24 ستمبر 2018
تازہ ترین

غربت، عدم مساوات کیخلاف تعاون کی ضرورت غربت، عدم مساوات کیخلاف تعاون کی ضرورت

عالمی تعاون کیلئے ان دنوں حالات سازگار نہیں ۔ بڑھتے تجارتی تنازعات،درآمدات پر ٹیرف کا نفاذ، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مشترکہ مفاد کے حامل مسائل پر تشویش کے فقدان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دنیا کثیر رخی نظام سے منہ موڑ رہی ہے۔ اس کے باوجود ترقی کے بارے میں مختلف پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کی امیدیں ابھی تک عالمی تعاون سے ہی جڑیں ہیں۔ جیسے مارشل پلان نے جنگ سے تباہ حال یورپ کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا تھا، اسی طرح اقوام متحدہ کے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز نے 47کروڑ سے زائد افراد کو انتہائی غربت سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایجنڈے سے بھی نتائج ملنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ ایجنڈہ 2030ء، ادیس ابابا ایکشن ایجنڈہ اور پیرس ماحولیاتی معاہدے کی مشترکہ استعداد ہے۔
تاہم یہ ایجنڈہ اپنا تسلسل روایتی فکروسوچ اور ذرائع سے جاری نہیں رکھ سکتا، خصوصاََ ان ممالک میں جنہیں مزید’’ترقی پذیر‘‘ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ وہ اوسط فی کس آمدنی کے مخصوص درجے سے آگے جا چکے ہیں۔ لاطینی امریکا اور غرب الہند کے جزائر میں یہ چیلنج نمایاں ہے، جہاں کئی ممالک فی کس جی ڈی پی کے زیادہ سے زیادہ درجے پر پہنچ چکے ہیں، مگر طویل المدت خوشحالی کی منزل حاصل کرنے میں انہیں کئی طرح کی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں کچھ ادارہ جاتی جبکہ بعض کا تعلق معاشرتی ساخت سے ہے۔عالمی برادری ترقی کے قابل عمل اہداف کے حصول میں ان ملکوں کی کیسے مدد کر سکتی ہے؟ ان ملکوں کے تجربات سے اسی نوعیت کے مسائل کے شکار دیگر ملک کیسے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان ملکوں کی چیلنجز کے جائزہ اور حل پر عمل درآمد کیلئے ہمیں ’’ تبدیلی میں ترقی ‘‘ کے نام پر ایک پالیسی اختیار کرتے ہوئے زیادہ موثر ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔ اس فریم ورک کے تحت چار شعبے فوری اور مسلسل توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔
سب سے پہلے متعلقہ ممالک کو ترقی کے تعین کا معیار تبدیل کرنا چاہیے؛ جس میں روایتی طور پر فی کس جی ڈی پی کو معیار بنایا جاتا ہے، مگر اس سے حقیقی ترقی کی راہ میں حائل پیچیدگیوں کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔ اس لئے نئی سوچ اور طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ خوشحالی اور سماجی ساخت کی خامیاں دور کرنے کیلئے اقدامات سماجی معاشی ترقی میں معاون ہو سکتے ہیں۔ محض فی کس آمدنی کے بجائے معیار زندگی، صحت، پائیدار ی ، تعلیم اور ترقی کی پیمائش کے دیگر اعدادوشمار ترقیاتی منصوبہ بندی میں کہیں بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔دوم، چونکہ انسانی ترقی کا ایسا کوئی معیار نہیں جس کا اطلاق ہر جگہ کیا جا سکتے، اس لئے تمام ملکوں کو اپنی ضروریات کے مطابق ترقیاتی سٹریٹجی ترتیب دینی چاہیے۔ موثر ترقیاتی منصوبہ بندی شراکتی عمل کا تقاضا کرتی ہے، جس میں اجتماعی بہتری کیلئے علاقائی اور مقامی فریقین کو بھی عمل کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔بہترین منصوبہ بندی وہ ہے جس میں قومی اہداف کیساتھ علاقائی معاشی حقائق تسلیم کرتے ہوئے واضح ترجیحات طے کی گئی ہوں، تاکہ عملدرآمد میں خطے کی تمام حکومتوں کا تعاون مل سکے۔ عالمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے انہیں 2030ء کے ایجنڈے کیساتھ سختی سے جڑنے کی ضرورت ہے۔
سوم، ترقیاتی عمل کے درمیان ترقی پذیر ملکوں کو فنڈز کے مسائل پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ جب معیشتیں بلند آمدنی کے سطح حاصل کر لیتی ہیں تو اکثر انہیں ترقیاتی امداد میں کمی کے مسئلے کے علاوہ دیگر عالمی ذرائع سے سرمایہ کے حصول میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ اکثر ملکوں کی ٹیکس جی ڈی پی کی شرح بہت کم ہوتی ہے، اس لئے داخلی وسائل کو ترقیاتی اخراجات کیلئے بروئے کار لانے میں انہیں سخت مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے اور سماجی معاشی صحت بہتر بنانے کیلئے انہیں عالمی تعاون سے مالیاتی اصلاحات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔چوتھی اور بات یہ ہے کہ عالمی تعاون کے فروغ کی نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی شعبوں میں علاقائی اور عالمی گورننس کے نظام کی جگہ دوطرفہ نظام لے چکا ہے۔ ملکوں کو موجودہ پارٹنرشپ مزید گہری کرنے اور تعاون کے نئے شعبے وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے آپشنز میں جنوب جنوب یا سہ رخی تعاون، علوم و فنون کی شیئرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، بااثر حلقوں میں ڈائیلاگ کی پالیسی شامل ہیں۔2030ء کے ایجنڈے میں پہلی بار یکساں طور پر قابل قبول اقدامات تجویز کئے گئے تاکہ تمام ممالک ایک ہی حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کیساتھ تعاون کر سکیں۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گیوٹرس اس حوالے سے ترقی کی اہداف کی ازسرنو تعریف کی تجویز دے چکے ہیں۔
ضروری نہیں کہ ہم تمام امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے سکیں؛ خصوصاََ ایسے دور میں جبکہ کثیر رخی یا اجتماعیت پر مبنی پالیسی کے ثمرات کو ہی سوالیہ نشان بنایا جا رہا ہے؛جبکہ ماحولیاتی خطرات ، آمدنی میں بڑھتی عدم مساوات، جدت اور روز بروز بدلتی ٹیکنالوجی کے باعث گلوبلائزیشن کے لئے ہمیں تعاون اور معاشی مساوات پر مبنی پالیسیوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ ماڈل کی کامیابی بہت ضروری ہے جس میں ہر کسی کا خیال رکھا گیا ہے۔(مضمون نگار یواین اکنامک کمیشن کی ایگزیکٹیو سیکرٹری ہیں)
(ترجمہ: ایم سیعد۔۔۔ بشکریہ خلیج ٹائمز)