عوام اور خواص کی تنخواہوں کا فرق عوام اور خواص کی تنخواہوں کا فرق

’’کمپنی بہادروں کی ہوشربا تنخواہیں‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے کالم کو پڑھ کر کچھ دوستوں نے نشاندہی کی کہ عام اور خاص بنا دیے گئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تفاوت کوئی نئی بات نہیں، بلکہ عرصہ سے کبھی کھلے عام اور کبھی درپردہ جاری سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس نشاندہی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کمپنیوں میں کام کرنے والے لوگوں کی دوہری تہری اور ہوشربا تنخواہوں کو منظر عام پر لانے کے ساتھ ان لوگوں کا بھی ذکر ہونا چاہیے جو بظاہر عام سرکاری ملازموں کے زمرے میں آتے ہیں مگر خاص وجوہات کی بنا پر انہیں خاص مراعات سے نوازا جاتا ہے۔
زمانہ قدیم میں خدمات کے عوض اجرت یا معاوضہ لینے اور دینے کا تصور موجود نہیں تھا۔ اس دور میں یا تو خدمت کے تبادلے میں خدمت کا لین دین ہوتا تھا یا پھر کسی شے کے تبادلے کے بغیر جبراً بیگار کی شکل میں خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ زر کی ایجاد کے بعد تنخواہ یا اجرت دینے اور لینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے بعد اشیا اور خدمات کے تبادلے کے بجائے ان کی خرید و فروخت ہونے لگی۔ یوں اشیا کے ساتھ ساتھ خدمات کے بھی نرخ مقرر ہوئے۔ اس امر سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا اور منڈی کا تصور سامنے آیا۔ منڈی میں جہاں اشیائے صرف کی طلب اور رسد نے ان کی قیمتوں کے تعین میں بنیادی کردار ادا کیا وہاں ان کو پیدا کرنے والوں کی محنت اور خدمات کی اجرت طے ہونے پر بھی اثرات مرتب کیے۔ اشیائے صرف کی پیداوار اِن کی کھپت اور اجرت کی حیثیت باہمی طور پر لازم ملزوم ہو گئی۔ جب سرمایہ منڈی کی محرک قوت بن گیا تو سرمایہ کاروں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ منافع کے حصول کے لیے اشیا کی پیداوار ہی نہیں بلکہ ان کی کھپت بھی ضروری ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھ لیا گیا کہ اشیائے صرف کی کھپت صرف اسی صورت ممکن ہو سکتی ہے جب ان کے صارفین کے پاس انہیں خریدنے کے لیے زر موجود ہو۔ صارف کے پاس زر صرف اسی صورت میں موجودہ ہو سکتا ہے، جب اسے اس کی محنت اور خدمات کا مناسب معاوضہ ملے۔
اس حوالے سے یہ بات واضح ہوئی کہ کسی بھی سماج میں صرف اس وقت بہتر پیداواری اور معاشی سرگرمیاں روبہ عمل ہو سکتی ہیں جب وہاں کے صارفین میں اُن کی محنت یا خدمات کے بہتر معاوضے سے مشروط قوت خرید موجود ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں عمل پذیر ہونیوالا یہ تصور پاکستان جیسے ملکوں میں معروف نہیں ہوا کیونکہ یہاں اشیا کی پیداوار اُن کی کھپت اور لوگوں کی اجرت میں وہ تعلق اور توازن پیدا نہ ہو سکا جو ترقی یافتہ ملکوں میں موجود ہے۔ برصغیر میں بادشاہ اور راجے مہاراجے بھی اپنے کارندوں، ہرکاروں اور مصاحبین کو 
ان کی خدمات کے عوض معاوضہ دیا کرتے تھے مگر اس عمل کو ایک نظام کے تحت انگریزوں نے یہاں رائج کیا۔ انگریز دور میں رائج ہونے والا تنخواہوں کے تعین اور ادائیگی کا نظام امتیازی پالیسیوں پر مبنی تھا۔ ایک ہی طرح کی تعلیمی قابلیت رکھنے اور ایک ہی طرح کا کام کرنے کے باوجود انگریزوں اور مقامی لوگوں کے لیے تنخواہوں کے علیحدہ علیحدہ سکیل مقرر کیے گئے تھے۔ انگریزوں کے تنخواہوں کے سکیل کو عرف عام میں یہاں ’’گورا سکیل‘‘ کہا جاتا تھا۔ انگریز دور کی تقسیم کے مطابق سرکاری ملازمین کے چار درجے، کلاس ون، کلاس ٹو، کلاس تھری اور کلاس فور تھے جو ابھی تک جوں کے توں ہیں۔ زیادہ تر انگریز تو کلاس ون میں کام کرتے تھے مگر بعض معاملات میں کلاس ٹو اور تھری میں بھی ان کے کام کرنے کے شواہد موجود ہیں۔ گو کہ انگریزوں نے اپنے اور مقامی لوگوں کے لیے تنخواہوں کے علیحدہ علیحدہ سکیل مقرر کر رکھے تھے مگر ایسا نہیں تھا کہ چار درجوں میں سے کسی ایک درجے میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی مراعات میں بہت زیادہ فرق رکھ دیا گیا ہو۔
پاکستان بننے کے بعد جب انگریز سرکاری ملازمین یہاں سے رخصت ہوئے تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے لیے بنائے گئے ’’گورا سکیل‘‘ بھی ختم ہو جاتے مگر انگریزوں کے جانے بعد بھی ایسا نہ ہو سکا کیونکہ مقامی لوگوں نے ساز باز کرتے ہوئے خود کو ’’گورا سکیل‘‘ کیٹیگری میں منتقل کر دیا تھا۔ 1970 کی دہائی کے آغاز تک ریلوے میں ایسے مقامی گارڈ کام کرتے تھے جو انگریز ملازمین کے یہاں سے رخصت ہونے کے عرصہ بعد تک ’’گورا سکیل‘‘ کے مطابق تنخواہیں وصول کرتے رہے۔ یہ امتیازی سلسلہ چوہدری خوشی محمد نامی ایک مقامی ریلوے گارڈ کی لاہور ہائیکورٹ میں دائر رٹ کے فیصلے سے ختم ہوا۔ ایک عدالتی فیصلے کے تحت ریلوے سے تو ’’گورا سکیل‘‘ کا خاتمہ ہو گیا مگر عدلیہ سے وابستہ سرکاری ملازمین کو گورا سکیل طرز کی مراعات سے نوازنے کا سلسلہ ختم نہ ہو سکا۔ عدلیہ کے جوڈیشل اور نان جوڈیشل افسران کا شمار کلاس ون میں ہوتا ہے مگر دیگر محکموں میں موجود کلاس ون کے افسران اور ان کو حاصل مراعات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
عدلیہ کے افسران کو ملنے والے جوڈیشل الاؤنس، سپیشل جوڈیشل الاؤنس، یوٹیلیٹی الاؤنس اور کار الاؤنس وغیرہ ایسی مراعات ہیں جو دیگر اداروں میں موجود کلاس ون افسران کو حاصل نہیں ہیں۔ یاد رہے تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ان الاؤنسوں میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ دیگر افسران کی نسبت ججوں کو مراعات دینے وقت تو یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ اعلیٰ پائے کے وکیل کیونکہ ججوں کی کم تنخواہوں کی وجہ سے اس پیشے کی طرف راغب نہیں ہوتے تھے، اس لیے انصاف کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانے کی غرض سے قابل وکلا کو اس پیشے کی طرف مائل کرنے کے لیے ججوں کی مراعات میں قابل قدر اضافہ کیا گیا۔ ججوں کی مراعات کے حوالے سے یہ جواز بڑی حد تک قابل فہم ہے، مگر کیا یہ جواز دیگر نان جوڈیشل افسران اور ملازمین کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ یہاں بعض ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ عدلیہ میں کام کرنے والے سینئر نائب قاصد کی تنخواہ اور الاؤنس نئے بھرتی ہونیوالے کالج کے لیکچرار سے زیادہ ہیں۔
خصوصی مراعات صرف عدلیہ سے وابستہ لوگوں کو ہی نہیں بلکہ خاص وجوہات کی بنا پر خاص مقامات پر کام کرنے والے دیگر کئی ملازمین کو بھی دی گئی ہیں۔ کیا جواز ہو سکتا ہے کہ سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو تو سیکریٹریٹ الاؤنس سے نواز دیا جائے مگر سیکریٹریٹ سے باہر اسی طرح کا کام کرنے والے ملازموں کو اس سے محروم رکھا جائے۔ اس طرح کے امتیازی سلوک کی مزید کئی مثالیں یہاں پیش کی جا سکتی ہیں۔ سرکاری ملازموں سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے عدلیہ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کمپنیوں میں بلاجواز لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والوں کو وصول کی گئی رقم خزانے میں واپس جمع کرانے کا حکم دے کر احسن کام کیا ہے۔ یہ امر زیادہ قابل تحسین ہو سکتا ہے اگر اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہر جگہ موجود عام اور خاص ملازمین کے تنخواہوں کے فرق کو ختم کر دیا جائے۔ کیوں کہ تنخواہ یا اجرت وہ معاوضہ ہے جو کسی فرد کو اس کی محنت یا خدمات کے عوض اس اصول کے تحت دیا جانا چاہیے کہ یکساں تعلیم، اہلیت اور کام کی نوعیت کی صورت میں کسی کا بھی معاوضہ غیر یکساں نہ ہو۔