16 نومبر 2018

فرانسیسی مسلمانوں کے مصائب! فرانسیسی مسلمانوں کے مصائب!


قادر خان یوسف زئی
شاید یہ فطرت انسانی ہے کہ وہ جس ماحول میں رہتا ہے، اس کے برعکس ماحول ملنے پر اُسے عجیب و غریب کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے۔ مستقل آباد افراد کو اپنے مسائل کے ساتھ ان کے حل کے لیے بھی مسلسل غور و فکر کی ضرورت رہتی ہے۔ فرانس کے شہر پیرس کے ایک افغان ریسٹورنٹ میں، میں اپنے میزبان کے ساتھ پاکستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثر حکمت عملی پر اور پیرس میں71 سال بعد کرفیو لگنے کے بعد فرانسیسی مسلم کمیونٹی کے تحفظات، اسباب و سدباب کوجاننے کی کوشش کررہا تھا، خوشبوئوں کے شہر پیرس میں دہشت گردی یا تشدد کا یہ واقعہ نیا نہیں تھا، بلکہ200  برسوں سے وہاں تشدد کے کئی واقعات رونما ہوچکے تھے۔ فرانس کے فوجی اور سیاسی رہنما نپولین بونا پارٹ پر 1800ء کے اواخر میں جب کہ بادشاہ لوئس فلپ پر 1858ء میں حملے کیے گئے، جو ناکام ہوئے۔ 1961ء میں چارلس ڈیگال پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اس کے ٹھیک ایک برس بعد 1962ء میں فرانس کی وزارت خارجہ کے دفاتر کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ تب سے 2015 کے آخر تک ایک محتاط اندازے کے مطابق تین درجن حملے ہوچکے تھے۔ یہودی النسل کے خلاف بھی فرانس میں نفرت پائی جاتی ہے۔
فرانس کے حوالے سے مسلم امہ میں ناراضی کا پہلو اُس وقت زیادہ نمایاں ہوا، جب ایک فرانسیسی جریدے نے توہین آمیز خاکے شائع کیے اور وہاں کی حکومت نے اسے اظہار رائے کی آزادی قرار دیا جب کہ دنیا بھر میں توہین آمیز خاکوں کی شدید مذمت کی گئی۔ یہ اتفاق تھا کہ میں اس واقعے کے بعد پاکستان سے جانے والی ایک ڈاکومینٹری ٹیم کے ہمراہ مختصر وقت کے لیے پیرس گیا تھا، جس میں مجھے فرانسیسی مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل سے آگاہی ہوئی۔ گو اُس واقعے کو چند مہینے گزر چکے تھے، جس میں سینٹ ڈینس کے شمالی مضافات میں جرمنی اور فرانس کے مابین فٹ بال میچ کے دوران اسٹیڈیم کے قریب تین دھماکے ہوئے تھے جب کہ پیرس کے بٹاکلان تھیٹر میں سو افراد کو یرغمال بنالیا گیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس میں پیش آنے والے ان واقعات کو (جس میں 150سے زائد افراد ہلاک اور 250 زخمی کے قریب ہوئے تھے) سب سے ہلاکت خیز مانا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے پے درپے واقعات کے بعد فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے اپنی تقریر میں قوم سے خطاب کیا، ملک کی سرحدوں کی عارضی بندش و ہنگامی حالات کے نفاذ کے ساتھ پیرس میں کرفیو لگادیا گیا۔ فرانس دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے لیکن وہاں مسلمانوں کے حوالے سے ریاست اور عوام میں اسلام فوبیا کا تاثر بہت نمایاں ہوا ہے، جس کی وجہ سے فرانسیسی مسلمانوں کو مسائل کا سامنا ہے۔
مغرب میں دہشت گردوں نے جس طرح اسلام کو بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے، اس سے مسلمانوں کی تکالیف میں روز بہ روز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ فرانس میں یورپ کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی کو گوناگوں مسائل درپیش ہیں، مسلمانوں کو خونی نوآبادیاتی تاریخ رکھنے والے فرانس میں اپنا مستقبل تشویش ناک نظر آتا ہے، کیوںکہ اُنہیں وہاں فرانسیسی باشندے نہیں بلکہ مبینہ دہشت گرد تصور کیا جانے لگا ہے۔ اُنہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ پیرس حملوں کے بعد سے مسلم کمیونٹی کے لیے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فرانس کی اکثر مساجد میں جمعے کے خطبے میں پیرس حملے کی شدید مذمت کی گئی تھی جب کہ فرانسیسی مسلمانوںکی مرکزی تنظیم کونسل آف مسلم فیتھ (CFCM) نے بھی دہشت گردی اور تشدد کی ہر ممکنہ شکل کی مذمت کی تھی۔
گو پیرس حملے میں ہر عمر اور مختلف مذاہب سے متعلق افراد نشانہ بنے تھے لیکن انتہا پسند تنظیم داعش کی جانب سے واقعے کی ذمے داری قبول کرنے کے باعث وہاں مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اضافہ ہوا۔ حالاںکہ داعش نے جتنا نقصان مسلمانوں کو دیا ہے، غیر مسلموں کے ہاتھوں پہنچائے گئے نقصانات اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ فرانس کی 66 ملین کی مجموعی آبادی میں 50 لاکھ مسلمانوں کو مساجد کی کمی کے باعث اپنے دینی فرائض ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔   گزشتہ سال فرانس کے ایک میئر نے بھی مسلمانوں کے لیے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’شہر میں مسلمان طلباء کی تعداد بھی ایک مسئلہ ہے۔‘‘ فرانسیسی مسلمانوں کو نئی مساجد پر حکومت کی جانب سے پابندی کا سامنا ہے۔ اس سے پیشتر اُنہیں مسلمان میتوں کی تدفین کے طریق کار پر اعتراض تھا کہ تابوت کے بجائے صرف کپڑے میں لپیٹ کر مُردہ کیوں دفن کیا جاتا ہے۔ فرانس سائوتھ آل لاکورنیئو میں مسلم کمیونٹی کے قبرستان کے لیے 4 ہزار میٹر جگہ الاٹ کی گئی تھی۔ اس علاقے میں بدھ مت کا ایک مرکز اور مورمانی کا گرجا گھر پہلے سے ہے، لیکن مسلم قبرستان کی مخالفت کی گئی۔ یہ قصبہ اس جگہ سے قریباً 25 میل دور واقع ہے، جہاں توہین آمیز خاکوں کی نمائش پر حملہ کرنے والے دو حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ پیرس میں حملوں کے بعد ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد دو ہفتوں کے اندر الہدیٰ ایسوسی ایشن اور اس سے ملحق مسجد سمیت 20 مساجد کو بند کردیا گیا تھا۔ فرانس کی سینیٹ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی کہ ان20 مساجد کو غیر ملکی ممالک سے مالی امداد ملتی ہے، جس کی مالیت 60 لاکھ یورو ہے۔
فرانس میں اسلام فوبیا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مسلم کمیونٹی کو مختلف ہدایات جاری کیں جاتی ہیں اور شکوک کے بادل ہمیشہ ان کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ وہاں مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا ہے، جس سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے، گویا انہیں مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کونسل آف مسلم فیتھ مسلم اماموں کی تربیت اور فنڈنگ اندرون ملک سے ہی کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے اور مسلم کمیونٹی کو یہ ہدایات بھی ہیں کہ وہ کسی مشکوک سرگرمی میں نظر نہ آئیں اور نہ ہی روابط رکھیں اور فرانسیسی مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں پر غور کریںاور کسی بھی مسئلے یا معاملے کو پیچیدہ و شدید بنانے سے گریز کریں۔ 
دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جس کے لیے ایسے افراد کو استعمال کیا جاتا ہے جو آسانی کے ساتھ دہشت گرد تنظیموں کے پروپیگنڈوں میں آجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کافی منفی رجحانات دیکھنے میں آتے ہیں۔ نظریات یا عقائد کے خلاف بلاروک ٹوک اظہار رائے نے نوجوانوں کے اذہان کو منتشر کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے نظریات کے پرچارک اس بات سے قطع نظر کہ اس کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں، اپنی رائے زنی سے حمایتیوں کے بجائے مخالفین کا اضافہ ضرور کرلیتے ہیں۔ یہاں بات صرف ایک یورپی ملک کی نہیں بلکہ فرانس کے 50 لاکھ مسلمانوں کے ساتھ دیگر ممالک میں مقیم مسلم کمیونٹی کی بھی ہے، جو اُن معاشروں میں امن و آشتی کے ساتھ رہ رہے ہیں، لیکن چند انتہا پسندوں کی کسی مذموم کارروائی سے براہ راست متاثر ہوکر مشکوک بن جاتے ہیں۔ فرانسیسی مسلمانوں میں خوف کی ایک بو رچ بس گئی ہے جسے پیرس کی خوشبوئیں ختم کرنے میں ناکام ہیں۔