16 نومبر 2018
تازہ ترین

فساداتِ آگرہ،بدمعاش اور لفنگے ہندوئوں کی حرکتیں فساداتِ آگرہ،بدمعاش اور لفنگے ہندوئوں کی حرکتیں

(9 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
چنانچہ ایک مندر کو قلعہ بنا کر سنگٹھن کی فوج نے غریب نہتے مسلمانوں اور ان کے تعزیوں پر خشت باری کا ایک طوفان برپا کر دیا۔ حکام کے رویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے ہی مسلمانوں کی طرف سے بدگمان کر دیئے گئے تھے چنانچہ انہوں نے ہندوئوں کی خشت باری کی طرف سے اغماض کر کے صرف مسلمانوں کو منتشر کرنا مناسب سمجھا۔ اس کے بعد فائر بھی کئے گئے غرض رات بھر مسلمانوں کے سروں پر سنگٹھن کی برکات دھڑا دھڑ نازل ہوتی رہیں۔
اس کے بعد کے ایام میں بھی شہر کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر زندگی وبالکر دی گئی۔ بچوں، عورتوں اور ضعیفوں پر مظالم توڑے گئے۔ مفاہمت و مصالحت کیلئے مسلمان معززین کا وفد گیا تو ناشائستہ اور بدمعاش ہندوئوں نے ان کی توہین کی۔ مسلمانوں کی دکانیں لوٹ لی گئی، تین مسلمان شہید کر دیئے گئے، مندر میں خود آگ لگا کر اس کا الزام مسلمانوں کے سر تھوپ دیا گیا۔
ہمارے نامہ نگگار کو باوثوق ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ کربلا میں تعزیوں کو اور مسجد کو آگ لگا دی گئی اور حضرت شاہ محمدی فیاضؒ کے مزارِ پرانوار کو کہ مرجع خلائق ہے، بے حرمت کیا گیا اور غلاف کی چادریں جلا دی گئیں۔ ان تمام ناقابل برداشت مصائب کے باوجود یہ حالت ہے کہ 53 مسلمان گرفتار کر لئے گئے ہیں اور ان کی ضمانت وغیرہ میں سخت رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ ہمیں تو ارباب حکومت کی اس ناقابل رشک معاملہ فہمی پر حریت ہے کہ وہ اس قسم کے جماعتی مقدمات میں ہندو حکام کو مامور کرتے ہیں حالانکہ موجودہ کشاکش کی حالت میں بااختیار ہنود کا کوئی فیصلہ مسلمانوںکیلئے منصفانہ نہیں ہو سکتا۔ ایسے مقدمات کیلئے تو وہ تین مختلف المذاہب ججوں کی جماعت مقرر ہونی چاہئے۔ لیکن حقیقت وہی ہے جو ہم پہلے بھی بارہا لکھ چکے ہیں کہ ہندو معززین کا اثر کام کر رہا ہے، ہندو اخبارات کا پروپیگنڈا کام کر رہا ہے، ہندوئوں کی فطری حق پوشی اور سفاہت کام کر رہی ہے، مسلمانوں کی مخالفت کا جذبہ کام کر رہ ہے لیکن مسلمان ہیں کہ ان کو دنیا میں کوئی کام نہیں۔ کیا کیا یہ اندھیر نہیں کہ جھوٹ تو ’’شور مچا کر‘‘ سچ بن جائے اور سچ ’’خاموش‘‘ رہ کر جھوٹ سمجھا جائے؟
جتنے مقامات پر پچھلے دنوں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان فسادات ہوئے ہندوئوں نے ہر جگہ یکساں طریق کار اختیار کیا۔ وہی کوٹھوں پر چڑھ جانا اور وہی اینٹیں برسانا، وہی بازاروں میں مقابلے سے گھبرانا اور گھروں میں گھس کر وار کرنا، وہی اکے دکے مسلمانوں کو لاٹھیوں سے بے دم کر دینا، وہی بچوں، ضعیفوں، عورتوں پر ظلم ڈھانا۔ غرض یہ تمام فسادات اور ہندوئوں کی تمام حرکات اپنی تمام تفصیلات میں یکساں ہیں۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ سب ایک ہی زبان اور ایک ہی ہاتھ کے کرشمے ہیں جس نے اس بے چینی اور بے اطمینانی کے عہد سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہندوئوں کو مضبوط بنانے کا تہیہ کر لیا ہے؟ لیکن اس کو معلوم نہیں کہ اینٹوں، لاٹھیوں، بندوقوں اور لوٹ مار سے کوئی قوم کسی قوم پر اپنا رعب و اقتدار قایم نہیں کر سکتی اور بالخصوص مسلمانوں پر جنہوں نے آج تک خدا کے سوا کسی کا رعب تسلیم ہی نہیں کیا۔
ہمیں تو آج کل حکومت کا رویہ نہایت دلچسپ معلوم ہو رہا ہے۔ اگر اسی قسم کے فسادات ترکِ موالات کے زمانے میں ہو جاتے تو توپوں اور بندوقوں اور مقدموں اور سزائوں کی بھرمار سے تمام ہندوستان ایک محشرستانِ نالہ و فغاں بن جاتا لیکن آج ہندو اس قسم کی حرکات کر رہے ہیں تو ان کی طرف سے نہایت مربیانہ اغماض کیاجا رہا ہے۔ کیوں نہ ہو اگر ہندوستان میں رہ کر حکومت ہندوئوں کے ساتھ تعلقاتِ محبت و موانست پیدا نہ کرے تو اور کیا کرے۔ مسلمان تو چین سے لے کر مراکش تک پھیلے ہوئے آئے دن برطانیہ کے شہنشاہی اقتدار کو آنکھیں دکھایا کرتے ہیں۔ ایک ہندوئوں ہی کی قوم ہے جس کو انگریز اپنی محبوبہ بنا سکتے ہیں۔ سات سمندر پار کے عاشق کو کنارِ گنگا کی معشوقہ مبارک ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر شاستری کا بیان
ہمارے اعتدال پسند بھائی اب تک جس فریب آرزو اور جس سراب تمنا میں مبتلا رہے ہیں اس کی حقیقت کسی قوم پرست کی آنکھوں سے مخفی نہیں ہے۔ انہوں نے کانٹوں کو پھول سمجھنے کی کوشش کی ، انگاروں کو لالہ زار جان کر ان سے پیار کرتے رہے مگر محض دماغ کی سعی و جہد سے دنیا کے حقائق نہیں بدلتے۔ چنانچہ ان حقائق کا تلخ احساس انہیں گزشتہ دو تین سال کی مدت میں کئی دفعہ ہوا۔ تاہم ان کے انداز غور و فکر میں کوئی تغیر واقع نہ ہوا اگر ہوا بھی تو ان کے قوائے عمل صحیح راستے پر گامزن ہونے سے بدستور محترز رہے۔ محصول نمک کا اضافہ ایک زبردست تازیانہ تنبیہ تھا۔ اس تازیانہ کی ضرب نے انہیں بہت مضطرب کیا۔ خیال تھا کہ ان کے اوہام باطلہ کا طلسم ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا لیکن چند روز تک وقف اضطراب و بے تابی رہنے کے بعد پھر آرام و سکون کے ساتھ بیٹھ گئے اور ان سے مردانہ جدوجہد کی جو توقعات پیدا ہوگئی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ فیصلہ کینیا نے انہیں بہت زایدہ تڑپایا اور لوٹایا لیکن اس کے باوجود وہ کسی موثر طریق کار کے اختیار کرنے پر مائل نظر نہیں آتے۔ مسٹر شاستری نے انگلستان سے ناکام واپس آنے کے بعد جو بیان شائع کیا ہے وہ کسی قریبی اشاعت میں ہدیہ قارئین کرام ہوچکا ہے۔ اس بیان کو شروع سے آخر تک پڑھنے کے بعد صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ مسٹر شاستری اس ناکامی سے بہت متاثر ہیں اور اس وقت ان کی حالت ٹھیک ٹھیک وہی ہے جو ترک موالات کے نظام پر عمل پیرا ہونے سے پیشتر قوم پرستوں کی تھی۔        (جاری ہے)