21 ستمبر 2018
تازہ ترین

قانون اور کاف نون قانون اور کاف نون

ظہیر الدین بابر کی رانا سانگا سے جنگ میں فتح کو برصغیر میں مغل حکمرانی کے قیام کا سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ رانا سانگا سے جنگ بابر کے لیے خود کشی کے مترادف تھی کیونکہ رانا سانگا نے ایک سازش کے تحت بابر کو ہندوستان بلایا کہ وہ دہلی میں قائم لودھی حکومت سے جنگ کرے۔ جب  باہمی جنگ سے لودھی اور بابر دونوں کمزور ہوں تو وہ دہلی پر حملہ کر کے دونوں کو شکست سے دوچار کرے اور پھر دہلی پر قبضہ کر لے۔ دو لاکھ سے زائد فوج کے لشکر کے باوجود رانا سانگا کو بابر نے شکست سے دوچار کیا اور یہ شکست اتنی مہیب تھی کہ ہندوستان میں اس کی طاقت اور اقتدار کا سحر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔ اگرچہ وہ خود تو جان بچا کر چٹور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا مگر اس جنگ نے اس  کے لشکر پر جو مایوسی مسلط کی وہ اس  سے کبھی پیچھا نہ چھڑا سکا۔ حتیٰ کہ جب اس نے دوبارہ بابر سے جنگ کی تیاریاں شروع کیں تو اس کے اپنے سرداروں نے اس جنگ کو خودکشی قرار دیتے ہوئے رانا سانگا کو زہر دے دیا جس سے وہ ۳۰ جنوری ۱۵۲۸ء کو راہی ملک عدم ہوا۔
تزک بابری میں ہے کہ جب بابر کو خبر ملی کہ رانا سانگا اس پر حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے تو اس کے لشکر پر مایوسی کا غلبہ تھا۔ لشکر میں شامل محمد شریف منجم سے جب پوچھا گیا کہ جنگ کے نتائج کیا ہوں گے اس نے کہا کہ چونکہ اس وقت مریخ مغرب میں ہے اس لیے نحس ہے۔ اس پیش گوئی سے فوج کے دل دہل گئے۔ بابر اس پیش گوئی کو خاطر میں نہ لایا۔ جب رانا سانگا کی فوج کی کثرت، اپنی فوج کی بددلی، عددی کمی اور لشکر کے نجومی کی مخالف پیش گوئی سے سارا پانسا پلٹتا دکھائی دیا تو بابر نے وہ فیصلہ کیا جس نے اس کی زندگی کو اور پھر ہندوستان کے مقدر کو بدل دیا۔ بابر تزک بابری میں لکھتا ہے کہ یہ جمادی الثانی کی ۲۳ تاریخ اور منگل کا دن تھا جبکہ میں ماحول کا معائنہ کر رہا تھا، خیال آیا کہ کیوں نہ شراب سے توبہ کر لوں۔ میں نے اپنے ضمیر کو آواز دی:
دُور ساز از جملہ مناہی خود را
پاک ساز از ہمہ گناہی خود را
یعنی اپنے آپ کو تمام برے کاموں سے دور اور گناہوں سے پاک کر لے۔ یہ عزم کر کے میں نے شراب سے توبہ کر لی۔ شراب کے تمام نقرئی اور طلائی پیمانے، صراحیاں اور دوسرا سامان تڑوا دیا اور جتنی شراب اس وقت چھاؤنی میں موجود تھی سب کی سب پھنکوا دی۔ میری توبہ کی خبر سن کر تین سو اشخاص نے اسی رات توبہ کر لی۔ بابا دوست چونکہ اونٹوں کی کئی قطاروں پر شراب کے بے شمار مٹکے لاد کر کابل سے آیا تھا اور یہ شراب بہت تھی، اس لیے اسے پھنکوانے کے بجائے اس میں نمک شامل کر دیا تاکہ وہ سرکہ کی شکل اختیار کر لے۔ جس جگہ بابر نے شراب سے توبہ کی اور شراب گڑھوں میں انڈھیلی، وہاں توبہ کی یادگار کے طور پر ایک پتھر نصب کرایا اور ایک عمارت تعمیر کرائی۔ اسی دوران بابر نے یہ ارادہ بھی کیا کہ اگر اسے اللہ تعالیٰ نے رانا سانگا پر فتح عطا کی تو وہ اپنی قلمرو میں مسلمانوں کو ہر قسم کا ٹیکس معاف کر دے گا اور اس معافی کا ساری قلمرو میں اعلان بھی کر دیا گیا۔
اب بابر حالات اور منجم کی پیش گوئی کے تحت لشکر میں پھیلی بددلی کی طرف متوجہ ہوا بابر نے تمام فوج کو یکجا ہونے کا حکم دیا اور ان سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں امرا اور سربراہان سپاہ کو مخاطب کر کے بابر نے کہا:
ہر کہ آمد بجہاں اہل فنا خواہد بود
آنکہ پائندہ و باقی است خدا خواہد بود
بنام نکو گر بمیرم روا است
مرا نام باید کہ تن مرگ را است
جو بھی اس دنیا میں پیدا ہوا ہے وہ موت کی لذت ضرور چکھے گا۔ بقا اور پائندگی صرف خدائی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ اگر میں ایک بڑے مقصد کے لیے مارا جاؤں تو سعادت کی بات ہے کیونکہ اس تن نے فنا ہی ہونا ہے! اللہ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کو یہ سعادت بخشی ہے کہ اگر وہ لڑتے لڑتے مارے جائیں تو شہید کہلائیں اور اگر کامیاب و کامران ہوں تو غازی کا لقب پائیں۔ مجھ سے تم سب لوگ اللہ کے نام پر عہد کرو اور قسم کھاؤ کہ موت کو  سامنے دیکھ کر میدان جنگ سے منہ نہیں موڑو گے اور جب تک جان باقی ہے لڑائی جاری رکھو گے۔
نتیجہ یہ تھا کہ فوج کی مایوسی جوش و جذبے میں بدل گئی اور ہونے والے معرکے نے  ہندوستان کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہ بابر کی توبہ اور اخلاقی اور مالی برائیوں سے اجتناب کا اثر تھا کہ مخالف اور دشمن ماحول اس کے لیے سازگار ہو گیا اور اس نے وہ کارنامہ کر دکھایا جس نے ہندوستان کے مستقبل کا نقشہ بدل دیا۔
قانون کا نفاذ از خود کوئی منزل یا مقصد نہیں بلکہ یہ معاشرتی نظم و ضبط اور ان اصولوں کی حفاظت کے لیے ہے جس کے بغیر کوئی بھی معاشرہ انسانی معاشرہ نہیں رہتا۔ نظام قدرت اس قانون کے نظام سے بالا بھی ایک ضابطہ رکھتا ہے جس کی حرکت اور نفاذ کے اپنے قواعد ہیں۔ آئین کے آرٹیکل ۶۲، ۶۳ کے نفاذ کے مطالبے اور عدالت کی طرف سے نفاذ نے ملکی سیاست کو اس راہ پر گامزن کر دیا ہے جس کی توقع یہاں کے عوام کئی دہائیوں سے کر رہے تھے۔ آئین کے آرٹیکل ۶۲، ۶۳ کے نفاذ کی زد میں کئی قیادتیں آ چکیں، کئی آ رہی ہیں اور کئی آنی ہیں۔ قانون بالا دست ہے اور بالا دست رہنا چاہیے مگر کاف نون یعنی امر کن قانون پر غالب ہے۔ ہمیں یہ امر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان آرٹیکل کے نفاذ کا ایک خود کار قدرتی نظام بھی کام کر رہا ہے۔
قانون سے تاحیات نااہل ہونے والوں کے لیے نہ اصلاح و حصول اہلیت کا دروازہ بند ہوا ہے اور نہ ہی جمہور کی طاقت و حمایت یا مذہب کے تقدس کے پیچھے چھپے لوگ اس گرفت سے محفوظ ہیں۔ کردار کی شفافیت اور صداقت و امانت، اس کا تعلق خالق سے ہو یا مخلوق سے، کسی وقت بھی حالات کا پانسہ پلٹ سکتی ہے اور قیادت کے منصب پر فائز لوگوں کے کردار کی خیانت و کذب انہیں کسی بھی وقت فطرت کے  احتساب کی گرفت میں لا سکتی ہے، چاہے اس کا حوالہ ملکی عدالت نہ بھی ہو! کیا ہماری قیادتیں اس عمل کا تاریخی شعور پیدا کر سکیں گی؟ انہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس قانون قدرت سے کوئی مفر نہیں۔ ہمیں اس قیادت کا انتظار ہے جو مالی اور اخلاقی لحاظ سے شفاف کردار کی حامل ہو۔ قیام پاکستان کے بعد کا سب سے بڑا سانحہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے۔ اس علیحدگی میں دیگر وجوہات کے علاوہ ایک سبب اس وقت کے حکمران یحییٰ خان کا کردار بھی ہے جس پر حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ گواہ ہے۔ جب  حضرت یونسؑ نے اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کی اور قوم کو احساس ہوا کہ پیغمبر کے قوم سے نکل جانے پر عذاب یقینی ہو جائے گا تو انہوں نے اجتماعی توبہ اور اصلاح کا فیصلہ کیا۔ یہ ایسی توبہ تھی کہ اگر کسی نے دوسرے شخص کا ایک پتھر چرا کر اپنی عمارت کی بنیاد میں استعمال کیا تھا تو اسے بھی بنیاد سے نکال کر اصل مالک کو واپس کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر آنے والا عذاب ٹل گیا اور قرآن حکیم نے اسے ایک قانون کے طور پر بیان کر دیا:
’’یونس ؑ کی قوم کی طرح (ان کے بعد) کوئی قوم ان کی طرح (سچی توبہ کر کے) ایمان کیوں نہ لائی کہ جب قوم یونس نے (سچی توبہ کر کے) اظہار ایمان کیا تو ان پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا گیا اور ایک مدت تک انہیںاچھی زندگی بھی عطا کر دی گئی۔‘‘ (یونس، ۱۰:۹۸)