21 ستمبر 2018
تازہ ترین

غذائیت کی کمی کے مسائل غذائیت کی کمی کے مسائل

کہا جارہا ہے کہ حکومت کی کارکر دگی پر سودن تک کوئی سوال نہ کریں، بالکل درست، حکومت کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے، یہ بھی درست، لیکن کیا حکومت جو کچھ کہہ رہی ہے اس پر بھی بات نہ کی جائے؟ جبکہ وزیر اعظم جناب عمران خان اپنی ہر تقریر یا قوم سے خطاب میں جو کچھ فرماتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی این جی اوکی تازہ تازہ پریزنٹیشن سے متاثر ہوئے ہیں۔ جس طرح انہوں نے اپنے ایک قومی خطاب میں ملک میں پیدا ہونے والے بچو ں کے قد چھوٹے رہ جانے پر این جی او کی طرح ہی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ملک کی گمبھیر صورت حال بتائی لیکن اس کا حل نہیں بتا یا۔ اسی طرح کی پریزنٹیشن این جی او کے ذریعے ہم گزشتہ بیس بائیس برس سے دیکھتے اور سنتے آ رہے ہیں۔ یقین کیجیے اعداد و شمار میں اضافہ ہی ہوا ہے، کسی مسئلے کا حل سامنے نہیں آیا۔ اس کی ایک وجہ تو بیرونی فنڈ بتایا جاتا ہے جس سے گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔ دوسری وجہ ہمارے ارباب اقتدار کی دلچسپی صرف کرسی صدارت پر بیٹھ کر فائیو سٹار ماحول کو ’’انجوائے‘‘ کرنا ہے، ورنہ بیس بائیس برس میں کوئی اصلاح تو ہوئی ہوتی، کسی جان لیوا بیماری کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک جھوٹ یہ بھی بڑے تواتر سے بولا جاتا ہے کہ یہاں لوگ ٹیکس نہیں دیتے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اس ملک کا ہر غریب شہری، بچہ، بوڑھا، خواتین و مرد ترقی یافتہ دنیا سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے بلکہ زبردستی لیا جاتا ہے۔ یہاں غریب آدمی بھی امیر کے برابر ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن اس کے بدلے اسے ملتا کیا ہے؟ اس کا اندازہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی رپوٹوں سے ہوتا ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 9 اور 38 حکومت کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو غذائیت پر مبنی خوراک بلا رنگ و نسل و مذہب فراہم کرے۔ کیا حکومت اپنی یہ ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ بد قسمتی سے اس ضمن میں حکومتی اہلکار مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے پائے جاتے ہیں، جب ان امور کی نشاندہی بین الاقوامی ادارے، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور میڈیا کرتا ہے تو ہم اسے ہنود اور یہود کی سازش قرار دے کر کاندھے جھٹک کر چل دیتے ہیں۔ آج جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں، اسے علم، شعور اور سائنس و ٹیکنالوجی کے عروج کا عہد کہا جاتا ہے۔ اس عروج یافتہ عہد میں بھی کروڑوں انسانوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اتنی خوراک بھی میسّر نہیں ہے کہ وہ جسم و جاں کے رشتے کو برقرار رکھ سکیں۔
کچھ ہی عرصہ پیشتر پاکستانی وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی مشترکہ سٹڈی میں کہا گیا تھا کہ زیادہ تر گھرانے غذائی ضروریات اور خوراک حاصل نہیں کر سکتے، جس میں مطلوبہ وٹامن معدنیات اور چھوٹے غذائی اجزاء شامل ہوں اور جو خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ خوراک و غذا نہیں لیتے کیونکہ انہیں غذائی افادیت کا شعور نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے76 فیصد گھرانے ناقص غذائیت کا شکار ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف سامنے آیا تھا کہ پاکستان میں 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جن کے بارے کہا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے یہ بچے کبھی ایک مکمل انسان نہیں بن پائیں گے۔ یہ بچے بڑے ہو کر اپنی اگلی نسل جیسی قامت اختیار نہیں کر پائیں گے، یعنی صرف پندرہ سال بعد پاکستان کی آدھی آبادی کے قد اپنی نسل کے باقی افراد کی نسبت چھوٹے ہوں گے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور تقریباً 21 فیصد غذائی ضروریات کے حصول میں قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی بینک کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 15 سال سے زائد عمر کے 50 فیصد افراد بیروزگار ہیں۔ بڑھتی ہوئی افراطِ زر مزید غربت کو جنم دے رہی ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مطابق غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہونے والا 10 فیصد اضافہ 2.2 فیصد یعنی 34 لاکھ مزید پاکستانیوں کو سطحِ غربت سے نیچے دھکیل دیتا ہے۔ ابھی غذائی اجناس کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ بتایا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر روز مزید 30 ہزار سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے گرتے ہیں۔ پاکستان میں 78 فیصد آبادی انتہائی غربت میں رہ رہی ہے، 82 فیصد غیر سائنسی علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ 60 فی صد بچے سکول نہیں جا سکتے۔ ہر سال 5 لاکھ خواتین زچگی کے دوران طبی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ایک نئی زندگی کو جنم دیتے ہوئے اپنی ہی زندگانی کھو دیتی ہیں۔ ہر ایک ہزار افراد کے لیے ہسپتال میں 0.6 بستر ہیں۔ 52 فیصد آبادی کے پاس بیت الخلا 
کی سہولت نہیں ہے۔ بجلی، پانی، ٹرانسپوٹ، ریلوے اور تمام دوسرے سماجی و صنعتی انفراسٹرکچر کے شعبے گل سڑ کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ یہ قومی مسئلہ حل ہونے کے بجائے ایک خونریز پیچیدگی میں داخل ہوتا جارہا ہے۔جس سے انتشار شدت اختیار کرتا جا رہاہے کیا ہماری سیاسی اشرافیہ کسی بڑئے زلزلے کی انتظار میں ہے کہ جب سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا؟
اب آتے ہیں اس تلخ حقیقت کی جانب جس کا شکار ہمارا غریب طبقہ ہے، بچوں کی 25 فیصد تعداد کی اسکولوں میں خراب کارکردگی کی وجہ کو اس شعبے میں مہارت رکھنے والے غذائیت کی کمی ( میلنیوٹریشن) بتاتے ہیں۔ غذائیت والی خوراک نہ کھانے سے بچوں میں پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ( بی بی سی) نے ایک طویل مطالعے کے بعد جاری رپورٹ میں کہا تھا کہ خوراک اور غذائیت کی کمی کے شکار بچے کچھ اس طرح متاثر ہوتے ہیں کہ بعد میں ان کے نقصانات کا ازالہ بھی نہیں ہوسکتا۔ ایک جانب تو وہ جسمانی طور پر چھوٹے اور پستہ قد رہ جاتے ہیں اور دوسری جانب ان کا دماغ مکمل طور پر فروغ نہیں ہوپاتا۔مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ غذائیت کی کمی میں مبتلا بچوں کا مسئلہ نہایت اہم ہے جس پر ترجیحی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ آٹھ سال کی عمر تک کے وہ بچے جو خوراک کی کمی کے شکار ہوتے ہیں ان میں پڑھنے کے دوران غلطی کرنے کا امکان 19 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے بچے عام فہم سادہ جملے پڑھتے ہوئے بھی غلطی کرجاتے ہیں۔اسی طرح یہ اثرات ان کی بلوغت تک بھی جاری رہتے ہیں۔‘ ناکافی غذائیت سے ترقی پذیر ممالک میں خواندگی ، تعلیمی اور شماریات کا بحران پیدا ہورہا ہے جو ترقی اور بچوں کی اموات روکنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔،صوبہ پنجاب میں ایک سروے میں بتایا گیا تھا کہ 39 فیصد بچے معمول سے چھوٹے قد کے ہیں اور 14 فیصد بچے خوراک کی شدید کمی میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب صوبہ سندھ کی 23 فیصد آبادی کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔صوبہ بلوچستان کی صورتحال سب سے ابتر ہے جہاں ایک سروے کے مطابق شدید غذائیت کمی کی شرح 52.2 فیصد ہے اور ماؤں میں خون کی کمی کی شرح 47 فیصد ہے ۔
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ جہاں لوگ مفلسی اور بھوک کے باعث ہلاک ہورہے ہیں وہیں اسی دنیا میں سالانہ 1.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہوجاتی ہے۔جبکہ خوراک کی عدم دستیابی اور ناقص خوراک کے استعمال سے دنیا میں یومیہ 20 ہزار بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں غذائی قلت کے شکار لوگوں کی اکثریت کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنی آمدنی کا سوفیصد حصہ صرف خوراک کے حصول پر صرف کرتے ہیں۔ دوہری ملازمتوں کے باوجود بھی اب ایک اوسط گھر کا بجٹ چلانامشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باعث صرف زندہ رہنے کی تگ ودو ہی رہ گئی ہے جبکہ جینا مشکل ترین امر بن چکا ہے جس پر حکومت غور کرنے کے لئے تیار نہیں ، معاشی فلاح کا تصور اْس وقت حقیقت بن سکتا ہے جب ایسے تمام افراد جنہیں کسی بھی دائرے میں کچھ اختیارات حاصل ہیں وہ اپنی ذمہ داریاں خلوص اور مخلوقِ خدا کی خدمت کے جذبے کے تحت پوری کریں۔ یہ جو کچھ ہم نے کہا ہے خوش قسمتی سے ملک کا وزیر اعظم اس سے واقف ہے مگر ترجیحات میں یہ مسلے شامل نہیں۔
بقیہ: عوام کی آواز