18 نومبر 2018
تازہ ترین

قائداعظمؒ کا خواب قائداعظمؒ کا خواب

وطن عزیز کے تمام حکمرانوں اور موجودہ لیڈروں کی تقریریں اور باتیں بلکہ اِن کے خوشامدیوں کی حرکات آپ بغور دیکھ لیں تو یہ تمام خود کو قائداعظمؒ کا حقیقی جانشین ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، آج کے لیڈروں کو اقتدار اور اپنے مفادات کا نشہ چڑھا رہتا ہے، یہ خود کو ہر قسم کے احتساب اور قانون سے ماورا سمجھتے ہیں، نمود و نمائش اور پروٹوکول اِن کا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ہر دور میں حکمران اِس سے گریز کرتے رہے کہ مالک کائنات نے اگر ان کو اقتدار کی مسند پر بٹھایا ہے تو عوام کی خدمت کے لیے، وہ یہ ماننے سے انکاری ہیں کہ اصل بات خدمت سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے، لیکن وہ ہر دور میں یہی سمجھتے رہے ہیں کہ کروفر سے آدمی لوگوں میں معتبر ٹھہرتا ہے، اُن کے تئیں بڑا بننے کے لیے جہازی گاڑیاں، شاہی محلات جیسے بنگلے اور لشکری پروٹوکول جزولاینفک ہیں۔ یہ خود کو بڑا ثابت کرنے کے لیے قانون کو کمزور یا باندی بنانے کے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ 
اِن عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے کہ شہرت اور عزت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شہرت تو ظالم کی بھی ہوسکتی ہے مگر تاریخ کے ماتھے پر عزت صرف عادل حکمرانوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ شہرت تو کسی دولت مند جاہل کی بھی ہوسکتی ہے مگر عزت صرف عالم فاضل کے مقدر میں ہی آتی ہے۔ شہرت تو ہر صاحب اقتدار کی ہوتی ہے مگر عزت صرف صاحب کردار کی، کی ہے۔ چنگیز خان نے ایک بار اپنے ساتھیوں سے پوچھا تھا کہ میرا نام تاریخ میں زندہ رہے گا تو خوشامدی، درباری تو خاموش رہے لیکن ایک صاحب عقل بول اٹھا کہ، جہاں پناہ اگر آپ کسی انسان کو زندہ چھوڑیں گے تو ہی کوئی یاد کرنے والا بھی ہوگا۔ حکمراں اگر عوام کو انصاف اور سہولتیں دیں گے تو ہی عزت پائیں گے۔ رہ گئی شہرت تو وہ ہر دور کے فرعون، ہلاکو کو بھی حاصل رہی ہے۔ شہرت اور خودپسندی بڑوں بڑوں کو نیست و نابود کردیتی ہے، لیکن تاریخ میں زندہ صرف نیک نام و عوام کے خدمت گزار ہی رہ پاتے ہیں۔
بصیرت سے محروم حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ تاریخ انسانی کے عظیم خلفاء راشدینؓ کی عزت پروٹوکول کے سائے میں یا محلات میں رہنے سے نہیں بلکہ رات کو پہرہ دینے سے بڑھی۔ حضرت ابوبکرؓ کو حکمرانی کے دور میں بھی کپڑے کے تھان کندھے پر رکھ کر بیچنے میں کوئی عار نہ تھی اور حضرت عمر فاروقؓ کو راتوں کو ضرورت مندوں کو تلاش کرنے اور بیت المال کے گم شدہ اونٹوں کو خود ڈھونڈنے میں کوئی تامل نہ تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ کو امارت سے غربت کے سفر میں کوئی تکلیف نہ تھی اور حضرت علیؓ کو ایک یہودی کی شکایت پر عدالت میں پیش ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ تھی۔ ہمارے حکمران کرایے کی گاڑیوں میں آتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں لوٹ مار کے بعد دولت کے انبار لے کر جاتے ہیں، یہاں تو کنگال آتے ہیں اور مال دار بن کے جاتے ہیں۔ 
ہمارے موجودہ لیڈروں کو اگر آپ دیکھیں تو غریب عوام پر ترس ہی آتا ہے۔ اِن لیڈروں کا طرز زندگی ملاحظہ فرمائیں۔ رائے ونڈ کے محلات  وسیع و عریض سیکڑوں ایکڑز پر محیط، سلطنت بلاول ہاؤس کی آرائش و تزئین اور بھٹو خاندان کی ہزاروں ایکڑ پر مشتمل سلطنت، عمران خان کا طرز زندگی اور بنی گالا کی سلطنت، چوہدریوں کا طرز زندگی اور گیلانی صاحب کی لوٹ مار کے قصے تو ابھی پرانے نہیں ہوئے، جو لیڈر/ حکمران پاکستان کے کسی ہسپتال میں علاج کروانا پسند نہ کرتے ہوں، جن کے بچّے پاکستانی اداروں سے تعلیم حاصل نہ کرنا چاہتے ہوں، جن کی شادیوں پر شاپنگ دشمن ملک سے کی جاتی ہو، جنہوں نے عوام کُش نظام میں کبھی حقیقی تبدیلی لانے کی کوشش نہ کی ہو، وہ ملک سے کیونکر مخلص ہوسکتے ہیں۔ ہمارے حکمران شہرت کے طالب ہیں، انہیں کون سمجھائے کہ شہرت کے لیے عوامی خدمت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ حقیقی حکمران کے مہنگی جہازی گاڑیوں، ہیلی کاپٹروں میں اور پروٹوکول کے ساتھ حرکت کرنا شوق اور مزاج میں شامل نہیں۔ 
ہمارے لیڈروں کی یادداشت کے لیے عرض ہے کہ قائداعظمؒ جو پاکستان چاہتے تھے، یہ کوئی مشکل فلسفیانہ بات نہیں بلکہ وطن عزیزکا عام شہری بھی اس سے اچھی طرح باخبر ہے کہ قائداعظمؒ کیسا پاکستان چاہتے تھے۔ شاعر مشرق نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور قائداعظمؒ نے جس عظیم ملک کے لیے شبانہ روز محنت کی اور لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر جس پاکستان کی جدوجہد کی، اس میں بادشاہ، چوہدری، سردار، میاں یا صاحب کا قانون نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا قانون نافذ ہوگا۔ ایسا اسلامی حقیقی قانون جو ہر ایک چھوٹے بڑے، امیر غریب کو عزت نفس، مساوات اور انصاف کی ضمانت فراہم کرے گا، ایسا پاکستان جس میں چند خاندانوں کی سیاسی، معاشی اجارہ داری نہیں ہوگی۔ یہ ملک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہوگی نہ ہی نسل درنسل حکمرانی کا کسی کو حق حاصل ہوگا۔ ہر شخص کو اس کی ذہنی و علمی، جسمانی، فکری و فنی صلاحیت کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے اور حکمرانی عوام کی ہوگی، عوام کے حقیقی اصلی نمائندوں کی ہوگی، اقتدار عوام کی خواہشوں اور امنگوں کے مطابق ہوگا، غیر ملکی طاقتوں کی کٹھ پتلیاں حکمرانی نہیں کریں گی۔ ایسا پاکستان جس میں یہ تفریق اور امتیاز نہیں ہو گا کہ نسل درنسل حکمرانوں کی اولادیں جونکیں بن کر عوام کا خون چوستی رہیں۔ ایسا پاکستان جس میں افراد کے بجائے ادارے مضبوط ہوں، انصاف ایسا کہ مستحق کو آسانی سے اس کا حق حاصل ہو، جہاں زندگی گزارنے کے لیے کسی چوہدری یا بااثر کی خوشامد یا نوکری نہ کرنی پڑتی ہو۔ یہ تھا وہ پاکستان جسے قائداعظمؒ نے حاصل کرنا چاہا اور حاصل کیا، لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجود شاعر مشرق اور قائداعظم کا خواب ابھی تک ادھورا  ہے۔ تشکیل پاکستان کے بعد تکمیل پا کستان کا حقیقی مرحلہ ابھی باقی ہے، ایسا پاکستان جہاں پر ایک حقیقی آزادی ہو، آگے بڑھنے کے مواقع یکساں ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں، یہ ہے قائداعظم کا پاکستان۔