26 اپریل 2019
تازہ ترین

قانون قدرت کے لاگو ہونے سے ڈریں! قانون قدرت کے لاگو ہونے سے ڈریں!

یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے
بات سے بات فسانے سے فسانہ نکلے
پھر چلے ذکر کسی زخم کے چھل جانے کا
پھرکوئی درد ،کوئی خواب پرانا نکلے
پھر کوئی یاد، کوئی سازاٹھا لے آئے
پھر کسی ساز کے پردے سے ترانہ نکلے
یہ بھی ممکن ہے صحرائو ں میں گم ہو جائیں
یہ بھی ممکن ہے خرابوں سے خزانہ نکلے
آئو ڈھونڈیں تو سہی اہل وفا کی بستی
کیا خبر پھر کوئی گم گشتہ ٹھکانہ نکلے
یار ایسی بھی نہ کر بات کہ دونوں رو دیں
یہ تعلق بھی فقط رسمِ زمانہ نکلے
یہ بھی ہے اب نہ اٹھے نغمہ زنجیر فراز
یہ بھی ہے ہم سا کوئی اور دیوانہ نکلے
(احمد فراز)
یہ سیاست کار لگتا ہے اس قوم کی آدھی زندگی یونہی عذابوں کی نذر کر دیں گے۔ انہوں نے معاشیات، اتفاق، بھائی چارہ، روایات، کلچر، شائستگی، ادب و آرٹ، کھیل، میلے ٹھیلے، روزگار اور اعتبار سمیت ہر مثبت چیز نگل لی ہے۔ اب یہ خواب اور نیند بھی لے اڑے ہیں۔ معاشرے میں نفاق، نفرت، بدتہذیبی، بداخلاقی، بیروزگاری، سطحی گفتگو، کینہ، بغض اور لڑائی کی فصلیں بو دی ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا:
اب تو بارود کی بُو آتی ہے اخباروں سے
جیسے خبروں کو تراشا گیا ہو انگاروں سے
تو قصرِ سلطانی کی فلک بوس فصیلوں پہ نہ جا
انقلاب آتے ہیں تو رُکتے نہیں دیواروں سے
میرے بہت سے سیاسی دوست ناراض ہوں گے، ہو سکتا ہے صحافی دوست بھی مگر کیا کروں۔ سوچنے پر مجبور ہوں، صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد آج ہم جہاں کھڑے ہیں لاکھوں سال پرانی تہذیب کے باوجود اپنے گریبان میں جھانکیں تو پتا چلے گا، کچھ بھی حاصل نہیں ہے۔ صبح خاتون خانہ کہہ رہی تھیں کہ ہمارا بچپن کتنا خوبصورت تھا، آج بچوں کو گلی میں بھیجتے ڈر لگتا ہے۔ آج اس ملک میں ایک جگہ بتا دیں جہاں پر آپ اپنی فیملی کے ساتھ آزادانہ ماحول میں بلاخوف واک کر سکیں، چلیں اکیلی عورت ہی واک کر کے آئے؟ جی ہاں! یہ معاشرہ تشکل دیا ہے ہم نے اور یہ ریاست تیار کی ہے۔ سلیم کوثر نے کہا تھا:
دنیا بھر کے اخباروں میں 
الٹ پلٹ کر
روزانہ ہی ایک خبر چھپ جاتی ہے
کل بھی جب اخبار آئے گا
اس میں بھی صرف لفظ بدل جانے ہیں
مسخ شدہ لاشوں کے چہرے
 کس نے پہچانے ہیں
یہ بھی سلیم کوثر نے کہا کہ:
لوری کی رم جھم میں سونے والے بچے
گولی کی آواز کو سن کر ڈر جاتے تھے
اور اب
لوری کی آواز کو سن کے ڈر جاتے ہیں
گولی کی آواز پہ ہنس کے سو جاتے ہیں
جی حضور، یہ ہے آپ کی سوسائٹی، آپ اور میں اس آئینے میں، ذرا  اپنے چہرے کو تو دیکھیں۔ اگر اپنا چہرہ بھدا، مکروہ اور بدصورت دکھائی دے تو اسے تسلیم کریں۔ کیا ایسے ہوتی ہے نسلوں کی تربیت؟ آج کرکٹ پاکستان کی یکجہتی کی علامت بن سکتا ہے۔ یہ سب لوگوں کو آپس میںجوڑتا ہے۔ آج قومی ٹیم کے علاوہ کوئی میچ کرا لیں، گراؤنڈ سُونے ہوتے ہیں۔ ٹیمیں، میچ سٹاف یا کرکٹ سے جڑے چند لوگ وہاں ہوتے ہیں۔ یہ سدا سے تو ایسا نہیں تھا۔ عام آدمی کو آپ نے مصروف نہیں بلکہ روزی کی اندھی چکی میں پھینک دیا ہے، وہ تمام دن اور شام کے کئی گھنٹے مزدوری کی بھٹی میں روزانہ اپنے خون کو جلاتا ہے۔ اس کی سزا ختم ہی نہیں ہو رہی۔ خاندان اور معاشرے کیلئے اس کے پاس نہ کوئی وقت ہے اور نہ ہی فالتو پیسے حتیٰ کہ تفریح کیلئے بھی نہیں۔ پھر یہاں شہریوں کی کیسی پروڈکٹ نکلے گی؟ بابا نجمی نے کہا تھا کہ:
گھر جنہاں دے اپڑ جاندے رہو دے بھرے ڈول
اوہ کی جانن بیلن وچوں گنا کیویں لنگیا اے
ایسے میں معاشرے میں سکون کیسے ہو گا۔ آپ ان کی خوشیاں نگل گئے ہیں، یونہی کوئی کیسے مل بیٹھے گا۔ کس نے کس سے بات کرنی ہے، یہاں تو زخم ہی اتنے ہیں کہ اب زخم کے چھلنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ میرا دوست عدنان کوئٹہ کے قہوہ خانے، ہوٹل، کڑاہیاں، روش، کھڈی کباب، سجی، کرکٹ کے میدان اور دوست یہاں اسلام آباد میں ڈھونڈتا ہے۔ روز مایوس ہو کر گھر چلا جاتا ہے۔ اس نے سیکرٹریٹ میں کوئٹہ کے نوجوان 
افسروں کے ساتھ مل کر چھوٹا سا کوئٹہ بنایا ہوا ہے۔میں تو اس میں بھی ناکام ہوں۔ شرو ع میں ہم نے رانا طاہر، شیخ اکرم، شیخ اسلم، یونس منشی وغیرہ کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا جھنگ ’’منی کرکٹ‘‘ جسے ہم کاؤنٹی بھی کہتے ہیں، بنانے کی کوشش کی۔ پھر سب مصروف ہو گئے، اب صرف یادیں ہیں۔ اسی طرح سے کتنے ہی دوست ہیں جو اپنے اپنے شہروں اور گاؤں سے نکل آئے مگر ان کے شہر اور گاؤں ان میں سے نہیں نکل رہے۔ وہ منظر انہیں کھینچتے ہیں، دوست پرانے بلاتے ہیں مگر پھر انہیں غم روزگار ہڑپ کر جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی بااختیار اشرافیہ نے ہر جذبہ، خوشی، تفریح، محبت، تعلق اور رشتہ پیسے اور طاقت کی بھٹی میں جھونک کر بھسم کر دیا ہے۔ اگر آپ کو صحت مند رہنا ہے تو پھر 5 ہزار روپے کا کم از کم پانی خریدیے۔ آپ کے بچے پیچھے رہ جائیں گے، ان کو آگے لے کر جانا ہے تو تعلیم خریدیے۔ ماہانہ 50 سے 70 ہزار اس پر خرچ کیجئے۔ شہر اور رشتہ داروں بلکہ بچوں کے دوستوں کو گھر پر بلانا ہے تو کم از کم پچاس ہزار روپے کرائے پر گھر لیجئے۔ مارکیٹ اکیلے جانا ہے، اگر فیملی کے ساتھ جانا ہے تو کچھ پیسے ادھار لیجئے یا پھر ارمانوں اور خوشیوں کا گلا گھونٹ لیجئے۔
 آج تو اسلام آباد  شہر میں بچے اکیلے کھیل کے میدان میں بھی نہیں جا سکتے۔ جن کے بچے اکیلے جاتے ہیں ان کے والدین سے پوچھئے۔ ہمارے اوپر قرض 100 ارب ڈالر کا چڑھا ہوا ہے جبکہ پاکستان کی حالت یہ ہے وزیراعظم کہتے نہیں تھکتے تھے کہ پیسے انسانوں پر خرچ کر کے ملک ترقی کرتے ہیں۔ کدھر ہیں جناب کے اعلانات اور عملی اقدامات؟ کونسے منصوبے شروع کیے ہیں؟ آپ تو ابھی تک ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ کہاں ہے صاف پانی، تعلیم، یکساں نصاب، کھیل، ہسپتال، تھیٹر، سینما، فنون لطیفہ، آرٹ۔ آپ شہبازشریف سے نہیں نکل رہے، شہباز شریف باؤ جی سے، پیپلز پارٹی زرداری سے نہیں نکل رہی۔ تمام رہنما مصروف ہیں۔ وزیر اور مشیر ڈیموں کے کنٹریکٹس میں منہ منہ تک دھنسے ہوئے ہیں، ایکسپورٹ منہ کے بل گری ہوئی ہے۔ سیٹھوں سے یاریاں، بیورو کریٹس سے رشتہ داریاں اور باہمی وضع داریاں نبھائی جا رہی ہیں۔ اہل افسر منہ چھپائے گھوم رہے ہیں۔ یہ ملک، یہ ریاست اسی طرح سے بس ایسے ہی چلے گی۔ کچھ عرصے کے بعد اس کا بوائلر ویسے ہی پھٹ جائے گا۔ وہ بھی سمجھیں جو اپنے آپ کو ’’کل اور مختار‘‘ سمجھتے ہیں اور وہ بھی سمجھیں جو مرہون منت ہیں مگر خود کو ’’عقل کل اور مختار‘‘ سمجھتے ہیں۔ معاشرے پر ٹائم بم لگا ہوا ہے، ٹک ، ٹک، ٹک کی آواز ہر ذی شعور کو سنائی دے رہی ہے۔ آپ کو کیوں سنائی نہیں دے رہی۔ بات بہت آگے نکل چکی ہے، چھلے زخم مرہم مانگتے ہیں۔ روندی گئی روحیں سکون مانگتی ہیں، کچلے جذبات اب رحم طلب کر رہے (باقی صفحہ 11پر)
ہیں، پامال عزتیں حساب طلب کرتی ہیں۔ ناانصافیاں انصاف نہیں، عدل کی طلبگار ہیں۔ سب سے بڑھ کر زندگی اب ٹھہراؤ، راحت، تفریح، سرشاری، لطف اور آزادی چاہتی ہے۔
چلو ان منظروں کے پار چلتے ہیں
بہت دن ہو گئے وحشتوں کی بھیڑ میں ہم
جہاں یہ چاند تاروں کو لیے مٹی میں اترا ہے
جہاں خاموشیوں کو گفتگو کرنے کی عادت ہے
جہاں ہوائیں بادلوں کے سنگ گیت گاتی ہیں
چلو ان منظروں کے پار چلتے ہیں
تمام ارباب اختیار سوچیں سمجھیں۔ زندگی سوئٹزر لینڈ، لندن پیرس، ملائشیا، چین، یورپ ، مشرق وسطیٰ، سعودی عرب، امارات ناروے، ڈنمارک، سویڈن میں نہیں ہوتی۔ زندگی ڈی ایچ اے، بحریہ ٹاؤن سے باہر بھی ہے۔ انسان لاہور اور اسلام آباد کے نظرانداز علاقوںکے علاوہ پورے ملک میں بھی بستے ہیں۔ قہقہے اور ہنسی صرف آپ، آپ کے بچوں، عزیز و اقارب اور رشتے داروں کا حق نہیں۔ یہ سب انسانوں، اللہ کی مخلوق ریاست پاکستان کے شہریوں کا بھی ہے۔ یا پھر آپ آئین پاکستان اور قدرت کے آئین میں تبدیلی بلکہ ترامیم کر لیں۔ ویسے قدرت کا بھی ایک اپنا قانون ہے، اس کے لاگو ہونے سے ڈریں۔
روح میں گھور اندھیرے کو اترنے نہ دیا
ہم نے انسان کو انسان میں مرنے نہ دیا
(رام ریاض)