17 نومبر 2018

عمران خان کی کامیابی اور امتحان عمران خان کی کامیابی اور امتحان

انسان غور کرنا چاہے تو ملک کے موجودہ حالات میں اس کے لیے عبرت موجود ہے، جو لوگ تیس تیس سال سے اقتدار میں رہے یا شریک رہے، انہیں اللہ نے اقتدار سے محروم ہی نہیں کیا بلکہ عبرت کا نشان بھی بنادیا۔ اور جس نے پوری مستقل مزاجی اور استقامت سے جدوجہد جاری رکھی، اسے اللہ نے اقتدار پر فائز کردیا۔ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کسی کو دے کر آزماتا ہے تو کسی سے اپنی نعمت واپس لے کر بھی آزماتا ہے۔ اگر عبرت کا نشان بننے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اقتدار سے محروم کرکے آزمائش میں ڈالا ہے، وہاں کسی کو اقتدار کی نعمت دے کر آزمانا چاہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار سے محروم ہونے والے اپنی محرومی کے اسباب پر غور کرکے آئندہ کے لیے سبق سیکھتے ہیں یا نہیں۔ اور دوسری جانب اقتدار کی نعمت پانے والے سرخروئی کے بعد اس امتحان میں کامیابی کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔
عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے انہیں کامیابی عطا فرمائی اور رب سے اس امتحان میں سرخروئی کی توفیق طلب کرنی چاہیے۔ ہمارے لیڈران کرام قائداعظمؒ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن ان کے اخلاق و کردار کو اپنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ ان کی یہ روش قوم کے اخلاقی زوال کا سبب بنتی ہے۔ عمران خان کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ قائداعظمؒ ہی ان کے آئیڈیل ہیں، صرف زبانی طور پر ہی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی وہ ان کے حقیقی پیروکار ہیں، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جب انہوں نے پاکستان کو ریاست مدینہ کے تصور پر ڈھالنے کا عزم کیا ہے تو ان کے اصل آئیڈیل بانی ریاست مدینہ کو ہونا چاہیے۔ حقیقت تویہ ہے کہ بانی ریاست مدینہ حضرت محمد ﷺ ہر مسلمان کے لیے آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپﷺ کا اسوۂ حسنہ زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے اور اس میں ہمارے لیڈران کرام کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔ عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے دور حکومت میں کسی کو political victimisationکا شکار نہیں بنایا جائے گا۔ اس عزم کی تکمیل کے لیے انہیں ماضی کو یکسر فراموش کرنا پڑے گا۔ سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے ہم عصر روزنامے میں شائع شدہ اپنے کالم میں انہیں بہت ہی مفید مشورے دیے ہیں۔ عمران خان کو ان کے مشورے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے احتساب کے حوالے سے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ احتساب سب سے پہلے ان کا، ان کے وزراء کا ہوگا، اس کے بعد دوسروں کی باری آئے گی۔ انہوں نے پرائم منسٹر ہائوس اور گورنر ہائوسز کے فلاحی اداروں میں تبدیل کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ کاش کہ یہ پیشکش سب سے پہلے وہ خود اپنی عالیشان رہائش گاہ کے بارے میں کرتے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کا دور گو خلافت علیٰ منہاج النبوۃ میں بھی شمار نہیں ہوتا لیکن جب وہ خلیفہ بنے تو سب سے پہلے انہوں نے اپنی پُرآسائش زندگی میں تبدیلی کی اور اپنے سارے اثاثہ جات قوم کے حوالے کردیے۔ عمران خان کا ریاست مدینہ کا تصور تو اس سے بہت بلند ہے۔
جہاں تک پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا ان کا عزم ہے تو فلاحی ادارہ قائم کرنے کا تو انہیں تجربہ ہے، البتہ فلاحی کاموں کے ادارے قائم کرنا اور بات ہے اور ملک کو فلاحی ریاست بنانا اور۔ البتہ اگر وہ ہمت سے کام لے کر وطن عزیز کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے اقدام کا آغاز کریں اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اسی استقامت کا مظاہرہ کریں جس کا انہوں نے ورلڈکپ کے حصول، کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے قیام سمیت ملک کی وزارت عظمیٰ کے حصول کے لیے کیا تو ناصرف یہ کہ انہیں ملکی تاریخ میں اہم ترین مقام حاصل ہوجائے گا بلکہ ان کی آخرت بھی سنور جائے گی۔ اس مقصد کے حصول میں کیا کیا رکاوٹیں ہیں، اس کا اندازہ ہوجائے گا اگر وہ وفاقی شرعی عدالت کے سود کے بارے میں فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کا اعلان کردیں۔ اللہ کرے وہ اپنے اس نیک مقصد میں کامیاب ہوجائیں تو واقعی ریاست پاکستان کو ریاست مدینہ کے ان کے تصور کی عملی شکل حاصل ہوجائے گی۔
فی الحال تو رونا معیشت کی تباہی کا ہے۔ ہمارے پاس تو عالمی قرضوں کی ادائیگی کے لیے فنڈ نہیں بلکہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ہم مزید قرضے لینے پر مجبور ہیں۔ ہم اس وقت تک قرضوں کے جال سے نہیں نکل سکتے جب تک سودی نظام معیشت سے چھٹکارا نہیں پالیتے۔ جب تک ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے جنگ کے الٹی میٹم سے نہیں نکلتے، ہمیں دنیا کے سامنے کشکول لیے پھرنا پڑے گا۔
ہمارے تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے اسٹیٹس کو ختم کرنے کا مقصد حاصل کرلیا ہے، حالانکہ انتخابات میں جیتنے اور اب وفاق و پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے وہی کچھ کررہے ہیں جو اسٹیٹس کے علمبرداراب تک کرتے چلے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک اسٹیٹس کو کی گرفت سے انتخابات کے ذریعے نہیں بلکہ صرف اور صرف انقلاب کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ عام سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں بلکہ ان کو بھی جو انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، انقلاب برپا کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ورنہ وہ جاری نظام کا حصہ ہی نہ بنتیں۔ جاری نظام کا حصہ بن کر دنیا کی تاریخ میں کسی جماعت نے اب تک انقلاب برپا نہیں کیا۔ ان جماعتوں پر تو وہ شعر صادق آتا ہے کہ      ؎  
تپتی راہیں مجھ کو پکاریں
رستہ روکیں چھائوں گھنیری
انقلاب قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے، مراعات سے نہیں نوازتا تاآنکہ قربانیوں کے نتیجے میں انقلاب برپا نہ ہوجائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے سو دن کے لیے جو پروگرام دیا ہے، اس پر وہ کس حد تک عمل کرسکتی ہے۔ متوقع وزیر خزانہ کا بیان تو سامنے آہی چکا ہے کہ ایک کروڑ نوکریوں کا انتظام کرنا ممکن نہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
موجودہ صورتحال میں ہم عمران خان کی حکومت کے بارے میں دعا ہی کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نازک موقع پر پاکستان کی نصرت فرمائی ہے۔ کیا پتا وہ ان کی حکومت سے اس ضمن میں کوئی کام لے لے۔