19 نومبر 2018

فرانس میں تین اسلامی جرنیلوں کی شہادت فرانس میں تین اسلامی جرنیلوں کی شہادت

فرانس میں نائن الیون کے بعد سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں شدید متعصبانہ اور معاندانہ رویوں کا اظہار ہو رہا تھا۔ فرانسیسی اخبار چارلی ہیبڈو نے چند سال پہلے مسلمانان عالم کے جذبات مجروح کرتے ہوئے توہین رسالت پر مبنی خاکے شائع کیے، جس کے ردعمل میں اخبار کے دفتر میں فائرنگ سے کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ سکولوں میں مسلمان لڑکیوں کے حجاب پر پابندیاں لگائی گئیں۔ بعض آئمہ مساجد کو گرفتار کیا گیا۔ اب صدر فرانس عمانوایل میکراں نے انقلاب فرانس (جولائی 1789ء) کی یادگاری تقریب میں جو ورسائی کے مقام پر منعقد ہوئی، تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’حکومت فرانس مسلمانوں کو اپنے ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے مزید سولتیں فراہم کرے گی اور ان کی مذہبی آزادی کے لیے قانون سازی کی جائے گی کیونکہ لوگوں کو ہر طرح کی مذہبی آزادی فراہم کرنا فرانس کی شناخت ہے۔‘‘ صدر میکراں کا یہ اعلان فرانس کے 60 لاکھ سے زائد مسلمانوں کے لیے بہت خوش آئند ہے جو فرانس کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔
آج بہت کم لوگوں کو علم ہو گا کہ فتح اندلس (سپین) کے بعد اسلامی عساکر فرانس میں داخل ہو گئے تھے اور اسی نوے سال تک جنوبی فرانس اندلس کے ا سلامی صوبے اور اموی مملکت کا حصہ رہا تھا اور اس دوران میں تین اسلامی جرنیلوں نے فرانس میں لڑتے ہوئے شہادت پائی تھی۔ آئیے تاریخ کے اس ورق کو دیکھتے ہیں۔ طارق بن زیاد 92ھ/711ء میں جنگ بکہ جیت کر سپین کے بیشتر علاقے فتح کر چکے تھے۔ اگلے سال ان کے مربی والیٔ افریقیہ موسیٰ بن نصیر بھی لشکر کے ساتھ سپین میں داخل ہوئے اور اندلس کی بقیہ فتوحات میں حصہ لیا۔ موسیٰ شمال مشرقی سپین کا مشہور شہر سرقسطہ (Saragossa) اور اردگرد کے شہر وشقہ، لاردہ، طرکونہ اور برشلونہ (Barcelona) فتح کرنے کے بعد کوہ پیرے نیز (جبل البرانس) پار کر کے جنوبی فرانس میں داخل ہو گئے۔ وہ آگے فتح کے پھریرے لہراتے ہوئے قسطنطنیہ (استنبول) کے عقب سے حملہ آور ہو کر رومی سلطنت کے اس دارالحکومت کو فتح کرنا چاہتے تھے جو خلافت معاویہؓ میں سمندر کی طرف سے فتح نہیں ہو سکا تھا۔ قسطنطنیہ پر قابض ہو کر وہ دمشق پہنچنا چاہتے تھے۔ قسطنطنیہ کی راہ میں شمالی اٹلی، کروشیا، بوسنیا، سربیا اور بلغاریہ کے ممالک سے گزرنا پڑتا۔
اس وقت موسیٰ بن نصیر کی عمر 74 سال تھی۔ سیدنا خالدؓ بن ولید نے جب خلافت فاروقی میں عین التمر  (عراق) فتح کیا تھا تو وہاں مسیحی خانقاہ میں 40 لڑکے مسیحیت کی تعلیم پاتے پائے۔ انہی میں نُصیر بھی تھا جس نے اوروں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا اور موسیٰ انہی تابعی نصیرؒ کے فرزند تھے۔ جنوبی یورپ میں یلغار کے لیے موسیٰ کے پاس کل 30 ہزار مجاہدین تھے۔ جنوبی فرانس میں یلغار کے دوران میں ایک تابعی حبان بن ابی جبلہؒ نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر کہا: ’’کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے عقبہؓ بن نافع کے بارے میں کیا کہا تھا؟ آپ نے کہا تھا: عقبہ شہید نے اپنے پیچھے کا دفاع نہیں کیا تھا۔ کیا ان کے ساتھ کوئی دور اندیش شخص نہیں تھا؟ میں آج آپ کا دوراندیش ہوں۔ آپ آگے یلغار کیے جاتے ہیں جبکہ اپنے پیچھے کا دفاع نہیں کیا‘‘۔ موسیٰ ہنس کر بولے: ’’اللہ نے آپ کو ہدایت دی ہے‘‘۔ پھر موسیٰ نے اپنے گھوڑے کی باگ موڑ لی۔
جنوبی فرانس میں موسیٰ ناربون (اربونہ) فتح کرنے کے بعد حصن لوذون (Lugdania) اور ایوینون پر قبضہ کر چکے تھے جب پیپن آف ہیوسٹل نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ جنوب کو بڑھنا شروع کیا۔ موسیٰ نے ایوینون سے ناربون کا رخ کیا مگر جب وہاں پہنچے تو پیپن کے لشکر کو شہر کا محاصرہ کیے پایا۔ پیپن فوراً حملہ آور ہوا۔ شدید لڑائی کے بعد مجاہدین شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد جھڑپیں ہوتی رہیں۔ آخرکار پیپن مایوس ہو کر محاصرہ اٹھا لے گیا۔ پیرس جا کر اس نے یورپی بادشاہوں کی کانفرنس بلائی اور مسلمانوں کے خلاف متحدہ محاذ بنانا چاہا مگر مسلمانوں کا رعب اس قدر تھا کہ کسی نے ہامی نہ بھری۔ یوں دریائے رون تک جنوبی فرانس اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
موسیٰ بن نصیر سپین کی بعض مہمات میں مصروف تھے کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے یکے بعد دیگرے دو قاصد مغیث رومی اور ابونصر آ پہنچے۔ خلیفہ نے موسیٰ اور طارق کو فوراً دمشق پہنچنے کو کہا تھا، چنانچہ موسیٰ 95ھ میں اپنے بیٹے عبدالعزیز کو اندلس کا والی (گورنر) بنا کر طارق کے ہمراہ دمشق روانہ ہو گئے۔ عبدالعزیز بن موسیٰ کے بعد یکے بعد دیگرے ایوب لخمی، حرثقفی اور سمح بن مالک خولانی گورنر بنے۔ امیر سمح کا تقرر خلیفہ عمر بن عبدالعزیز بن مروان نے 100ھ میں کیا تھا۔ 102ھ/721ء میں سمح خولانی نے لشکر کے ہمراہ بعض سرکشوں کی سرکوبی کے لیے جنوبی فرانس کا رخ کیا۔ انہوں نے فرانسیسی شہر طولوز (طولوشہ) فتح کر لیا۔ ڈیوک آف ایکویٹین (اقیطانیہ) جس کا نام اوڈیس تھا، شکست کھا کر فرار ہو گیا اور پیپن سابق شاہ فرانس کے حرامی بیٹے چارلس سے صلح کر کے مدد مانگی جو پیرس میں نائب السلطنت تھا۔ وہ بت پرست مشہور تھا۔ چارلس ایک لشکر جرار لے کر آیا اور مسلمانوں کو طولوز کے پاس گھیر لیا۔ تب بیشتر اسلامی لشکر ناربون میں تھا۔ خونریز لڑائی ہوئی جس میں امیر سمح کاری تیر لگنے سے شہید ہو گئے۔ یہ یوم ترویہ ذوالحجہ 102ھ کا واقعہ ہے۔ جنگ طولوشہ میں ایک تہائی اسلامی فوج ختم ہو گئی تھی، باقی فوج کو عبدالرحمن بن عبداللہ غافقی سلامت واپس لے آئے۔ فوج نے انہیں قائم مقام امیر اندلس چن لیا۔
نئے امیر اندلس عنبسہ بن سحیم کلبی کو 103ھ/ 718ء میں خلیفہ یزید بن عبدالملک نے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے جنگ طولوشہ کا بدلہ لینے کے لیے 106ھ میں اربونہ سے 50 میل مغرب میں قرقرشونہ پر حملہ کیا۔ اہل شہر نے بعض شرائط پر اطاعت کر لی۔ اس طرح شبت مانکش (Septimania) کا پورا صوبہ مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا جس کا دارالحکومت ناربون (Narbonne) تھا۔ اسے ’’سبتمانیہ الاسلامیہ‘‘  بھی کہا جاتا تھا۔ امیر عنبسہ نے ڈیوک آف ایکویٹین اوڈیس کو شکست دے کر شمال کا رخ کیا اور سانس نامی شہر تک پہنچ گئے جو پیرس سے فقط 30 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ اس دوران میں شاہ چارلس نے 4 لاکھ کا لشکر جمع کر لیا تھا۔ عنبسہ کی فوج دشمن کے گھیرے میں آ گئی۔ شعبان 107ھ/ 722ء کی اس لڑائی میں امیر عنبسہ اور ان کے بعض ساتھی شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
112ھ/731ء میں عبدالرحمٰن بن عبداللہ غافقی کو دوبارہ بطور امیر اندلس مامور کیا گیا۔ انہوں نے جہاد فرانس کے لیے 50 ہزار کا لشکر تیار کیا اور یلغار کرتے ہوئے ایکویٹین (فرانس) پہنچ کر اوڈیس کو شکست دی جو میدان جنگ سے فرار ہو گیا۔ امیر عبدالرحمٰن نے ایکویٹین کا صدر مقام طولوز اور پھر مغربی فرانس میں برذیل (بورڈو) فتح کر لیا۔ اوڈیس نے ایک بار پھر شکست کھائی اور پیرس کی طرف بھاگا۔ اس کے بعد وسطی فرانس کا شہر پوئٹیر فتح ہو گیا، اور اسلامی فوج تورز کی طرف بڑھی جو پیرس سے 150 کلو میٹر پر ہے۔ اس دوران میں شاہ چارلس کی درخواست پر پوپ نے صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا تھا، چنانچہ پیرس کے دفاع کے لیے تمام یورپی بادشاہوں کے فوجی دستے چلے آئے۔ پھر مسلمانوں کو چار لاکھ کے متحدہ صلیبی لشکر کا سامنا کرنا پڑا۔ پیادہ مسیحی سپاہیوں نے بھیڑیوں کی کھالیں پہن رکھی تھیں۔ یہ جنگ بواتیہ (Poitiers) کے 20 کلو میٹر شمال مشرق میں شاتلرو کے میدان میں لڑی گئی۔ (شعبان 114ھ/732ء)۔ دس روز تک لڑائی ہوتی رہی حتیٰ کہ رمضان شروع ہو گیا۔ امیر عبدالرحمٰن غافقی خود اگلی صفوں میں لڑتے تھے۔ مجاہدین نے ہزاروں عیسائی قتل کیے۔ آخری روز ایک مسیحی فوج نے اسلامی لشکر کے عقب پر حملہ کیا جہاں مسلمانوں کا پوئٹیر سے حاصل کردہ کثیر مال غنیمت رکھا ہوا تھا۔ مسلمان مال غنیمت بچانے کی فکر میں لگ گئے۔ پیچھے سے چارلس نے حملہ تیز کر دیا۔ اس دوران میں امیر عبدالرحمٰن شدید زخمی ہو کر گر پڑے اور شہید ہو گئے۔ امیراندلس کا دم توڑنا تھا کہ اسلامی فوج نے بددل ہو کر پسپائی اختیار کی اور یوں فتح شکست میں بدل گئی۔
یورپی مؤرخین اس جنگ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے چارلس کو چارلس مارٹل (ہتھوڑا) کا نام دیا جو مسلمانوں پر ہتھوڑے کی طرح آ پڑا تھا۔ وہ اس جنگ کو ’’جنگ پوئٹیر‘‘ یا ’’جنگ تورز‘‘ کا نام دیتے ہیں کیونکہ یہ ان دونوں شہروں کے درمیان لڑی گئی۔ مسلمان مؤرخین کثیر شہداء کی اس جگہ کو بلاط الشہداء (شہیدوں کا میدان) کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ گبن برطانوی مؤرخ لکھتا ہے: ’’اگر مسلمان جنگ تورز (732ء) میں فتح یاب ہو جاتے تو آج پیرس اور لندن کے گرجوں میں گھنٹیوں کے بجائے اذانیں گونج رہی ہوتیں، اور آکسفورڈ میں بائبل کے بجائے قرآن کی تفسیر پڑھائی جاتی۔‘‘ یہ شکست اس لیے ہوئی کہ مسلمان مال دنیا کی محبت میں مبتلا ہو گئے تھے جیسا کہ سورۃ آل عمران میں ارشاد باری ہے: ’’تم میں سے کوئی دنیا چاہتا ہے اور کوئی آخرت چاہتا ہے‘‘۔ گبن نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’جنگ پوئٹیر نے ہمارے اجداد اور ہمارے ہمسایہ فرانسیسیوں کو قرآن کی دینی روشنی سے بچا لیا اور سلطنت روم کا تحفظ کیا اور فتح قسطنطنیہ کو بہت مؤخر کر دیا۔ اگر مسلمان پوئٹیر میں جیت جاتے تو ان کے آگے پھر کوئی نہ ٹھہرتا۔‘‘