17 نومبر 2018
تازہ ترین

فساداتِ ہندو و مسلم، زمیندارؔ کے رویہ میں تغیر فساداتِ ہندو و مسلم، زمیندارؔ کے رویہ میں تغیر

(14 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
عقل مند شخص وہی ہے جو اس قسم کے جھگڑوں اور فسادوں کو عام ہندوئوں اور مسلمانوں کے فسادات نہ قرار دے بلکہ انہیں جاہل عوام کی باہم آویزی سمجھ کر ان اسباب و وجوہ کی تلاش میں سرگرم ہو جائے جن سے وہ افسوسناک واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے اور مسلمان اور امرت سر کے واقعات اس کے شاہد ہیں کہ جب فسادات کے بعد دونوں قومیں گلے ملنے لگتی ہیں تو مطلب پرست اور خود غرض لوگ ان کے رہنما بن کر دونوں کے اتحاد میں خلل انداز ہوتے ہیں۔ کبھی دوسری قوم سے ناقابل قبول شرایط تسلیم کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی اپنی قوم کو اڑے رہنے پر اشتعال دلاتے ہیں۔ یہ لوگ ملک کے اصلی دشمن ہیں جب تک ان کا قلع قمع نہ کیا جائے گا اہل ملک آرام سے نہیں رہ سکتے۔ ہم بلاخوف تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوئوں کے معاملے میں پنڈت مدن موہن مالوی، سوامی شردھا نند، پرتاپؔ، بندے ماترمؔ، کیسریؔ، ملاپؔ، تیجؔ اور ان کے مداحوں اور مربیوں کارویہ یہی رہا ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا۔ اگر یہ حضرات اور یہ اخبارات آج بھی چاہیں تو ملک کے اتحاد کو واپس لاکر ہندوستان کی خدمت کر سکتے ہیں لیکن ان کادائرہ نگاہ بہت تنگ ہو چکا ہے۔ وہ صرف ہندوئوں کو طاقتور کرنا چاہتے ہیں، ان کی اخلاقی کمزوریوں کا علاج نہیں کرتے۔ کیا خود اینٹیں برسا کر یہ کہنا کہ مسلمانوں نے برسائیں سچائی اور شرافت ہے؟ کیا اپنی عورتوں کی عصمت دری کے جھوٹے اور بے بنیاد افسانے ساری دنیا میں مشہور کرنا سچائی، شرافت اور غیرت کا تقاضا ہے؟ کیا ناجائز ذرایع سے مسلمانوں کو پولیس کے حوالے کرانا شرافت اور اخلاق کی بات ہے؟ ہم دیکھتے ہیںکہ جتنی سنگٹھن کی تحریک ترقی کر رہی ہے اتنا ہی ہندو قوم کااخلاق تنزل کے گڑھے میں گر رہا ہے۔ کاش پنڈت مالوی اسی نکتہ پر غور کریں۔
ہم اپنے معاصرین سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیںکہ آپ زمیندارؔ پر تبدیلِ رویہ کا الزام عاید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھئے کہ آپ نے ہندوئوں اور مسلمانوں کے اتحاد کی کس طرح مٹی خراب کی ہے اور پھر زمیندارؔ کو دیکھئے کہ اس نے کس قدر صبر و تحمل سے مہینوں آپ کے جور و ستم برداشت کئے ہیں۔ اب کہ آپ کی اور آپ کے مقتدائوں کی اور انپ کی قوم کی حرکات حدِ اعتدال سے بہت تجاوز کر چکیں اور سر سے پانی گزر چکا تو زمیندارؔ نے زبان کھولی۔ اندھیر ہے کہ ہم آہ بھی کریں تو رسوا ہو جائیں اور آپ آئے دن ہمیں قتل بھی کریں تو چرچا نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبوبِ قوم ملک عبدالقیوم کا مکتوب
زمیندارؔ دربارِ خلافت پناہی میں
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے 
جناب ملک عبدالقیوم صاحب بی اے علیگ نے پچھلے دنوں قسطنطنیہ سے ایک مکتوبِ گرامی  زمیندارؔ کے نام ارسال کیا تھا جو ہدیہ قارئین کرام کیا جا چکا ہے۔ جب ملک صاحب موصوف نے دوران قیامِ قسطنطنیہ میں حضرت خلافت پناہی نائب رسولِ رب العالمین جناب عبدالمجید خان ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں شرف باریابی حاصل کیا تو دوسرے ضروری امور کے علاوہ جریدہ زمیندارؔ اور اس کے مالک و مدیر کی ناچیز خدمات کا بھی ذکر کیا جس پر حضرت خلافت پناہی نے نہایت مسرت سے ظاہر کیا کہ حضرت ان خدمات سے باخبر ہیں جو زمیندارؔ والوں نے اسلام کی خاطر بجا لائی ہیں۔ یہ اتنا بڑا شرف ہے کہ ہم اس کے لئے تشکر کے کافی الفاظ نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ ایسے قدر دان اور خدمت شناس خلیفہ اسلام کو مدت تک مسلمانوں کے سر پر قایم رکھے اور ہم کو توفیق دے کہ ہم خدا اور رسول اور اپنے اس اولوالامر کی اطاعت میں اپنے جان و مال سے دریغ نہ کریں، آمین۔
جناب ملک صاحب نے اپنا دوسرا مکتوب گرامی استقلال ہوٹل انگورہ سے ارسال فرمایا ہے جس کا ایک حصہ آج صفحہ اول پر درج کیا جاتا ہے اوربقیہ انشاء اللہ کل شایع ہوگا۔ اس سے قارئین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ ترکانِ زندہ دل اپنے عظیم الشان اور جلیل القدر رہنما کی قیادت میں بے سر و سامانی کے باوجود تمام دنیا سے اپنی شجاعت، اپنی سیاست اور اپنے تدبر کا لوہا منوا رہے ہیں۔
جناب ملک صاحب محترم اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت غازیِ اعظم مصطفیٰ کمال پاشا کی وہ معرکتہ الآرا تقریر جو حضرت نے افتتاحِ مجلسِ ملیہ کے موقع پر ارشاد فرمائی، ترکی زبان میں تھی۔ ملک صاحب نے اس تقریر دل پذیر کا ترجمہ بہت محنت سے کرایا ہے اور انشاء اللہ عنقریب تیسرے مکتوب کے ہمراہ وہ ترجمہ بھی ارسال کر دیں گے۔ قارئین کرام اس کے منتظر ہیں۔ تقریر کا ترجمہ مفصل شایع ہو گا۔
ملک صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ انگورہ سے رخصت ہو کر آپ اس کے شہر افیون (Afyon) قرہ حصار (Karahisar)، قونیہ، اطنہ (Atina)، مرسینہ (Mersyna) اور اس کے بعد بیروت اور دمشق ہوتے ہوئے بمبئی پہنچیں گے اور اثنائے سفر کے دلچسپ واقعات سے زمیندارؔ کے قارئین کی ضیافتِ طبع اور اضافہ معلومات فرماتے رہیں گے۔