17 نومبر 2018
تازہ ترین

غیر حقیقت پسندانہ روش کی شکار قوم غیر حقیقت پسندانہ روش کی شکار قوم

 تعجیل پسندی شاید ہماری فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔جذباتیت اور سطحیت میں ڈوبے ہوئے معاشرے کا شاید یہی مزاج ہوتا ہے جو ہمارے رگ و پے میں رچ بس چکا ہے۔ یہاں مسند حکومت پر براجمان صاحبان اقتدار سے لے کر گلی محلے میں گھومنے والا ایک عام فرد نتائج کو راتوں رات حاصل کرنے کی تگ و دو میں مبتلا نظر آتا ہے اور شاید اس کے پس پردہ ہمارے ذہنو ں میں بسی ہوئی صدیوں پرانی سوچ ہے کہ معجزوں کی بنیاد پر مقدر بد ل سکتے ہیں اور جاد وئی چراغ سے پل بھر میں محرومیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے اور مسائل چٹکی بجاتے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے جب سے مرکز میں حکومت سنبھالی ہے تعجیل پسندی کے کئی مظاہر قوم ملاحظہ کر چکی ہے، دوسر ی جانب قوم اس وقت ایسی کیفیت کا شکار ہے کہ ’’تبدیلی ‘‘ کے نعرے سے اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعظم عمران خان چند دنوں میں ملک و قوم کی کایا پلٹ کر رکھ دیں اور اگر ایسا کرنے میں ناکام ٹھہرتے ہیں تو یہ قوم سے کئے گئے وعدوں سے مکر جانے کے متراد ف ہوگا۔ اگر قوم اپنی تعجیل پسندی کے ہاتھوں مجبور ہو کر خان صاحب سے ایسے اقدامات کی متقاضی ہے کہ جو ملک کے بگڑے ہوئے حالات کو چند ہفتوں میں بد ل دیں تو اس میں تحریک انصاف کو بھی برابر کا قصور وار ٹھہرایا جا سکتا ہے جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے دنوں اور ہفتوں میں انقلابی اقدامات سے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے۔
  بلاشبہ وزیر اعظم عمران خان کی نیک نیتی اور حسن اخلاص پر شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ ان کے بیانا ت سے عزم او ر قوی ارادے جھلکتے ہیں، تاہم یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں پاکستان کے ناگفتہ بہ حالات کو سدھار کی پٹڑی پر نہیںڈالا جا سکتا۔ عمران خان اور ان کی جماعت نے انتخابی سیاست کی مجبوریوں اور مصلحتوں کے تحت قوم سے ایسے وعدے کر ڈالے جنہیں دنوں یا ہفتوں میں پایہ تکمیل تک نہیںمیںپہنچایا جا سکتا۔ انتخابی سیاست کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور اقتدار سنبھالنے کے بعد جب معروضی حالات سے واسطہ پڑتا ہے تو معلوم پڑتا ہے کہ اپنے انتخابی وعدوں کو عمل کے پیکر میں ڈھالنے کے لیے ایک طویل مدت درکا ر ہوتی ہے۔ عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کے کچھ اقدامات اس کے صحیح سمت میں گامزن ہونے کا تعین کرتے ہیں تو کچھ نمائشی اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کی اتنی بچت تو نہ ہو پائے لیکن اس کی ایک Symbolic Value(علامتی قدر) بہرحال ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ایک محاذ پر بری طرح ایکسپوز ہو رہی ہے جو ان کے چند وزراء کی جوشیلی اور جذباتی مزاج کا شاخسانہ ہے۔گزشتہ چند ایام میںکچھ ایسے تنازعات میں نوزائیدہ حکومت الجھ کر رہ گئی جس سے حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہونے کی بجائے اسے میڈیا خاص کر سوشل میڈیا پر شرمندگی و خجالت کا شکار ہونا پڑا۔ ان چند واقعات سے عیاں ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے چند وزراء اپنے رویوں اور بیانات سے خود تنازعات کو دعوت دیتے ہیں وگرنہ منقسم اپوزیشن میں ابھی کوئی ایسا دم خم باقی نہیں رہا کہ وہ اس کی حکومت کو چیلنج کر سکے۔ تحریک انصاف کے وزراء کرام بلا شبہ اپنی حکومت اور اس کے سربراہ کا دفاع کریں لیکن اس کے لیے دلائل اور اعداد و شمار ایسے پیش کریں جو مضحکہ خیز محسوس نہ ہوں۔
 اغلب امکان ہے کہ تحریک انصاف کے وزراء بھی عجلت میںمیں دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اپنے اقدامات سے قوم کو باور کر اسکیں کہ ان کی جماعت قوم سے کیے گئے وعدوں پر عمل در آمد کرانے کے لیے سرعت سے کام کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو سرعت سے نہیں بلکہ تدبیر اور فہم و فراست سے حکومتی معاملات سے نمٹنا پڑے گا۔ سیانے ــ’’جلد ی کے کام کو شیطان کا کام ‘‘ کہتے ہیں تو اس کے پیچھے لازماً حکمت و دانائی پوشید ہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے وزراء کی حرکات و سکنات پر بھی نگاہ رکھیں تو مستقبل میں غیر ضروری تنازعات سے اپنی حکومت کو بچا پائیں گے۔ اس ملک کے کروڑوں انسانوں نے عمران خان کے پلڑے میں اپنے سیاہ بخت مقدر کو بدلنے کا مینڈیٹ ڈالا ہے جس کا حصول غیر ضروری تنازعات میں الجھنے سے ناممکن ہو جائے گا۔ پاکستان کے طول و عرض میں بسنے والے کروڑوں افتادگان خاک بھی اپنے بے قرار اور بے چین مزاجوں کو شانت رکھیں اور حکومت وقت کو مناسب وقت دیں کہ وہ اپنے انتخابی وعدوں
کو حکومتی اقدامات کے ذریعے پروان چڑھا سکیں۔ ستر برسوں کے بگڑے ہوئے معاملات کو وہ ستردنوں میں ٹھیک ہونے کی غلط توقعات لگائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی گورننس کے معاملات بگاڑ کی ایسی کھائیوں میں اوندھے منہ پڑے ہیں کہ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے شاید پانچ سالہ حکومتی مدت میں ناکافی ثابت ہو۔ فقط معیشت کے شعبہ کو ہی لے لیں تو ملک پر قرضوں کا ایسا بوجھ لد چکا ہے کہ جس سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے قلیل المدتی حکمت عملی تو قطعی طور پر کارگر ثابت نہیں ہو سکتی چہ جائیکہ اس حکمت عملی سے کچھ وقتی ریلیف مل سکے۔
 قوم اپنی تعجیل پسندی کے ہاتھوں بلاشبہ مجبور ہے لیکن اس تعجیل پسندی سے سوائے کڑھنے کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اگرتحریک انصاف کو حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو اسے کچھ وقت بھی ملنا چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق ڈیلیور کر سکے۔ میری دانست میں تو عمران خان کا سو روزہ پلان بھی ایک غیر حقیقی اعلان تھا۔ ایک انتخابی نعرے کے دور پر تو اسے لیا جا سکتا ہے لیکن عملی طور پر سو دنوں حکومتی اقدامات کے خدو و خال بھی پوری طرح ابھر تے۔میری فہم کے مطابق عمران خان کی حکومت کو ایک ڈیرھ سال کے بعد باز پرس اور احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے کہ اس نے اپنے انتخابی منشور اور نعروں پر کس قدر عمل کیا۔ حزب اختلاف بھی صبر کا دامن تھام کر حکومت وقت کو مناسب موقع فراہم کرے اور سب سے بڑھ کر عوام بھی اپنی متلون مزاج طبیعت کو قابو میں رکھیں اور قلیل وقت میں کسی جوہر ی تبدیلی کی توقعات کو اپنے دل میں نہ پالیں۔ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی کوشش ہمیشہ نابکار ثابت ہوتی ہے اس لیے حکومت اور عوام اس بے کار کوشش سے باز رہ کر اپنی جوشیلی طبیعت اور تعجیل پسند کیفیت کوقابو میں رکھیں۔
بقیہ: قلم کہانی