26 ستمبر 2018
تازہ ترین

قائداعظمؒ کا ویژن اور پاک افغان تعلقات قائداعظمؒ کا ویژن اور پاک افغان تعلقات

میڈیا اطلاعات کے مطابق پاکستان میں امریکی وزیر خارجہ کی آمد کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آئندہ چند دنوں میں پاک افغان تعلقات میں بہتری لانے کیلئے افغانستان کے مختصر دورے پر روانہ ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نائن الیون کے بعد بھارت کو افغانستان میں سیاسی اور سماجی محاذوں پر مکمل کردار دیے جانے کے بعد امریکا نیٹو اتحاد افغانستان میں امن قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے یا افغانستان کی سیاسی صورتحال مزید بگاڑ کا شکار ہوئی ہے اور اب امریکا افغانستان میں افغان مزاحمت پسند گروپوں سے معنی خیز بات چیت کے حوالے سے پاکستان سے کیا چاہتا ہے جبکہ پاکستان خود بھی افغانستان میں بھارتی موجودگی کے سبب افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشت گرد گروپوں، جن میں بیشتر بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ شامل ہیں، کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں پاکستانی عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ستر ہزار سے زیادہ افراد قربانی دے چکے ہیں۔ امریکا بھارت کو یکطرفہ طور پر نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل اور حساس ڈرون ٹیکنالوجی منتقل کر کے خطے بالخصوص افغانستان میں کس امن کا خواہشمند ہے۔ امریکا نیٹو اتحاد اور بھارتی اداروں کی افغانستان میں مؤثر موجودگی کے باوجود خود امریکی اخبارات کی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق طالبان افغانستان کے اکسٹھ فی صد علاقے پر اپنا ہولڈ قائم کر چکے ہیں چنانچہ پاکستان پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا کر اپنے علاقے میں امن قائم کرنے کے مشن پر بخوبی کام کر رہا ہے جبکہ بھارت پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اندرونی خلفشار پیدا کرنے میں پیش پیش ہے۔ اندریں حالات امریکا کو پاکستان چین سی پیک تجارتی کوریڈور کو شبہات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے خطے میں بھارتی اداروں کی سیاسی بدنیتی پر غور و فکر کرنا چاہیے، جس کے سبب خطے میں صورتحال بگاڑ کا شکار ہے۔
تاریخ کے جھروکوں سے پاک افغان تعلقات کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کے زمانے سے ہی بھارتی کانگریسی لیڈرشپ گاندھی جی اور جواہر لال نہرو کی قیادت افغانستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے صوبہ سرحد (موجودہ کے پی) اور قلات میں اندرونی سیاسی خلفشار پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ہے۔ یہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب وائسرائے 
ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے 3 جون 1947ء کے تقسیم ہند کے پلان کے تحت برطانوی پارلیمنٹ نے سابق صوبہ NWFP میں نوے فی صد سے زیادہ مسلم اکثریت کے باوجود ہندو کانگریس اور باچا خان کی خدائی خدمتگار مخلوط حکومت کے پیش نظر صوبہ سرحد کی بھارت یا پاکستان میں شمولت کے حوالے سے ریفرنڈم کا اعلان کیا۔ اِس ریفرنڈم میں کل ووٹوں کا پچاس فی صد سے زیادہ ووٹ لینا ضروری تھا۔ باچا خان، جنہیں ہندوستان میں سرحدی گاندھی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ صوبہ سرحد میں اُن کی مخلوط حکومت ہندو بھارت کی غلامی میں جانے کے بجائے پاکستان کے حق میں ووٹ دیگی، ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور اِس کے ساتھ ہی اعلان کیا کہ ریفرنڈم پاکستان اور پختونستان کے درمیان کرایا جائے۔ اس کی تشہیر نا صرف کابل ریڈیو اور بھارتی ہندو میڈیا میں کی گئی بلکہ سابق صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے دوران باچا خان اور بھارتی عبوری حکومت کے سربراہ جواہر لال نہرو اور گاندھی جی نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ سے کام لیتے ہوئے کابل ریڈیو سے صوبہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت کے خلاف بدترین پراپیگنڈہ کرایا گیا۔ یہ درست ہے کہ اِن منفی سیاسی حربوں کے سبب صوبہ سرحد میں 1946ء کے الیکشن میں پڑنے والے ووٹ کی نسبت ریفرنڈم میں 15 فی صد ووٹ کم 
پڑے، لیکن پھر بھی ریفرنڈم میں 51 فی صد سے زیادہ ووٹ کاسٹ ہوئے جن میں 99.02 فی صد پاکستان کے حق میں جبکہ بھارت کے حق میں صرف 0.98 فی صد ووٹ پڑے۔ چنانچہ تقسیم ہند کے پلان کے مطابق صوبہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت ممکن ہوئی۔
درج بالا تناظر میں جب تقسیم ہند اور قیام پاکستان کا وقت قریب آیا تو کابل ریڈیو کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کو ہوا دی گئی۔ اِسی حوالے سے کابل میں انگریز برطانوی انٹیلی جنس لنک آفیسر نے اپنے ایک خفیہ مکتوب میں اگست کے پہلے ہفتے میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو مطلع کیا ’’کچھ عرصہ خاموشی کے بعد کابل ریڈیو پر تقریروں اور افغان اخبارات میں مضامین کا سلسلہ 
دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جو پریشان کن ہے۔ یہ معنی خیز اتفاق ہے کہ پختونستان میں ازسرنو دلچسپی صوبہ سرحد صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر گردھاری لال پوری، جو پشاور میں ہندوستان ٹائمز کے نمائندے بھی تھے، کے کابل جانے کے بعد شروع ہوئی ہے۔ عام طور پر خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گردھاری لال کا گاندھی جی سے قریبی رابطہ ہے۔ ہندوستان ٹائمز کیلئے کابل سے بھیجے گئے مضامین میں اُس نے پختونستان کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے جو محض اتفاقیہ نہیں ہے‘‘۔ اس پس منظر میں جب قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ کی رکنیت کی قرارداد پیش ہوئی تو افغانستان وہ واحد برادر اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ وہ افغانستان میں بھارتی سیاسی لیڈرشپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ  سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اُنہوں نے پاک افغان تعلقات کی اُلجھنوں کو محسوس کرتے ہوئے نواب سعید اللہ خان کو اپنے ذاتی نمائندے کے طور پر افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کے دربار میں بھیجا۔ اس سے بہت سی غلط فہمیوں کا تدارک ہوا، جس کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان نے اقوام متحدہ میں اپنا منفی ووٹ واپس لے لیا۔ خطے میں دوسری حیران کن خبر یہ آئی کہ ظاہر شاہ نے اپنے ایک خاص معتمد مارشل ولی خان کو پاکستان میں اپنے پہلے سفیر کے طور پر 
کراچی بھیجا ہے، جن کا قائداعظم نے ذاتی طور پر خیر مقدم کیا اور یوں پاک افغان تعلقات میں تبدیلی کی ایک بڑی لہر سامنے آئی۔ پاکستان میں نئی حکومت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا دورہ کابل پاک افغان تعلقات میں بھارتی لابی کی جانب سے پھیلائی گئی اُلجھنوں کو دور کر کے تعلقات میں بہتری لانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت، جو ملک میں ڈیل اور این آر او کی شاطرانہ سیاست کے جال توڑ کر اقتدار میں آئی ہے، کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو قائداعظم محمد علی جناح کی فراست اور سیاسی بصیرت کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے سرے سے تشکیل دینا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ گزشتہ چند عشروں میں ملک میں سیلابی پانی کی طرح پھیلتی ہوئی میگا کرپشن، منی لانڈرنگ اور بیرونی و گردشی قرضوں کی بھرمار نے پاکستان کی معیشت کو اغیار کی غلامی کے دروازے پر لا بٹھایا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جرائم کو سیاست سے آلودہ کرنے والے حکمرانوں نے ملکی سیاسی حالات کو بد سے بدتر بنا دیا ہے، لیکن ایسے بدترین حالات میں بھی قائداعظم محمد علی جناحؒ کا ویژن نا صرف اندرون ملک حالات کی بہتری کی وجہ بن سکتا ہے بلکہ خارجہ امور سے وابستہ اُن کی فکر و نظر بھی دنیا بھر میں پاکستان کے خارجہ تعلقات میں بہتری کی لہر پیدا کر سکتی ہے۔ قائداعظمؒ کے آدرشوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو وہ دنیا بھر میں بین الاقوامی امور کے حوالے سے اچھائی کی ایک منفرد آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ گورنر جنرل پاکستان کے طور پر حلف اُٹھانے کے بعد قائداعظمؒ نے پاکستان کے پالیسی اصولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا ’’اندرون و بیرون ملک ہمارا نصب العین امن ہی ہونا 
چاہیے۔ ہم ہمسایہ ممالک اور بیرونی دنیا کیساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کیساتھ کھڑے ہیں اور کسی ملک کے خلاف ہمارے جارحانہ عزائم نہیں ہیں، لہٰذا ہم دنیا میں امن و خوشحالی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے‘‘۔ قائداعظمؒ اِس اَمر کا بخوبی ادراک رکھتے تھے کہ پاکستان کو اپنی سکیورٹی ترجیحات کے حوالے سے عالم تنہائی میں رہنے کے بجائے آزاد دنیا کیساتھ تعلقات بڑھانے اور پاکستان کا دفاع مضبوط بنانے میں ہی عافیت ہے۔ اُنہوں نے عرب دنیا کیساتھ تعلقات بڑھانے کیلئے مسئلہ فلسطین پر بھی اصولی اور حق و انصاف پر مبنی موقف اختیار کیا۔ رموز مملکت کے حوالے سے وہ ملک کو دیانت و امانت کے اصولوں پر گامزن اور اسلامی رفاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اِس حوالے سے وہ امیر اور غریب کے درمیان فاصلوں کو کم سے کمتر کرنے کیلئے سرمایہ داری نظام معیشت کی جگہ اسلامی نظام معیشت کو  فروغ دینا چاہتے تھے۔ ان کی اولین ترجیح ملک سے کرپشن، بدعنوانی، چور بازاری اور اقربا پروری کو آہنی ہاتھ سے ختم کرنے کیلئے پالیسی اپنانے کی جانب ہی مرکوز رہی۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی نئی قیادت جناح و اقبال کے ویژن کی جانب واپسی اختیار کر کے ملکی معیشت اور سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔
بقیہ: آتش گل