14 نومبر 2018
تازہ ترین

قائدکا سبق ہم نے بھلا دیا! قائدکا سبق ہم نے بھلا دیا!

 گیارہ ستمبر 1948ء کا د ن اس دیس کے باسیوں کے سروں پر قیامت صغریٰ بن کر ٹوٹا جب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ستر برس قبل جب قائد اعظم منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر سوئے تو یہ فقط ان کے خاکی وجود کی ہم سے رخصتی نہ تھی بلکہ شاید یہ ان افکار و تعلیمات کی رخصتی کا بھی نقطہ آغاز تھا جو ایک جمہوری، روشن خیال اور ترقی پسند جناح کی پوری زندگی کی جدو جہد کا نچوڑ تھے۔ ملک کے بانی کے افکار و نظریات سے ہاتھ دھونے میں جس مستعدی و عجلت کا مظاہر ہ ہم نے کیا شاید ہی کسی اور قوم نے اس نوع کا کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔شاید اس وقت اقتدار کے کرتا دھرتا افراد جناح صاحب کی آنکھیں بند ہونے کے منتظر تھے کہ ادھر وہ ابدی نیند کے لیے اپنی آنکھیں موندیں اور ادھر اقتدار کے حصول اور اس میں حصہ دار بننے کے لیے صدیوں پرانی محلاتی سازشوں اور منصوبوں کو دوبارہ بروئے کار لایا جائے۔
 پچاس کی دہائی میں نام نہاد سویلین دور میں سرعت سے وزرائے اعظم کی آمد و رخصتی پر تو پڑوسی ملک سے پھبتی بھی کسی گئی کہ ہم اتنی جلدی دھوتی نہیں بدلتے جتنی جلدی پاکستان میں وزیر اعظم بد ل جاتا ہے۔ اس ہندووانہ جملے بازی سے بھلا ہم پر کیا اثر ہوتا کہ ہم کسی سے ایسے آئینی بندوبست پر اتفاق رائے کرلیتے جو بانی پاکستان کی جمہوریت پسندی اور قانون کی سربلندی سے لگا کھاتا ۔ ہم قصے کہانیوںمیں بیان کیے گئے ان سربکف مجاہدوں کی یاد سے زیادہ سرشار تھے جو چمکتی تلواروں کے سائے میں کشتوںکے پشتے لگا دیا کرتے تھے۔ ہمیں عسکریت پسندی ، تلوا ر ، خنجر،بھالا اور بندوق زیادہ پرکشش نظر آتے ہیں، مغرب سے آئے ہوئے جمہوری نظام میں ہمارے لیے ویسے بھی کوئی ایسی خاص دلچسپی نہ تھی اس لیے جمہوریت کا بوریا بسترگول کر کے ہم نے بندوقوں کے سائے میں جینے کو عافیت جانا۔ پاکستان کے لیے جناح صاحب کے وژن پر نئے غلاف چڑھائے گئے جس میں جمہوریت، قانون کی سربلندی اور آئین کی پاسدار ی نام کے اجزاء کو سرے سے ہی غائب کر دیا گیا۔ نظریہ پاکستان کی نئی تراکیب تراش کرکے اسے نئے قالب میں ڈھالا گیا۔ جناح صاحب کا جمہوری پاکستان اب دنیا میںفوجی حکمرانی کا مرکز تھا ۔ 
پاکستان ٹوٹنے کے بعد قائد کامتحدہ پاکستان تو روئے زمین سے مٹ گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے افکار ونظریات کے مٹنے میں بھی تیزی آگئی۔ چند سال کے جمہوری دور کے بعد جب پھر فوجی حکمرانی کو ہماری جنم جلی قسمت کو سدھارنے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا تو قائد کے نظریات کی بھی نئی صورت گری کی گئی۔ ضیاء کے ظلمت بھرے دور میں یہ اس قوم پر افشاء ہوا کہ جناح صاحب پارلیمانی جمہوریت کی بجائے صدارتی نظام کے حامی تھے۔ یار لوگ یہاں تک قناعت کرتے تو کچھ اچنبھا نہ تھا کہ جمہوریت میں 
صدارتی نظام بھی پورے زور و شور سے کرہ ارض کے کئی ممالک میں کار فرما ہے لیکن یہاں تو قائد جمہوریت کے 
ساتھ ساتھ اپنی روشن خیالی اور ترقی پسند سوچ سے بھی گئے۔ نظریہ پاکستان پر تقریباً کٹھ ملائیت کی ملمع کاری کر دی گئی اور پاکستان کا نصب العین دنیا کی جہادی تحریکوں کی پشت پناہی کا ٹھہرا۔ انتہا پسندانہ مذہبی سوچ کی ترویج و اشاعت پاکستان کے قیام کا جزو لازم بتایا گیا اور اس سوچ کے علمبرداروں کو ملک کی سرزمین ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر میسر آئی۔ اب قائد کو ایک ایسے مذہبی رہنما کے طور پر پیش کیا جانے لگاجس کی تصویر میں فقط مذہبی بودو باش کی کسر رہ گئی تھی وگرنہ ان سے وہ تما م باتیں اور قصے منسوب کر دیے گئے جو ان کے نظریات ، طرز سیاست اور طرز زندگی سے کسی طور لگا نہیں کھاتے تھے۔ قائد اعظم کے شہری آزادیوں، سویلین بالادستی، آئین کی سربلندی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق نظریات طاق نسیاں پر دھر دیے گئے اور پاکستان اب دنیا بھر میں ایک ایسی شناخت کا حامل بن چکا تھا جس میں انتہا پسندانہ سوچ زندگی کے ہر شعبے میں رچ بس چکی تھی۔
 جمہوری ادوار میں تعطل اور فوجی حکمرانی کے طویل ادوار نے پاکستان کی اصل شناخت کو مسخ کرنے کے ساتھ قائد کے نظریات و خیالات کا بھی گلا گھونٹ ڈالا جو پاکستان کو ایک فلاحی ریاست میں بدلنے کے لیے ان کے نخل فکر پر پھوٹے تھے۔ کسی قوم کا اپنے بانی کے نظریات و افکار سے دستبردار ہونے کے بعد جو برا حال ہوتا ہے اس کی شاید ہم سب سے بری مثال ہیںاور  اس کا خمیازہ ہم نوع بہ نوع کے مسائل کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔قائد نے اس ملک کے قیام کے روز اول سے عقیدے، رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر تفریق سے اس قوم کو خبردار کیا تھا۔ ہم نے اس کے قطعی طور پر بر عکس رویہ اپنایا۔ بنگالیوں کے معاملے میں تقریباً نسلی امتیاز کا رویہ اختیار کر کے نے آدھا پاکستان گنوا دیا۔ عقیدے کی بنیاد پر تفریق تو اب ایسی مضحکہ خیز اور بھونڈی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ ہمیں منافقت کے عالمی ریکارڈ سے نواز ا جانا چاہیے۔ ہمیں دنیا بھر میں اپنے لیے ایک سازگار ماحول چاہیے جس میں ہماری عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور ہمیں عزت کی روزی بھی ملتی رہے۔ اپنے ملک میں ہم اقلیتوں کے معاملے میں اس معیار کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں۔ ملک کے وسائل، اختیاراور اقتدار کے حقوق اکثریتی مذہبی گروہ کے نام پر محفوظ کرنے ہو چکے ہیں۔ اس گر وہ کے اندر بھی مسلکی بنیاد پر تفریق پورے شدو مد سے برتی جار ہی ہے ، یہاں تک کہ اقلیتی مسلک کے حامل افراد کو اپنی جان کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ 
پاکستان دو سو زائد ممالک کی ایک بین الاقوامی انجمن کا ایک رکن ہے لیکن ہم اسے دنیا سے الگ تھلگ ایک کنوئیں کی طرح رکھنا چاہتے ہیں جس میںموجود مینڈک پھدکتے پھرتے ہیں اور اپنی ٹراں ٹراں سے پورے ماحول کو ناگوار اور بوجھل بناتے ہیں۔ قائد اعظم کا وژن ایک ایسے جمہوری، ترقی پسند اور روشن خیال پاکستان کے بارے میں تھا جو بین الاقوامی برادری کا ایک متحرک او ر توانا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بسنے والوں کے ساتھ بلا تخصیص مذہب، رنگ اور نسل کے برتائو کرے۔ ہم دونوں محاذوں پر ابھی تک بری طرح ناکام ہوئے ہیں لیکن پھر بھی اپنی غلطیوں پر نادم ہونے کی بجائے ڈھٹائی سے اس پر قائم ہیں۔ ستر برس قبل قائد کی موت پر دل غم و رنج سے بوجھل تھے ، آج ان کے نظریات و افکار کو زندہ درگور ہوتا دیکھ کر شدت غم سے دل پھٹنے کو اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔