عورت مارچ بنا تماشا عورت مارچ بنا تماشا

یقین جانیے کہ مجھے ایک ہفتہ صرف یہ سوچنے میں لگا کہ لاہور میں ماں، بہنوں، بیٹیوں نے عالمی یوم خواتین پر جس انداز میں آزادی نسواں کے لیے ’’عورت مارچ‘‘ کیا، اس پر کچھ لکھا جائے کہ نہیں۔ خواتین کے اس تاریخی مارچ پر لاہور میں دو مختلف رائے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے نام نہاد لبرل اور سیکولر طبقے نے بہت پذیرائی کی کہ آخرکار پاکستانی خواتین بھی دنیا کے معیار پر ’’آزادی نسواں‘‘ کے حق میں آواز بلند کرنے میں کامیاب ہوگئیں، لیکن دوسرے طبقے نے اسے ’’مادر پدر آزادی‘‘ سے منسلک کرتے ہوئے شدید مخالفت کی، مخالفین کی رائے ہے کہ یہ کارنامہ مغرب زدہ خواتین کی ایماء پر مغرب کی ہی خوشنودی کے لیے انجام دیا گیا، جس سے پاکستان اور پاکستانی خواتین کی عزت و تکریم میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوسکا بلکہ جگ ہنسائی ہوئی۔ اس ’’عورت مارچ‘‘ کی شریک خواتین نے جس قسم کی تحریر سے آراستہ ’’پلے کارڈ‘‘ اٹھارکھے تھے، وہ ’’زبان اور ڈیمانڈ‘‘ ہماری خواتین کی ہرگز نہیں۔ پھر ’’حنا جیلانی اور منیزے جہانگیر‘‘ نے یہ راہ کیوں اپنائی؟ 
دوسرا سوال یہ کہ تمام خواتین پاکستانی معاشرے کی نمائندہ نہ ہوتے ہوئے بھی پاکستانی اور پڑھی لکھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں جو مختلف ’’این۔جی۔اوز‘‘ سے تعلق رکھتی تھیں، لہٰذا خواتین کے اس مارچ کو مغرب میں بڑی پذیرائی ملی، تاہم ’’مارچ‘‘ کی آرگنائزر شگفتہ کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا، ہم وہ نہیں چاہتے تھے، لیکن جب اجتماع ہو تو کسی کو روکا نہیں جاسکتا، ہم تو دنیا کی خواتین کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر ’’حقوق نسواں‘‘ کی بات کرنا چاہتے تھے، تاہم دلی طور پر وہ بھی خوش ہوں گی کہ ان کے ’’عورت مارچ‘‘ نے ہلچل مچادی اور انہوں نے اپنے سرپرستوں، معاونین اور شراکت داروں کے دل کی مراد پوری کردی۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں اس سے پہلے ایسا کچھ نہیں ہوسکا، لیکن اَب یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ آئندہ ’’8مارچ‘‘ ایسا نہیں ہوگا۔ 
میرے خیال میں ’’8 مارچ2020ء‘‘ میں اس سے بھی زیادہ بے حیائی کی جائے گی، آزادی نسواں کے نام پر لہٰذا ہمیں معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کے اندازے ابھی سے لگاکر منصوبہ بندی کرنا ہوگی، ورنہ اِک نیا طوفان بدتمیزی ضرور برپا ہوگا، پاکستان میں خالصتاً اسلامی معاشرہ نہ سہی لیکن یہاں بسنے والوں کی اکثریت اسلام کی پیروکار ہے، اس لیے وہ سب قائل ہیں کہ اسلامی حدود و قیود میں بہو، بیٹیوں، بیوی اور مائوں کو وہ سب کچھ دیا جائے جس کی وہ حقدار ہیں۔ ’’عورت‘‘ خواہ کسی بھی مذہب، طبقے اور معاشرے کی ہو، اسے مکمل عزت و احترام دیا جائے، کیونکہ کلمۂ حق پڑھنے کے بعد یہ ہر مسلمان کی ذمے داری ہے۔ اسلام نے دنیا کے تمام مذاہب اور معاشرے سے زیادہ حقوق اور تحفظ دیا ہے۔ 
سب جانتے ہیں کہ قبل از اسلام ’’حوا کی بیٹی‘‘ کے ساتھ جاہل معاشرے میں کیسا سلوک کیا جاتا تھا، یہ تو آقائے دوجہاں حضرت محمد ﷺ کی آمد اور تعلیمات کا نتیجہ ہے، جس میں ’’عورت‘‘ کو وہ حقوق ملے جو کسی دوسرے مذہب یا معاشرے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، پھر بھی ہماری ’’عورت‘‘ مطمئن نہیں، آخر کیوں؟ اگر اس سوال کا جائزہ لیا جائے تو آٹے میں نمک کے برابر ایسے خاندان ہیں جو مذہبی دوری اور مغرب کی پیروی میں وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں جس کی اجازت اسلام اور ہمارا معاشرہ نہیں دیتا، لہٰذا ایسی مٹھی بھر خواتین ’’باغی‘‘ ہوگئیں اور انہیں مغربی امداد پر پروان چڑھنے والی ’’این۔جی۔اوز‘‘ نے اپنے شکنجے میں پھنساکر اپنا الو سیدھا کرلیا۔
جہاں تک ’’لبرل ازم اور سیکولر ازم‘‘ کی بات ہے تو ایسی خواتین اور این۔جی۔اوز کو بھارت کی خواتین کی زبوں حالی سے سبق سیکھنا چاہیے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار ریاست (بھارت) میں ہر سطح پر ’’عورتوں‘‘ کی زندگی خطرے میں ہے، اسی لیے بھارت کو عورت کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا جاچکا ہے، کیونکہ جنسی زیادتی اور جبری مشقت ہی نہیں، وہاں اسے زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے، یعنی دنیا بھر میں سب سے زیادہ بھارت کی خواتین غیر محفوظ ہیں، وہاں ’’چلتی بس‘‘ میں بھی ’’عورت‘‘ کے ساتھ گینگ ریپ کی واردات ہوجاتی ہے اور مسافر تماشائی بنے رہتے ہیں۔ وہاں صرف چند برسوں میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم میں قریباً 85فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس طرح بھارت میں ہر گھنٹے بعد چار سے پانچ مقدمے خواتین سے جنسی زیادتی کے درج کیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں سیکولرازم اور بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت میں جنسی استحصال، گھریلو غلامی، زبردستی شادی، جسم فروشی کی ترغیب اور اسقاط حمل کی وارداتیں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں، اس لیے وہاں ’’عورت‘‘ کی زندگی، عزت و احترام انتہائی غیرمحفوظ ہے، وہاں نچلی ذات کی ہندو عورتوں کو جانوروں سے بھی بدتر سمجھتے ہوئے جبرو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسی تمام وارداتوں میں بھارت کی انتہاپسند ہندو تنظیموں کے ارکان کا کردار انتہائی بھیانک پایا گیا ہے، اس لیے ’’امریکا بہادر‘‘ نے بھی اپنی سیاح خواتین کو بھارت کا سفر کم از کم کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ چند برسوں میں بڑھتے ہوئے جنسی واقعات نے بھارتی جنسی درندوں کا چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔
اس خطرناک صورت حال میں بڑا شہر ہو یا چھوٹا، عوامی سیرگاہ ہو یا دفاتر، کسی بھی جگہ عورت محفوظ نہیں لیکن وہاں کسی نے بھی پاکستان کی طرح ’’عورت مارچ‘‘ کرنے کی جرأت نہیں کی، نہ ہی وہاں پڑھی لکھی خواتین ایسے ’’پلے کارڈ‘‘ لے کر سڑکوں پر آئیں، حالانکہ پاکستان کے مقابلے میں وہاں تعلیمی سرگرمیاں اور تعلیم یافتہ خواتین کی تعداد بھی زیادہ ہے، تاہم وہاں پڑھی لکھی اور سمجھ دار خواتین اس بے راہ روی اور ظلم، ستم و جبر سے نجات کے لیے ’’اسلام‘‘ کی چھتری تلے پناہ لے کر مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی منتخب کرلیتی ہیں، کیونکہ اسلام میں ذات پات اور غیر فطری طبقاتی نفرت موجود نہیں بلکہ ’’عورت‘‘ کا مقام اور عزت و احترام بھی دوسرے مذاہب سے بہت زیادہ ہے۔
مملکت خداداد پاکستان میں منعقدہ اس ’’عورت مارچ‘‘ سے ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے، تاہم عالمی پذیرائی نے پاکستان کو دنیا میں خاصا بدنام کیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستانی عورت بھی بھارت کی طرح محکوم اور ظلم و ستم کا شکار ہے، تب ہی تو ’’آزادی نسواں‘‘ کے ’’پلے کارڈ‘‘ اٹھاکر سڑکوں پر آئی ہیں، حالانکہ ایسے حالات بالکل نہیں، یہ صرف ’’مغرب زدہ‘‘ خواتین اور این۔ جی۔اوز کا ڈھونگ ہے اور اسی وجہ سے ’’عورت مارچ بنا تماشا‘‘۔۔۔ یہ انداز ہماری معاشرتی روایات کے سوفیصد خلاف ہے، اسی لیے ماضی میں اس جیسی کوئی دوسری مثال نہیں لیکن یہ ’’پاکستان اور پاکستانیوں‘‘ کے لیے ایسا ’’توجہ دلائو نوٹس‘‘ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے نتائج کے لیے ہمیں تیار ہوجانا چاہیے۔