15 نومبر 2018

عمران خان کے ’’مشیر‘‘ عمران خان کے ’’مشیر‘‘

میرے وطن تیرے پرچم میں رنگ بھرتے ہوئے
میں رو پڑا تیری حالت پہ غور کرتے ہوئے
ہمارے صحن میں ۔۔۔ اتری نہ تیری ہریالی
گزر رہے ہیں ۔۔۔ مہ و سال آہ بھرتے ہوئے
نجانے سوچتا کیا ہے یہ پہلی رات کا چاند
غریب شہر کے آنگن میں نور بھرتے ہوئے
تیرا ستارہ دکھائے گا ۔۔۔ راستہ ہم کو
ہمارے پُرکھوں نے یہ طے کیا تھا مرتے ہوئے
سفید رنگ کفن ہے تیرے شہیدوں کا
پیام امن جو دیتے ہیں مرتے مرتے ہوئے
کہاں گئی وہ بنا ۔۔۔ لا الہ الا اللہ
زبانیں کٹنے لگی ہیں سوال کرتے ہوئے
(عرفان محمد عرفی)
احمد فراغ نے میری صبح خوبصورت کر دی۔ فیس بک پر ’’فرینڈ ریکوسٹ‘‘ میری منتظر تھی۔ میرے عظیم کرکٹ کوچ فیاض خان کی چار عدد تصاویر ایک عرصہ کے بعد دیکھیں۔ میری اور میری خاتون خانہ رابعہ کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ ہم نے کتنی ہی خوبصورت شامیں، راتیں اور دن اکٹھے گزارے تھے۔ آنٹی خالدہ، بوبی، مانی اور قہقہے ہوتے تھے۔ وہ چائے کے بڑے بڑے کپ، وہ آنٹی کے ہاتھ کا پکا ہوا، سفید پلاؤ۔ سب خواب ہو گیا۔ کبھی خواہش تھی کہ آسودگی ہو اور فیاض خان صاحب کی خدمت ہو، پہاڑوں کی سیر ہو۔ ہر سال فیاض خان کے نام پر بڑا کرکٹ ٹورنامنٹ تو خواب تھا، خواب ہی رہ گیا۔ چلیں کسی دن امجد لطیف صاحب سے درخواست کریں گے۔ کیسا ظالم وقت آ گیا ہے کہ سی ایس آر (کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی) کے پیسے بھی اب سیاست دانوں کی مرضی سے، ان کی سیاسی سکیموں پر خرچ ہوتے ہیں۔ کھیل اور شعر و ادب تو یتیم ہی ہو گئے ہیں۔ آج ہم گولڈ میڈل جیتنا چاہتے ہیں۔ اچھی موسیقی، اچھی غزل، خوبصورت گانے، جاندار کہانی پر مشتمل ڈرامہ اور فلم، بہترین اداکار دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر ان پر پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ بے نظیر بھٹو کے ادوار چھوڑ کر ان سب کا، سب نے جنازہ نکال دیا۔ سب سے زیادہ تباہی گزشتہ پندرہ سال میں آئی ہے۔ ’’انصافیوں‘‘ کا بھی پتا چل جائے گا۔ احسن راجہ صاحب کا فون آیا تھا۔ رامؔ ریاض کے حوالے سے مجھے بہت سراہا، ساتھ ہی کہا کہ شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، مصوروں کے ساتھ یہ قوم کیا کر رہی ہے۔ کیا ہم نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا۔
ساغر صدیقی سے لیکر رامؔ ریاض، خالد علیگ، حبیب جالب کس کس کا نام لکھیں، وہ کسمپرسی میں دنیا سے چلے گئے اور کتنے ہی ہیں جو اس حالت میں ہیں۔ انہیں کون پوچھے گا۔ کبھی ڈپٹی کمشنر پوچھ لیا کرتے تھے۔ ماشا اللہ سے اب تو وہ بھی سیاست دانوں کی اولاد اور داماد ہی آ گئے ہیں۔ جو باقی بچتے ہیں، ان کی اکثریت کا شعر و ادب اور فنون لطیفہ سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ ہم کس زمانے میں آ گئے ہیں۔
رامؔ ریاض نے کہا تھا کہ
نا آشنا ہیں رامؔ جو غربت کے نام سے
اے کاش میرے دور کے فنکار دیکھتے
میں کب کہتا ہوں کہ ڈیمز ضروری نہیں ہیں۔ بہت ضروری ہی۔ مگر تہذیب و ثقافت پر جو یلغار ہو رہی ہے۔ اس کے سامنے بھی تو ڈیم باندھا جانا ضروری ہے۔ وگرنہ سب کچھ بہہ جائے گا۔ آپ پھر ڈیم چاٹتے رہیے گا۔ غفلت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ فن کاروں کی جتنی تذلیل بطور قوم ہم نے کی ہے۔ اس کی شاید پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ ہمارے سیاست دان اور بابو تو ان کے لیے ’’مولا جٹ‘‘ بن گئے ہیں۔ آج پی ٹی وی کو قوم ساڑھے چار ارب روپے دیتی ہے۔ بجلی کے بلوں کے ذریعے یہ زبردستی کاٹ لیے جاتے ہیں۔ میں عمران خان اور پوری حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ہم پر چاہے یہ چالیس روپے بڑھا کر 50 روپے کر دیں۔ مگر یہ پیسے شاعروں، ادیبوں، فنکاروں، مصوروں اور دوسرے تخلیق کاروں پر خرچ کیے جائیں۔ اس کے لیے الگ سے فنڈ قائم کریں۔ پی ٹی وی صرف سپورٹس چینل سے کتنا کما رہا ہے۔ وہ پھر رشتے داروں، گرلز فرینڈز کی بھرتیوں کا کلچر ختم ہونا چاہیے۔ پی ٹی وی کو سفید ہاتھی کس نے بنایا ہے۔ اگر ہی کما نہیں سکتا تو اس کی ڈائون سائزنگ کریں۔ اتنی بھاری بھر کم انتظامیہ، اتنی بڑی بلڈنگوں کا کیا جواز ہے۔ یہ قوم کے اوپر ڈاکہ ہے۔ اگر اسے رکھنا ہے تو قابل برداشت سائز میں رکھیں۔ باقی بلڈنگیں سٹوڈیوز کرائے پر دیں۔ یہاں کون سی تخلیق کاری ہو رہی ہے۔ صرف کرکٹ سپانسر شپ کے جو اربوں روپے آتے ہیں، وہ کہاں جاتے ہیں۔ ایم ڈی کا پیکیج 60 سے 70 لاکھ روپے کا ہے۔ دیگ کے ایک دانے سے پتا چلتا ہے۔ آج یہاں پر دولہ شاہ کے چوہے بیٹھے ہیں۔ ان کے ذہنوں پر مخصوص سانچے اور آنکھوں پر کوہلو کے بیلوں کے کھوپے چڑھے ہوئے ہیں۔ ڈرامہ جو اس کی پہچان تھا۔ وہ اب پرائیویٹ پروڈکشن والوں سے خریدا جاتا ہے۔ سب کچھ تو ٹھیکے پر ہے۔ حالات حاضرہ کے پروگرام حکومت نامہ ہوتے ہیں۔ پی ٹی وی جو کبھی تخلیق کا مرکز تھا۔ اب تخلیق کاروں کا قبرستان ہے۔ فرانزک آڈٹ تو یہاں کا بنتا ہے۔ سفارش پر پروگرام ملتے ہیں۔ میں تو ریڈیو کا سائز دیکھ کر حیران ہوتا ہوں۔ میرا خیال ہے، شاید ہی دنیا میں اتنا بڑا ریڈیو کہیں ہو۔ شالیمار ریکارڈنگ اور اے ٹی وی تو طلسم ہوشربا ہیں۔ یہاں پہ اربوں روپے ایک کنویں میں ڈالے جا رہے ہیں یا پھر من پسند سیٹھوں کو نوازا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کیا ہے۔ اوپر سے بادشاہانہ احکامات آتے ہیں، فلاں کی تنخواہ اتنی کر دو۔
دوسری جانب اس ملک میں ہر شعبے کا دانشور ہر روز نئی موت مرتا ہے۔ اسے کوئی نہیں پوچھے گا۔ اب تو میں اپنے بزرگوار اور دوست چودھری شہباز حسین سے بھی کوئی گلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ وہ فواد چودھری کے کاموں میں مداخلت نہیں کرتے۔مجھے پتا نہیں کیوں لگتا ہے کہ فواد چودھری بھی پی ٹی وی میں دفتر لگا لگا کر یہیں کا نمک ہو جائیں گے۔ اطلاعات و نشریات کے حوالے سے جو خبریں آ رہی ہیں۔ وہ اتنی خوش کن نہیں ہیں۔ شنید ہے کہ عمران خان تو سرکاری اشتہارات ہی ختم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ سرکاری اشتہارات کے بند ہونے سے سب سے زیادہ ایک نمبر اخبارات متاثر ہونگے۔ بڑی تعداد میں عامل صحافی بے روزگار ہونگے۔ آپ نے فرانزک آڈٹ کرانا ہے تو دو نہیں دو سو 
نمبر اخبارات کا کرا لیں۔ کیک کا سائز چھوٹا نہیں کریں۔ جو اخبارات باقاعدہ شائع ہوتے ہیں اور جو صرف ملی بھگت سے اشتہار لیتے ہیں اور صرف اسی دن شائع ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔ ویسے شاید حکومت کو یہ معلوم نہیں ہے کہ سرکاری اشتہارات کی بندش سے کیا ہو گا۔ پھر اخبارات اور ٹی وی سیٹھ اور کارپوریٹ سیٹھ کا ہی ’’سچ‘‘ لکھیں گے۔
 اس ملک میں صنعت کار اور بزنس مین جو چاہے کرے گا۔ اس کی قانون کی بے ضابطگیوں کی ایک خبر نہیں آئے گی۔ آپ مجھ سے کتنا بھی اختلاف کریں یہی سچ ہے۔ آج جو بڑا کارپوریٹ کنگ ہے۔ حتیٰ کہ پراپرٹی ٹائیکون ہے۔ وہ ’’خبر‘‘ سے اتنا ہی دور کیوں ہے۔ اس پر عمران خان اور فواد چودھری سوچیں۔ ویسے ہی خیال آیا کہ (ن) لیگ اور پی پی پی کی ’’ٹائیکونز‘‘ کے ساتھ دوستیاں زیادہ گہری ہیں۔ اے کے ڈی اور رزاق داؤد شاید اتنے بااثر ثابت نہ ہو سکیں۔ قوم شاید اس ادھورے سچ سے بھی محروم ہو جائے، جسے آج وہ پرکھ کر الگ تو کر لیتی ہے۔ آج اس ملک میں جتنا شعور ہے۔ انتہائی معذرت کے ساتھ، وہ کسی پی ٹی وی یا ریڈیو پاکستان کا عطا کردہ نہیں ہے۔ اس میں کتنے ہی عامل صحافیوں کی قربانیاں ہیں۔ جو اپنا بہت کچھ قربان کر کے عباس اطہر، تنویر عباس نقوی، عباس زیدی، راجہ اصغر، مشتاق میمن، راجہ اسد اور پتا نہیں کس کس نام اور کس کس بھیس میں دنیا سے چلے گئے۔ کبھی سیدھا، تو کبھی بین السطور قوم تک سچ پہنچایا۔ صعوبتیں، شاہی قلعے، عقوبتیں، بے روزگاریاں، دباؤ، بچوں کی ادھوری تعلیم، مالک مکانوں کے سامنے ان کی قربانی، دکانداروں کے ہاتھوں تذلیل، کیا کچھ نہیں سہا، پھر بھی اپنے حصوں کی شمع جلائی۔ ظافر زادوں نے ایجنٹ بننا قبول کیا۔ ’’سید زادے‘‘ اور ’’صاحبزادے‘‘ قربان ہوئے۔ آج پھر سے ہم نئے امتحانوں میں ہونگے۔ دیکھتے ہیں، مشیران کرام اس بار کیا نابغہ روزگار آئیڈیاز لیکر آتے ہیں۔ نوزائیدہ حکومت کے، نوزائیدہ وزیروں کی سوچ عمران خان کو کیا غلط اسٹروکس کھلواتی ہے۔ احمد فراغ کی پوسٹ پر لگے ابتدائی اشعار پڑھیں اور مزہ لیں۔ پتا نہیں یہ شاعر و ادیب کب ڈائناسار کی طرح بے نام و نشان ہو جائیں۔
کس کا گھر تو کس کا در اونچا ہے
میں بضد ہوں میرا عجز اونچا ہے
(رامؔ ریاض)