25 مئی 2019
تازہ ترین

عوامی احساسات کا ترجمان۔ حبیب جالب عوامی احساسات کا ترجمان۔ حبیب جالب

13مارچ کو عوامی، انقلابی اور مزاحمتی شاعر حبیب جالب کی 26ویں برسی منائی گئی۔ اُن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالب تھا۔ حبیب جالب 24مارچ 1928 کو میانی افغانان ضلع ہشیارپور موجودہ بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ 1947میں تقسیم کے بعد کراچی میں قیام پذیر ہوگئے، جہاں قیام کے دوران آپ روزنامہ امروز سے وابستہ ہوگئے تھے۔ 1956میں لاہور تشریف لے آئے اور تادم مرگ یہیں رہے اور اب بھی سبزہ زار کے قبرستان میں ابدی نیند سورہے ہیں۔
1996میں جالب کے صاحبزادے ناصر جالب نے امن ایوارڈ کا اجراء کیا۔ 2008میں حکومت پاکستان نے جالب کی وفات کے بعد ان کی خدمات کے صلے میں انہیں نشان امتیاز سے نوازا۔ کسی بھی ادبی شخصیت کو ان کی وفات کے بعد یہ ایوارڈ پہلی بار دیا گیا۔1957میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام ’’برگ آوارہ‘‘ کے نام سے شائع ہوا، اس کے بعد عہد ستم، حرف حق، حرف سردار، سرمقتل، چاروں جانب سناٹا، گوشے میں قفس کے، گنبد بے در، ذکر بہتے خون کا عہد سزا، اس شہر خرابی، صراط مستقیم، احاد ستم اور کلیات حبیب جالب جیسی تصانیف شائع ہوئیں۔ کچھ مواد ایسا بھی تھا جو انتظامیہ کی جانب سے ضبط کرکے ضائع کر دیا گیا تھا۔ 
جالب ملک کے غریب مجبور، مظلوم طبقے کی توانا اور ترجمان آواز تھے۔ ہر آمر کے خلاف اُن کا قلم سچ لکھتا رہا۔ آج کے تلخ اور مایوس کن حالت میں بدقسمتی سے ادب، سیاست اور صحافت میں کوئی ان جیسی آواز نہیں رہی ہے۔ جالب ہر دور میں جمہوری اصولوں اور نظریات پر ڈٹے رہے اور ہمیشہ اہل حق کے ترجمان ٹھہرے۔ انہوں نے آمریت کے خلاف تاریخی جدوجہد کی۔ وہ ملک میں رائج روایات، موجودہ سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ، اقتصادی اور سماجی نظام کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے معاشرتی ناہمواریوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔
 1958میں جب مارشل لا لگا اور 1962میں صدر ایوب کے صدارتی آئین کے خلاف اپنی شہرہ آفاق نظم دستور کہی۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے 
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے 
وہ جو سائے میں ہرمصلحت کے پلے 
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا 
جالب عوامی جذبات کو ہمیشہ حکمرانوں کے خلاف جھنجھوڑتے رہے۔ جالب ایوب خان کے مدمقابل محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دے کر عوامی ہیرو بن گئے تھے۔ انہوں نے مادر ملت کی انتخابی مہم میں بھی تاریخی اور فعال کردار ادا کیا۔ ان کے جلسوں میں شاعری ترنم کے ساتھ پڑھنا آپ کی وجۂ شہرت بنی۔
60ء کی دہائی میں مارشل لا کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی۔ 1970میں یحییٰ خان کے دور حکومت میں جب اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہ کیا گیااور گولیاں چلادے گئیں تو جالب نے احتجاجاً نظم لکھی۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو 
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے 
یقیں مجھ کو کہ منزل کھورہے ہو
آپ نے عوامی حقوق اور آمریت کے خلاف بڑا دلیرانہ لکھا، جس کی پاداش میں آپ پر تشدد ہوا، جھوٹے مقدمات قائم ہوئے۔ متعدد بار جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا مگر آپ حق اور سچ (شاعری)لکھنے سے باز نہیں آئے۔ بھٹو کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور وہ جیل چلے گئے اور جنرل ضیاء برسراقتدار آگئے تو جالب پھر میدان عمل میں تھے اور نظم لکھی:
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صباء بندے کو خدا کیا لکھنا 
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
جالب نے ساری زندگی ضمیر کے قیدی، خوددار، درویش اور فقیرانہ انداز میں گزاری۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور اقتدار میں انہیں مراعات دینے کی کوشش کی تو جالب نے سخت علالت کے باوجود انہیں لینے سے صاف انکار کردیا۔  محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت گئی تو نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی فلاحی کاموں کے بلندبانگ دعوے کیے، عوام کی خاطر اپنی جان تک دینے کی بات کی تو جالب نے برملا کہا:
نہ جان دے دو نہ دل دے دو 
بس اپنی ایک مل دے دو 
زیاں جو کرچکے ہو قوم کا
تم اس کا بل دے دو
نواز شریف کے دوسرے دوراقتدار 12اکتوبر 1999کو جنرل پروپز مشرف نے شب خون مارا تو شاعر عوام کی کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا۔ سیاست صحافت اور لٹریچر کے طالب علم جالب کی شاعری پڑھ کر عوامی جدوجہد کو ناصرف سمجھ سکتے بلکہ ان کے نظریات اور سیاق وسباق سے بھی آگاہ ہوسکتے ہیں۔ جالب ہر عہد میں حکومتوں کے معتوب اور عوام پاکستان کے محبوب لیڈر رہے۔ اُن کی شاعری نے کمزور انسانوں کو ظلم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا۔ آپ کا ہر شعر مظلوم کے دل کی آواز اور جمہوریت کی آبرو ہے۔ آپ کی مزاحمتی شاعری آج بھی جلسہ گاہوں میں گونج رہی ہے۔ مشرف دور میں بھی ان کی شاعری کو دہرایا گیا۔ جالب جیسے شاعر کسی بھی سماج کا ضمیر ہوتے ہیں۔ آپ کبھی تادم حیات کسی آمر یاجابر حکمران کے سامنے جھکے اور نہ عوامی مسائل سے چشم پوشی اختیار کی، بلکہ مرد مجاہد کی طرح ڈٹے رہے۔ جالب 13مارچ 1993 کو 65 برس کی عمر میں ہم سے جدا ہوگئے تھے۔ معروف شاعر قتیل شفائی نے جالب کی وفات پر انہیں یوں خراج تحسین پیش کیا۔ اللہ کریم حبیب جالب کی مغفرت کرے۔
اپنے سارے درد بھلا کر اوروں کے دکھ سہتا تھا 
ہم جب غزلیں کہتے تھے وہ اکثر جیل میں رہتا تھا 
آخرکار چلا ہی گیا وہ روٹھ کر ہم فرزانوں سے 
وہ دیوانہ جس کو زمانہ جالب جالب کہتا تھا