17 نومبر 2018
تازہ ترین

قائدؒ ہم شرمندہ ہیں قائدؒ ہم شرمندہ ہیں

11ستمبر کو بانیٔ پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کی  70ویں برسی تھی، لیکن جس طمطراق سے 6 ستمبر کو یوم دفاع اور یوم شہدا منایا گیا، کاش اسی طرح سے بابائے قوم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا۔ پوری پاکستانی  قوم کی طرح ہمیں بھی یوم دفاع اور یوم شہدا کے جوش وخروش پر فخر ہے، ہم نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا، مگر افسوس یہ کہ صرف چند دنوں بعد بابائے قوم کے یوم وفات پر خاموش ہی رہی، قائدؒ ہم آپ سے شرمندہ ہیں، ناصرف یہ کہ ہم نے آپ کو بھلا دیا بلکہ آپ کے عطا کردہ تحفے، مملکت پاکستان کی حفاظت بھی نہ کرسکے، الٹا اس کا بیڑا غرق کردیا۔ آج وہ پاکستان کہاں ہے جس کا خواب آپؒ نے دیکھا تھا، قائدؒ آپ تو ہمیں انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی سے آزاد کرانا چاہتے تھے، ان دونوں قوموں کی ملی بھگت سے ہندوستان کے مسلمان سخت پریشان تھے، آپ نے طویل جدوجہد کرکے ایک نیا وطن حاصل کیا، تاکہ برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی اپنے طرز پر گزار سکیں۔ 
قائدؒ آپ نے 1913میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، کئی دفعہ حالات سے دلبرداشتہ ہوکر انگلستان چلے گئے، واپس آئے اور بالآخر علامہ اقبالؒ کے کہنے پر ہندوستان کو مستقل اپنا وطن بنالیا۔ ایک نئے وطن کی تحریک کے آپ رہبر و رہنما تھے، بلاشبہ آپؒ کی قیادت دنیا کے لیے مثال تھی، کئی ایک تاریخ دانوں، جس میں غیر ملکی، انگریز مورخ بھی شامل ہیں، نے آپؒ کو دنیا کے عظیم تر قائدین کی صف میں کھڑا کیا۔ یہ کچھ کم خراج تحسین نہ تھا، ’’ Stanley woolper‘‘جیسا تاریخ دان بھی آپ کی تعریف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتا۔ دنیا آپ کے کارناموں کی معترف ہے، مگر قائدؒ آپ نے رسول اکرمؐ  کے اصولوں کے مطابق نئے وطن کی بنیاد ڈالی تھی، آنحضرتﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع  میں دنیا کو ایک نیا آئین دیا تھا، کہ آج سے کسی کو کسی پرفوقیت حاصل نہیں ہوگی، نہ گورے کو کالے پر، نہ امیر کو غریب پر، نہ عربی کو عجمی پر۔ سب اس ریاست الٰہیہ میں یکساں حقوق رکھتے ہیں۔ قائداعظمؒ نے بھی 11اگست 1947 کو ریڈیو پر نشر ہونے والی تقریر میں یہی کچھ فرمایا تھا، کہ نئی مملکت میں نہ کوئی ہندو ہوگا، نہ مسلمان، نہ پارسی، نہ کوئی اور اقلیت، سب کے یکساں حقوق ہوں گے، ہمیں آج تک افسوس ہے کہ اس وقت کی افسرشاہی نے آپ کی تقریر میں سے اہم جملے حذف کروادیے، ان کے ارادے شروع سے ہی کچھ اور تھے، وہ لوگ غلامانہ ذہنیت کے مالک تھے، انہیں بھلا یکسانیت کیسے قبول ہوتی، شروع سے ہی آپ کے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازشیں تیار ہونے لگیں، آپؒ نے  تو اپنی جان پر کھیل کر پاکستان بنایا تھا، آپ ٹی بی کے مریض تھے لیکن اپنے ڈاکٹر سے یہی فرمایا کہ اسے راز رہنے دو، اگر انگریزوں کو معلوم ہوگیا کہ میں زندگی کی جنگ بھی لڑ رہاہوں تو وہ میرے مرنے کا انتظار کریں گے۔ اور پاکستان کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوپائے گا، زندگی نے آپ کو زیادہ مہلت نہ دی، 11ستمبر 1948، کو پاکستان کے وجود میں آنے کے صرف 13مہینے بعد ہی اس دنیائے فانی سے رخصت  ہوگئے،  پاکستان اس وقت سے ہی منجدھار میںتھا اور آج تک ہے۔ہم آج مذہبی جنونیت کا شکار ہیں۔ بم دھماکے، خودکُش حملے، انسانیت کا ضیاع، سب کچھ تو ہم دیکھتے رہے ہیں اور بجائے کچھ کرنے کے بیرونی دنیا کی غلامی کو ترجیح دی، اس لیے کہ ہمارے حکمران دولت سمیٹنے اور انا پسندی کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہے۔ 
آمریت نے عوام کے جمہوری حقوق پرڈاکہ ڈالا، 30سال لوگوں پر بندوق کے زور پر حکومت کی، سیاستدان بھی ان سے کم نہیں تھے، جمہوریت کے نام پر ملک کو لوٹا، اپنی تجوری بھری، ٹیکس لگاتے رہے، عوام گئے بھاڑ میں، ان کی بلا سے، آج ان کا نمونہ ہم سب کے سامنے ہے، کچھ تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے، اور باقی بھی جانے کی تیاری میں ہیں۔ اس ملک پر اللہ کا کرم ہے، جو آج تک چل رہا ہے، لولا لنگڑا ہی سہی، لیکن وجود قائم ودائم ہے، خدائے بزرگ وبرتر کی ہی چھتری ہمارے سروں پر نہیں ہوتی تو ہم کب کے خاکم  بدہن پتا نہیں کہاں ہوتے۔ آج بھی اس کی نیّا ہچکولے کھا رہی ہے، لیکن جس کا محافظ حق باری تعالیٰ ہو، اسے کون مٹاسکتا ہے۔ شاعر نے صحیح کہا تھا کہ:
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اللہ کی سرپرستی ہمارے ساتھ ہے، اسی لیے تو حکم الٰہی سے قوم کو فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ ، عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور عمران خان کی صورت عظیم شخصیات ملی ہیں۔ تینوں نے جمہوریت کی حفاظت کی قسم کھائی ہے، تینوں اپنے اپنے طریقوں سے ملکی معاملات کو سنبھالنے کی کوشش میں مصروف ہیں، نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ چند گھنٹے پہلے ہی انہوں نے تاجر برادری کو مخاطب کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ آپ ناجائز دولت کماکر کہیں بھی نہیں چھپ سکتے، ہم آپ کا پیچھا کریں گے اور ڈھونڈ نکالیں گے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار قوم کی فلاح و بہبود میں شب و روز مصروف عمل ہیں، ان کے فیصلوں سے کرپشن میں ملوث بااثر لوگ جیل پہنچے اور اب دوسرے بدعنوانوں کی باری ہے، جلد ہی قوم مزید خوش خبری سنے گی، وکلاء کو بھی چاہیے کہ وہ بلاوجہ عدالت کا وقت نہ ضائع کریں،  پیشی پر پوری طرح تیار ہو کر آئیں تاکہ مقدمات کا جلد ازجلد فیصلہ ہوسکے اور چور لٹیرے، اپنے انجام کو پہنچیں۔ ہمیں پاکستان کو بلندیوں کی طرف لے جانا ہے جہاں ہم بھی اقوام عالم میں سر اٹھا کر چل سکیں، آج ہماری کوئی قدر وقیمت نہیں، کوئی بھی ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، دعا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف مل کر ملک کی عزت میں اضافہ کرسکیں۔ قائدؒ ہم شرمندہ ضرور ہیں، لیکن تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ اپنی زندگی میں اور اپنی آنے والی نسل کو سبق پڑھا کر جائیں گے کہ قائدؒ کے خواب کی تکمیل کرنا ہے، اسے اصل پاکستان بنانا ہے، یہ سب کا فرض اولین ہے، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ (آمین)۔