16 نومبر 2018

فساداتِ ہندو و مسلم زمیندارؔ کے رویہ میں تغیر فساداتِ ہندو و مسلم زمیندارؔ کے رویہ میں تغیر

(14 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
 ہم جانتے ہیں کہ ان عام مسلمانوں کی رائے غلط تھی۔ ہم نے ہمیشہ فرزندان اسلام کی نیابت کا فرض نہایت بے باکی اور جرات سے ادا کیا ہے اور محض اسلام کے عروج و ارتفاع کیلئے ہندوئوں اور مسلمانوں کے اتحاد کے علمبردار بھی رہے ہیں، اب تک رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے لیکن ان عام خیالات و جذبات سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ہم نے بہت مدت تک اپنے ہندو معاصرین کی مسلم آزار روش سے تغافل کیا اور ہمیشہ طرح دیتے رہے۔ ہماری کوشش یہی رہی کہ کسی نہ کسی طرح وہی لوگ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں اور سالہا سال کے کئے کرائے کام کو تباہ نہ کریں تاکہ ملک ازسر نو متحد ہو کر آزادی ہند کے راستے پر گامزن ہو جائے۔
لیکن افسوس کہ پرتاپؔ، کیسریؔ اور ملاپؔ نے اپنے اختلاف انگیز رویہ کو نہ بدلا۔ پنڈت مالوی اور شردھا نند جی کے طرز عمل میں بھی کوئی فرق نہ آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوئوں کے اس وسیع الاثر پروپیگنڈا سے سارے ملک میںاتحاد ہندو و مسلم کی حالت خراب ہو چکی ہے۔ ہر جگہ ہندو لوگ سنگٹھن کی تحریک سے منظم و منضبط ہو کر اپنی مجموعی طاقتوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں گویا بتا رہے ہیں کہ ہم کمزور نہیں ہیں اور وقت پڑنے پر مسلمانوں کو اپنے زور بازو سے نیچا دکھا سکتے ہیں۔ ہندوئوں کی یہ برتری ہمارے سر آنکھوں پر۔ اس کا ثبوت دینے کی کیا ضرورت تھی ہم تو پہلے ہی ماننے کو طیار ہیں کہ آپ بڑے آپ کے بزرگ بڑے، آپ بہت اعلیٰ درجے کے ’’خشت انداز‘‘ اور ’’لٹھ باز‘‘ ہیں لیکن خدا کے لئے اپنے ان خصایص جنگی کو مسلمانوں پر نہ آزمایئے کہ اس کا نتیجہ اچھانہ ہوگا۔
آج یہ حالت ہے کہ ادھر اخباروں میں سب مسلمانوں کو بدمعاش اور قاتل اور ڈاکو اور تاریخی لٹیرے لکھا جاتا ہے ادھر رہنمایان ہنود دن رات اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے سے ’’اپنی امت‘‘ کو شہ دے رہے ہیں اور جہاں ہندوئوں کی طرف سے مار پیٹ ہوتی ہے وہاں حوصلہ افزائی کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اس پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اتحاد ہندو و مسلم کے بہت بڑے حامی ہیں۔ سوامی شردھا نند سہارنپور جاتے ہیں، ہندوئوں پر خوب تحسین و آفریں کے پھول برساتے ہیں اور فساد کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں کے سرپر ڈال دیتے ہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ سوامی صاحب نے حالات کی تحقیق نہیں کی، جو کچھ سنگٹھن والے ہندوئوں نے بتایا اسے الہامِ الٰہی سمجھ لیا اور اٹھا کر تیجؔ میں چھاپ دیا۔ ہم حیران ہیں کہ جو لوگ مذہب اور دھرم کے پیشوا و مقتدا ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ اس قدر آسانی سے غلط بیانی اور جانبداری کے مرتکب کیونکر ہو جاتے ہیں۔ جب پیشوایان مذہب کی یہ حالت ہے تو تا بہ دیگراں چہ رسد۔
اس کے علاوہ سوامی جی نے سہارنپور کے مسلمان کلکٹر اور کوتوال کو بدل دینے اور ان کی جگہ انگریز افسر مقرر کرنے کی سفارش کی گویا یہ ظاہر کیا کہ انہیں کسی ہندوستانی پر اعتماد نہیں خواہ وہ مسٹر حبیب اللہ خان جیسا بے شر اور بے تعصب آدمی ہی ہو لیکن انگریز کے قابل اعتماد ہونے کیلئے ان کے نزدیک صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ انگریزہے۔ سوامی جی کا یہ وفادارانہ اعتماد کم از کم ’’رائے بہادری‘‘ کا مستحق ہے۔
اگر سوامی صاحب فی الحقیقت اتحاد ہندو و مسلم کے حامی ہوتے تو سہارنپور پہنچنے پر ان کا رویہ اس سے بہت مختلف ہوتا۔ وہ کوشش کرتے کہ ہندو اور مسلمان اپنے اختلافات اور جذباتِ بغض و عناد کو دور کر دیں اور سہارنپور کی طوفانی فضا میں سکون پیدا ہو جائے لیکن انہیں تو آج سنگٹھن کے سوا کوئی چیز محبوب ہی نہیں۔ نہ ہندو و مسلم کا اتحاد عزیز ہے نہ ہندوستان کی آزادی کا مقصد مقدس عزیز ہے غرض اس تحریک پر تمام قومی فواید کو قربان کر دینا چاہتے ہیں۔
جب ہمسایہ قوم کے رہنمائوں او ر اخباروں کی یہ حالت ہو گئی ہو کہ وہ ہر جائز و ناجائز ذریعے سے مسلما کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں تو ہمیںپرتاپؔ اور بندےؔ ماترم ہی بتا دیں کہ آیا مسلمانوں کو مدافعت ضروری ہے یا نہیں؟ یہ سمجھنا ناانصافی اور ظلم ہے کہ ہنود کو تو ہر قسم کے جارحانہ اقدام کا حق حاصل ہے اور مسلمانوں کو مدافعت کی اجازت بھی نہ ہونی چاہئے۔ ہمارا خیال ہندوئوں اورمسلمانوں کی لڑائیوں کے متعلق ہمیشہ یہی ہے کہ اس قسم کے جھگڑے عوام میں خود بخود نہیں ہوتے بلکہ بعض شر انگیز طاقتیں انہیں اپنے مطالب کے مقاصد کی تکمیل کا آلہ کار بناتی ہیں۔ جب اس قسم کا فساد ہوتا ہے تو ہر قوم میں جو بدمعاش اور لفنگے بازاریوںکا عنصر موجود ہے اس کی بن آتی ہے۔ وہ مار پیٹ سے اپنے ذاتی جذباتِ انتقام اور لوٹ مار سے اپنے شخصی جذباتِ حرص و آز کی تکمیل کرتا ہے۔              (جاری ہے)