گی، جس میں اسلام کے بنیادی اصول بھی شامل کیے جائیں گے۔ آج بھی یہ قانون ایسے ہی قابل عمل ہیں جیسے کہ وہ 13 سو سال قبل تھے۔ اسلام اور اس کے نظریے نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے۔ یہ ہمیں آدمی، انصاف کے مساوات اور دوسروں سے اچھائی کا درس دیتی ہے۔ ہم ان اقدار کے وارث ہیں اور مستقبل کے پاکستانی قانون کو بنانے کی مکمل ذمہ داری کا احساس رکھتے ہیں۔
ہمارے موجودہ بااصول رہنما قائد کے افکار کی روشنی میں پاکستان کو صرف اسی 
صورت میں مستحکم خوشحال اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں جب ہمارے ملک میں خوف خدا، احترام آدمیت، جمہوریت کا نفاذ اور شہری آزادیوں کے تحفظ کا دور دورہ ہو گا۔ عوام کی امنگوں اور آرزوؤں کی تکمیل صرف اسی وقت ہو گی جب عدل و انصاف کا پرچم سر بلند ہو گا، جب قانون کی حکمرانی کا راج ہو گا۔ جب ذرائع پیداوار اور دولت کی منصفانہ تقسیم ہو گی اور جب غربت جہالت کا خاتمہ ہو گا تاکہ عام پاکستانی سکھ اور چین کا سانس لے سکے۔ قانون کی حکمرانی قائم کر کے ہی ہم بانیٔ پاکستان کو بہتر انداز میں خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں۔
بقیہ: عوام کی آواز