17 نومبر 2018

عوام کا فیصلہ باقی ہے!! عوام کا فیصلہ باقی ہے!!

ہمارے کانوں میں آج بھی ایوب خان کی یہ مینڈیٹ چور آواز گونجتی ہے۔ جس نے کرپٹ اور نا اہل سیاسی رہنماؤں کے خلاف انقلابی اقدامات اٹھائے۔ حسین شہید سہروردی نے مارشل لاء اور ابیڈو پابندیوں کو چیلنج کیا مگر ایوب خان کوئی سیاست دان نہیں تھا کہ اس کی راہ کھوٹی ہوتی۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کو مشعل راہ بناتے ہوئے اس کا غاصب اقتدار جائز قرار دیا۔ ہمیں یحییٰ خان کی مدہوش صدائیں بھی یاد ہیں، جس نے اپنے مفاد کی خاطر اقتدار ہمارے منتخب نمائندوں کو منتقل نہ کیا اور ملک دو لخت ہو گیا۔ ہمیں ”نو ستارے ہل نشان، جیوے جیوے پاکستان‘‘ کی امریکی سپانسرڈ صدائیں بھی یاد ہیں جن کا مقصد جمہوری بندوبست کو لپیٹنا تھا۔ ان پارساؤں کی مساعیٔ جمیلہ کے سبب آنے والی 5 جولائی 1977ء کی منحوس رات ہمیں کبھی نہیں بھولے گی، جس کے بطن سے ہماری تاریخ کا تاریک ترین دن طلوع ہوا اور ضیاء الحق کی ”میرے عزیز ہم وطنو‘‘ جیسی چور آواز ہماری سماعت سے ٹکرائی تھی۔ اس کا غاصب اقتدار بھی جائز قرار پایا تھا اور اس نے جمہوری عمل کی مقدور بھر بیخ کنی کے ساتھ ساتھ ہمارے مقبول ترین منتخب لیڈر کو پھانسی چڑھایا۔ ہمیں غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری جیسے (58/2-B) کے تلوار بردار بھی یاد ہیں، جو 1990ء، 1993 اور 1996ء میں کرپشن کرپشن کے شور میں اس تلوار سے ہمارے مینڈیٹ کی رسی کاٹ کر اسے چرا لے گئے تھے۔ ہم 12 اکتوبر 1999ء کی شام غریباں بھی نہیں بھولے جب آمر چہارم نے پھر سے ہمارے مینڈیٹ کو چرایا تھا۔ ہماری لوح یادداشت پر 27 دسمبر 2007ء کا دن بھی ثبت ہے، جب گڑھی خدا بخش کے قبرستان کی طرف ایک اور سیاستدان کا تابوت روانہ ہوا تھا۔ ہم افتخار چودھری کا ”دور انصاف‘‘ بھی نہیں بھولے جب کرپشن کی گردان میں منتخب سیاسی حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانے کی مشق جاری رہی۔ تاہم، ہماری داغ داغ تاریخ میں کرپٹ سیاستدانوں کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کے بدعنوان کی گردن نہیں ماپی گئی۔
آج پھر کرپشن، برطرفیوں اور استعفوں کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ان نغموں کے بیشتر کلاکار وہی ہستیاں ہیں جن کے لیے براہِ راست عوامی نمائندگی کی بارگاہ تک رسائی کھٹے انگوروں جیسی ہے اور وہ اقتدار کے لیے عوامی مینڈیٹ چرانے پر یقین رکھتے ہیں۔
میاں نواز شریف کو بھی اس وقت اسی طرح کی کیفیت کا سامنا ہے۔ وقت کے ساتھ انداز بدل جاتے ہیں، رویے بدل جاتے ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، کردار بدل جاتے ہیں، طریقہِ واردات بدل جاتے ہیں لیکن وہ بنیادی چیز جسے سچائی کہتے ہی کبھی نہیں بدلتی۔ لیکن سب سے پہلے انسان کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ وہ سچا ہے۔ سچائی کے الہام کو بندوقیں اور توپیں شکست نہیں دے سکتیں اور نہ ہی عدالت کے فیصلے اسے مار سکتے ہیں۔ یہی ہے سچائی سے محبت کا وہ انعام جو ان لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو سچائی کی خاطر جیتے اور مرتے ہیں۔ پاناما لیکس پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہیگا۔ میاں نواز شریف کے خاندان کے وقار کو تختہِ مشق بنایا جاتا رہیگا۔ انہیں آنے والے مصائب و آلام اور مشکلات سے ڈرایا دھمکایا جاتا رہیگا۔ انہیں زندانوں کی سختیوں اور صعوبتوں سے ہراساں کیا جاتا رہیگا۔ کیونکہ اس سے پہلے سارے وزرائے اعظم کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔ کیا انہیں محمد خان جونیجو یاد نہیں؟ کیا انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کا علم نہیں؟ محترمہ بے نظیر بھٹو یہی کہتی تھیں کہ میں پارلیمنٹ کے فلور پر مر تو سکتی ہوں لیکن اسمبلی نہیں توڑ سکتی اور نہ ہی مستعفی ہو سکتی ہوں لیکن پھر اسے میر مرتضےٰ بھٹو کا لاشہ اٹھانا پڑا تھا۔ اس کی اسمبلی کو اس کے اپنے منتخب صدر سردار فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں تحلیل کر دیا گیا تھا اور اسے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے حوادثِ زمانہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس کا خاوند جیل میں تھا اور وہ کمسن بچوں کی انگلی پکڑ کر جیل کے دروازوں پر انتظار کی سولی پر لٹکتی رہتی تھیں۔ سب کو علم تھا کہ یہ سابق وزیرِ اعظم ہے لیکن کوئی اس پر ترحمانہ جذبوں کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ وہ جہاں جاتی تھیں انہیں غیر اہم سمجھ کر کڑی دھوپ میں قطار میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ وہ کوئی بھی حرفِ شکایت زبان پر لائے بغیر اپنی باری پر جیل کی اس کال کوٹھری میں جس میں اس کے خاوند آصف علی زرداری کو قیدی بنا کر رکھا گیا تھا، بچوں کی ان سے ملاقات کراتی تھیں۔ ایسا ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی بار ہوا ہے۔ وہ دل گرفتہ جاتی تھیں اور دل گرفتہ واپس آ جاتی تھیں۔ لیکن جب اسے زمینی حقائق سے واسطہ پڑتا ہے تو اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ کتابوں میں لکھی گئی باتیں اور ہیں جبکہ زندگی کی سچائیاں اور ہیں۔ جو ان دونوں کو سمجھ جاتا ہے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جاتا بلکہ اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔ لیکن جو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ڈٹ جاتا ہے اور زندگی کی سچائیوں کو کتاب کی سچائیوں سے ملانے کی جرأت کرتا ہے تو اسے تہہِ خاک بھیج دینے میں کوئی تامل نہیں کیا جاتا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ مقتدر حلقوں کے حکم سے سرمو انخراف کرنے والے آنسو بہاتے اور سالہا سال اپنی بے گناہی کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن کوئی ان کا یقین نہیں کرتا کیونکہ ان کے نمک خوار ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں کہ سچ پر جھوٹ اور جھوٹ پر سچ کا گمان ہوتا ہے۔ ان کی بتائی گئی راہ پر جو نہیں چلتے انہیں انجام کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ ایک فیصلہ عدالت نے کیا۔ دوسرا فیصلہ عوامی عدالت کرے گی۔ نواز شریف کی سیاست باقی رہتی  ہے یا نہیں، اس کا تعلق عدالت کے فیصلے سے ہے۔ ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ سیاسی حرکیات کے تابع ہے۔ ان کی سیاست اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب موجودہ سیاسی ماحول تبدیل ہو جائے۔ اس کے لیے سیاسی حقائق کا بدلنا ضروری ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ تادمِ تحریر نواز شریف سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ سب مانتے ہیں کہ انتخابات جیتنے کی صلاحیت آج بھی سب سے زیادہ ن لیگ کے پاس ہے۔ ووٹ بینک کے ساتھ انتخابی عمل کی تفہیم میں بھی وہ دوسروں سے بہتر ہیں۔ انتخابات جیتنا ایک آرٹ ہے۔ یہ آرٹ روایتی سیاست دان بہتر جانتے ہیں اور ان کی سب سے بڑی تعداد ن لیگ کے پاس ہے۔ گویا سیاسی عمل کو کسی فریق کے حق میں فیصلہ کن بنانے کا انحصار دو عوامل پر ہے: ووٹ بینک اور انتخابات کا آرٹ۔ ان دو کو تبدیل کرنے کا عمل بھی محسوس ہوتا ہے کہ شروع کیا جا چکا ہے۔