19 ستمبر 2018

 فلاحی ریاست کا تصور فلاحی ریاست کا تصور

عمران خان اقبال اور قائد کے تصور پاکستان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے دعوے دار ہیں، بڑی اچھی بات ہے۔ فلاحی ریاست کا تصور اگر عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے پاکستان کے کروڑوں لوگوں کا فائدہ ہو گا۔ عمران خان کی کہی ہوئی باتوں پر ہم انہیں بار بار یاد دلاتے رہیں گے، لیکن ابھی ہم دیکھتے ہیں کہ قائد کا تصور پاکستان کیسا تھا اور اس کے لیے انہوں کون سے بنیادی اصول بیان کیے تھے۔ فلاحی ریاست سے مراد ایک ایسی ریاست ہے جو اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ پُر امن و پُرسکون زندگی گزار سکیں۔ ریاست کے مقاصد میں جہالت و ناخواندگی، غربت و افلاس اور معاشرے سے ناانصافی کا خاتمہ شامل ہوتے ہیں۔ اپنے شہریوں کو ایسے مواقع اور ماحول مہیا کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہوتا ہے، جس میں وہ اپنی فطری صلاحیتیں اُجاگر کر سکیں۔ ریاست تمام شہریوں کو تحفظ اور شہریوں کی بہتری کے لیے ذمہ داری لیتی ہے۔ ایک فلاحی ریاست اپنے شہریوں کے جانی و مالی تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتی اور اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرتی ہے۔ ایک ریاست اپنے شہریوں میں کسی قسم کا امتیاز نہیں کرتی، خواہ وہ لسانی، مذہبی، علاقائی امتیاز ہو یا اقتصادی و معاشرتی تفریق۔ پرانے زمانے میں ریاستیں صرف حکمرانوں کے مفاد تک محدود ہوا کرتی تھیں، آہستہ آہستہ ایسے روشن خیال انسان پیدا ہوئے جنہوں نے ریاست میں نئے تصورات پیش کیے جس سے انسانی زندگی میں بہتری آئی۔ انہوں نے ریاست کے نظام کو از سر نو ترتیب دیا اور لوگوں کے حقوق اور ریاست کے حقوق دونوں وضع کیے۔ انسان میں جمہوریت کی سوچ بڑھی اور ریاستی نظام میں بہتری آئی۔ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ریاست کے نظام میں ایک اور نیا تصور پیش کیا گیا، جسے فلاحی ریاست کہا جاتا ہے۔ ریاست نہ تو مطلق اچھائی ہے، جیسے اجتماعیت پسندوں کا خیال ہے اور نہ ہی لازمی برائی ہے، جیسے انفرادیت پسندوں کا خیال ہے۔ ہر ریاست کچھ کام کرتی ہے جو لوگوں کی سماجی اور معاشرتی ترقی اور دیگر عوامل سے مختلف ریاستوں میں مختلف ہوتے ہیں۔
قائد اعظم بھی پاکستانی ریاست کو ایسی ہی فلاحی ریاست بنتا دیکھنا چاہتے تھے، جس میں تمام شہریوں کے لیے خوراک، لباس اور رہائش کے انتظام کے ساتھ، بڑھاپے کے لیے پنشن، تمام شہریوں، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، کے لیے لازمی اور یکساں نظام تعلیم، مستحق شہریوں کے لیے مفت علاج کی سہولت ہو۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ فلاحی ریاست میں غربت تیزی سے کم ہوتی ہے، فلاحی ریاست میں عوام پر پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ قومیں تیزی سے غربت کے لکیر سے اوپر آئی ہیں جن کا ریاستی نظام بہتر ہے۔ قائداعظم بجا طور پر ایسے راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جو اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف، اپنی تاریخ فہمی اور تدبر کے حوالے سے اپنے زمانے پر اثرانداز ہوئے اور حالات کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کامیابی کا بڑا راز ان کے فہم میں پوشیدہ تھا۔ جہاں تک سماجی انصاف کے مسئلے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں قائداعظم کے خیالات میں اشکال کی ذرا سی بھی گنجائش موجود نہیں 
تھی۔ 1943ء ہی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں انہوں نے تنبیہ کر دی تھی ’’پاکستان میں عوامی حکومت ہو گی اور یہاں میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کر دوں جو ایک ظالمانہ اور قبیح نظام کے وسیلے سے پھل پھول رہے ہیں اور اس بات نے انہیں اتنا خود غرض بنا دیا ہے کہ ان کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ عوام کی لوٹ کھسوٹ ان کے خون میں شامل ہو گئی ہے۔ انہوں نے اسلام کے سبق بھلا دیے ہیں۔ حرص اور خود غرضی نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات کے تابع بنا کر موٹے ہوتے جائیں۔ میں گاؤں میں گیا ہوں، وہاں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے عوام ہیں جن کو دن میں ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں۔ کیا یہی تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟ اگر پاکستان کا یہی تصور ہے تو میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔۔۔‘‘ عدل عمرانی اور ایک عام مسلمان کی اقتصادی بہبود کے بارے میں قائداعظم کے یہ خیالات اپنی تشریح آپ ہیں۔ آج بھی یہ اتنے ہی برمحل ہیں جتنے اب سے نصف صدی قبل تھے۔ قیام پاکستان کی پہلی سالگرہ قریب تھی لیکن قائد اعظم اپنی علالت کے سبب سالگرہ کی تقریبات میں شرکت سے معذور تھے۔ اس موقع پر آپ نے قوم کے نام پیغام میں فرمایا ’’پاکستان کا قیام ایک ایسی حقیقت ہے جس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ دنیا کی ایک عظیم ترین ریاست ہے۔ اس کو سال بہ سال ایک نمایاں کردار ادا کرنا ہے اور ہم جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے ہمیں ایمان داری، مستعدی اور بے غرضی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا ہو گی۔‘‘
قائد ایک ایسی فلاحی مملکت کے لیے کوشاں تھے جس میں ملک کے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود ممکن ہو خاص طور پر ان کیلئے جو پس ماندہ اور غریب علاقوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں کہا تھا کہ اب یہاں کوئی بھی پہلے دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری نہیں ہے اور سب شہری بلا تفریق رنگ، نسل یا مذہب برابر کے حقوق کے حامل ہیں اور اسی جذبہ کے تحت ہم نے کام شروع کرنا ہے۔ تاریخ پر نگاہ دوڑاتے ہوئے ہم قائداعظم کی ایک متاثر کن اور مخلص و لگن کے حامل رہنما کے طور پر غیر معمولی خصوصیات دیکھ سکتے ہیں، جن کے نزدیک عوام کی فلاح و بہبود ان کی جدو جہد کا سب سے اہم مقصد تھا۔ ذاتی حیثیت میں بھی قائد نے انتہائی نظم و ضبط کی حامل زندگی بسر کی اور ایک بے داغ کردار پیش کیا، جس کے باعث وہ سب سے آگے رہتے ہوئے قوم کی رہنمائی کرنے میں کامیاب رہے۔ قائد اعظم کی جدوجہد کی بنیاد ایک ایسا ملک قائم کرنے پر تھی جس میں رنگ، نسل اور عقیدے سے قطع نظر تمام آبادی کو یکساں اقتصادی مواقع اور سماجی انصاف میسر ہو۔ ان کی سیاسی فہم و فراست کے نتیجہ میں ایک زیر نگیں اور بے سمت اقلیت میں سے ایک قوم کے علاوہ جدید قومی ریاست کی تشکیل میں کامیابی حاصل ہوئی۔
بتایا جاتا ہے کہ حقیقی جمہوریت پسند ہونے کے ناتے قائداعظم نے جمہوریت کو نوزائیدہ مملکت کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ قرار دیا۔ انہوں نے قیام پاکستان کے فوراً بعد نئی ریاست کی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غرض اور مقصد یہ ہونا چاہیے کہ عوام کی خدمت کیسے کی جائے اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے طریقے وضع کیے جائیں۔ 11اگست 1947ء کو انہوں نے قرار دیا کہ اگر ہم پاکستان کی عظیم مملکت کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو دوسرا کوئی حل نہیں ماسوائے اس کے کہ لوگوں اور خصوصاً عام آدمی اور غریبوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے۔ قائداعظم کے خواب ایک ایسے پاکستان سے متعلق ہیں جو مساوی حقوق کی حامل جمہوریت اور جو دولت اور وسائل کی تقسیم کے یکساں مواقع بہم پہنچاتا ہے تاکہ عوام کو مسرور، خوشحال اور با مقصد زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکے۔ عمران خان کو قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان کے عوام کو با اختیار اور ملک کو سماجی فلاحی ریاست بنانے کیلئے سر توڑ کوشش کرنا ہو گی۔ انہیں اپنی سمت صرف اور صرف عوامی بھلائی کی کاموں کی طرف کی طرف رکھنا ہو گی۔ تعلیم اور صحت کے ساتھ اپنی چھت کا ایجنڈا ان کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، اس میں وہ کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہم سمجھیں گے وہ اپنے دعوے میں سچے تھے، ورنہ فراموش حکمرانون کی تاریخ ایک اور حاکم کا اضافہ ہو جائے گا۔