21 اگست 2019
تازہ ترین

فیقا اور واٹس ایپ فیقا اور واٹس ایپ

ہمارے معاشرے میں بیٹھک اور تھڑے کو خاصی اہمیت حاصل ہے، جہاں لوگ فرصت کے لمحات گزارتے ہیں، آپس میں گپ شپ اور حالات حاضرہ پر کھل کر باتیں ہوتی ہیں، یہ جگہیں آج بھی معاشرتی رابطوں اور ایک دوسرے کے معاملات سے آگاہی کا سبب ہیں، تھڑے کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے، تاہم شہروں کے قدیم علاقوں میں آج بھی گلیوں اور بازاروں کی رونقیں تھڑے بازوں سے ہیں۔ ہزاروں کیفے، ریسٹورنٹ اور ہوٹل بھی تھڑے بازی ختم نہیں کرسکے۔ سیاسی گرما گرمی میں تھڑوں پر محفلوں میں خوب باتیں ہوتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا مستقبل، نوازشریف کی بیماری اور بیرون ملک روانگی کی چہ میگوئیاں، خواجہ برادران کی گرفتاری، مہنگائی، بیروزگاری جب کہ حمزہ شہباز اور مریم نواز میں سیاسی وراثت کے لیے کھینچاتانی تھڑے بازوں کے موضوع بحث ہیں۔ تھڑوں کی اس سیاست میں بھی کئی کردار دکھائی دیتے ہیں، جیسے افسانوی کردار فیقا کوچوان ہے۔ فیقے کی افسانوی داستان یوں ہے۔
تحریک آزادی زوروں پر تھی، فیقا کوچوان ریلوے اسٹیشن سے کچہری تک تانگہ چلاتا، اس کا معمول تھا وہ صبح ریلوے اسٹیشن سے کچہری جانے والے وکیلوں کو اپنے تانگے میں لے کر جاتااور یوںہی وکیل بابو اس کے تانگے پر کچہری سے اسٹیشن واپس آتے۔ تانگے پر سفر کے دوران وکیل آپس میں تحریک آزادی اور حالات حاضرہ پر باتیں کرتے اور فیقا غور سے سنتا، کوئی بات اسے سمجھ آتی اور کئی باتیں پلے نہ پڑتیں، پھر وہ سمجھ آئی اور سمجھ نہ آئی باتوں کے سرے ملاکر ایک مکمل کہانی بنالیتا۔ یہ کہانی وہ شام کو اپنے اڈے پر کوچوانوں کی بیٹھک میں سناتا، سارے کوچوان فیقے کی کہانی غور سے سنتے اور جو فیقا کہتا وہی ان کے لیے بڑی خبر ہوتی۔ 
یوںہی وقت گزرتا رہا اور فیقا ہر روز اپنے ساتھیوں کو نئی نئی کہانیاں سناتا رہا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ فیقے کو وکیل بابوؤں کی کوئی بات سمجھ نہ آئی، آج وہ تانگے میں بیٹھ کر زیادہ باتیں انگریزی میں کرتے رہے۔ فیقا کوچوان شام کو پریشان حال واپس اڈے پر پہنچا، ساتھی کوچوان اس کے چہرے کی اُڑی ہوائیاں بھانپ گئے، وہ سوچ رہے تھے آج کوئی بُری خبر ہے، فیقا ایسے ہی پریشان نہیں، فیقا بھی اپنے دوستوں کے تاثرات محسوس کرچکا تھا، ایک کوچوان نے حیرت سے پوچھ لیا، کیوں فیقے آج پریشان ہو؟ اس نے غمگین لہجے میں لب کُشائی کی، ہاں بات ہی ایسی ہے۔ فیقا قصہ گوئی کے لیے تیار تھا، بس ذرا ماحول بنا رہا تھا۔ فیقے نے ماتھے پر ہاتھ پھیرا، لمبی سانس لی اور کہنے لگا، آج اچھی خبر نہیں، فرنگیوں نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان نہیں بنے گا۔ فیقے کی زبان سے یہ بات کیا نکلی، جیسے سب پر سکتہ طاری ہوگیا۔ پریشانی کے عالم میں یہ بیٹھک آج جلدہی برخاست ہوگئی، بوجھل دل کے ساتھ سب وہاں سے اٹھ کر اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹ گئے۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ فیقے کے پاس آج کوئی کہانی نہیں تھی، بس اپنی لاج رکھنے کے لیے اس نے جھوٹ گھڑلیا۔یہ جھوٹ فوراً پکڑا گیا، جب اسی رات قیام پاکستان کا اعلان ہوگیا۔ اب فیقے کی قصہ گوئی اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق سب پرآشکار ہوگیا۔
آج سوشل میڈیا اور خصوصاً واٹس ایپ گروپس فیقے کے تانگے میں سفر کرنے والے وکیل بابوؤں کا کردار ادا کررہے ہیں، جس سے کئی فیقے کہانیاں بناکر تھڑے بازوں اور بیٹھکوں میں سجنے والی محفلوں میں سناکر اپنی اہمیت بڑھاتے ہیں۔ آج کے فیقے واٹس ایپ پر مصدقہ اور غیرمصدقہ اطلاعات کی تمیز کرنے سے قاصر ہیں، انہیں صرف یہ کھوج رہتی ہے کہ آج کوئی قصہ اُن کے علم میں آجائے اور وہ دوستوں پر اپنے علم اورآگہی کا جھوٹا رعب جماسکیں۔ معاشرے میں پائے جانے والے یہ فیقا ٹائپ کریکٹر کئی بار اپنی بات کی اہمیت بڑھانے کے لیے یہاں تک دعویٰ کردیتے ہیں کہ کئی بڑے افسر اُن کے دوست ہیں اور وہ انہیں بہت کچھ بتادیتے ہیں مگر وہ کسی دوست کا نام اور ساری باتیں نہیں بتاسکتے۔ فیقے جیسے یہ کردار ہی افواہ ساز فیکٹریاں ہیں۔ انہی فیکٹریوں کی مرہون منت سیاسی جوڑ توڑ، سیاستدانوں کی اہلیت، قبل ازوقت انتخابات کا امکان اور آئندہ صدارتی نظام جیسی باتیں بیٹھکوں اور تھڑوں پر لوگوں کی ٹولیوں سے معاشرے میں پھیل رہی ہیں۔
حیرانی کہ قصہ گوئی کے ماہر تو آئندہ حکمران جماعت اور وزیراعظم کا نام تک دعوے کے ساتھ بتادیتے ہیں اور اس کے لیے سارا روڈمیپ بھی ان کے علم میں ہوتا ہے اور وہ یہ جاننے کا دعویٰ بھی کردیتے ہیں کہ کب، کہاں، کیا ہونے والا ہے۔ ایسے کریکٹر ناصرف گلی محلوں میں اپنی بات کا سکّہ چلاتے ہیں بلکہ یہ لوگ مسند اقتدار پر براجمان شخصیات کے اردگرد بھی ہیں۔ اور انہی لوگوں کی کارستانی سے اہم شخصیات سے کئی غلط فیصلے ہوجاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے دیرینہ کارکن اکثر اپنی قیادت سے یہ شکوہ ضرور رکھتے ہیں کہ انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے اور یہ شکایت درست بھی ہے، کیوںکہ قیادت کے اردگرد جمع مخصوص لوگوں میں سے چند قصہ گو سب ٹھیک کی ایسی ایسی کہانیاں پیش کرتے ہیں کہ بڑے بڑوں کے لیے حقیقت اور فسانے میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ملکی سیاست میں آئندہ چند ماہ انتہائی اہم ہیں، احتساب میں تیزی آسکتی ہے، سیاسی جماعتوں کے اتحاد بنیں اور ٹوٹیں گے۔ ایسے میں سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ سے اِدھر اُدھر کی سچی جھوٹی خبریں لے کر کہانیاں بنانے والے فیقے اپنی افواہ ساز فیکٹریاں بھی چلائیں گے۔ تھڑوں سے یہ کہانیاں شروع ہوں گی اور رائے عامہ میں بڑا کردار ادا کریں گی۔ سچ کہ اندر کی خبر رکھنے والے خاموش رہتے ہیں اور قصہ گو اندر کی خبر کا لیبل لگاکر اپنا چورن بیچتے ہیں۔