16 نومبر 2018
تازہ ترین

عمران خان کی سیاست عمران خان کی سیاست

انتخابات 2018ء جیت کر لیلائے وزارتِ عظمیٰ سے ہم آغوش ہونے کے امیدوار عمران خان اپنی ہی دھن کے آدمی ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر پٹی پٹائی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں پتا چلا کہ دھاندلی کیسے ہوتی ہے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے عام انتخابات سے پہلے پنجاب کے چند بڑے شہروں اور پشاور میںاپنے بڑے بڑے جلسوں سے یہ تصور بنا لیا تھا کہ پاکستانی عوام کے مقبول ترین لیڈر بس وہی ہیں اور وزارتِ عظمیٰ انہی کے حصے میں آئے گی، چنانچہ لندن گئے تو اپنے بیٹوں سے کہہ آئے کہ اب جو آپ پاکستان آئیں گے تو آپ کے پاپا پرائم منسٹر ہوں گے۔ ان کے پُرجوش حامی سفید ریش کالم نگار نے بھی الیکشن سے ایک ماہ پہلے لکھ ڈالا کہ ’’رب کعبہ کی قسم! عمران خان جیت چکے ہیں۔‘‘ حامد میر کے پروگرام میں عمران خان نے لکھ کے دے دیا کہ پی ٹی آئی کلین سویپ کرے گی۔ ایسی ہی بات انہوں نے ایک بھارتی صحافیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس کے برعکس اسی صحافیہ سے نواز شریف نے کہا تھا کہ الیکشن سے پہلے نہیں کہا جا سکتا کہ ہم کلین سویپ کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی مقبولیت پنجاب کے چند بڑے شہروں میں تھی اور اب بھی ہے جبکہ ستر فیصد آبادی دیہات میں بستی ہے جو بیشتر مسلم لیگ ن کی ہمنوا ہے اور لاہور شہر مسلم لیگ کا گڑھ ہے، چنانچہ مسلم لیگ نون نے انہی کے ووٹوں سے الیکشن میں بھاری اکثریت حاصل کر لی لیکن عمران خان نے ایک ہفتہ کی خاموشی کے بعد یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ہمارا مینڈیٹ چرا لیا گیا ہے اور پنجاب میں منظم دھاندلی ہوئی ہے۔ دراصل پاکستان کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی ایک ہی بار 1977ء میں ہوئی تھی جب ذوالفقار علی بھٹو دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے جنون میں اس کا ارتکاب کر بیٹھے تھے اور پھر ان کے خلاف جو ملک گیر احتجاجی تحریک اٹھی تھی، اس میں عوام نے اپنے ووٹوں کی بے حرمتی پر ایف ایس ایف، پولیس اور فوج کی گولیوں کا مردانہ وار سامنا کیا تھا۔ اس ہنگامہ خیز تحریک کو دباتے دباتے بھٹو نے ملک کو مارشل لاء کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے بعد کسی انتخابات میں حکمران جماعت کو دھاندلی کا تصور کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوئی۔ یوں انتخابات 2013ء اسی طرح کے جمہوری انتخابات تھے جیسے 1985ء، 1988ء، 1990ء، 1993ء، 1997ء اور 2008ء کے انتخابات تھے، البتہ 2002ء کے انتخابات میں پرویز مشرف کی جرنیلی آمریت قبل از انتخاب دھاندلی میں ملوث ہوئی تھی۔ لیکن اب ساٹھ ستر چینلوں کی موجودگی میں دھاندلی کر کے کوئی کہاں جائے گا؟
2013ء کے انتخابات صدر آصف علی زرداری کے ماتحت جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو کی نگران حکومت نے کرائے تھے جن میں نواز شریف یا سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ اس کے باوجود عمران خان نے اپنا وزارتِ عظمیٰ کا خواب چکنا چور ہونے پرنو منتخب وزیر اعظم نواز شریف پر الزام لگا دیا کہ انہوں نے دھاندلی سے اکثریت حاصل کی ہے۔ پہلے سرگودھا کے حلقے میں آٹھ ہزار جعلی ووٹ نوز شریف کے حق میں پڑنے کی راگنی چھیڑی گئی مگر پھر الیکشن کمیشن نے وضاحت کر دی کہ وہاں صوبائی حلقے کے آٹھ ہزار ووٹ غلطی سے مرکزی حلقے کے رزلٹ میں شامل ہو گئے تھے۔ پھر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کے 35 پنکچرز کی بات گھڑی گئی، یعنی خان صاحب کے بقول سیٹھی صاحب نے پنجاب کے 35 حلقوں میں مسلم لیگ نون کو دھاندلی سے کامیاب کرایا لیکن جب عدالت میں ثبوت پیش کرنے کا مرحلہ آیا تو خان صاحب نے انتہائی ڈھٹائی سے کہہ دیا کہ وہ تو ایک سیاسی بیان تھا۔ عمران خان یہ بھی کہتے رہے کہ نواز شریف نے سب ریٹرننگ آفیسرز (ROs) کو خرید لیا تھا۔ سیاست میں اس سے بڑا بیہودہ الزام ہو ہی نہیں سکتا، چنانچہ جب دھاندلی کے الزام کا معاملہ جوڈیشل کمیشن میں گیا تو خان صاحب نے کسی ایک حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کی مبینہ دھاندلی کا کوئی ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہ کیا اور نہ کسی ریٹرننگ افسر کو عدالت میں گھسیٹنے کی جرأت کی۔ جوڈیشل کمیشن نے فیصلہ دیا کہ انتخابات میں کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی، البتہ انتظامی بے قاعدگیاں ضرور ہوئیں۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی والے اور عمرانی صحافی یہ جھوٹ دہراتے رہے ہیں کہ انتخابات 2013ء دھاندلی زدہ تھے۔ ایک صاحب نے بقراطی جھاڑی ’’عدالتی کمیشن نے فیصلے میں لکھا ہے کہ کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیر منظم دھاندلی تو ہوئی۔‘‘ ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے کہ  ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔۔
عمران خان دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بر سرِ اقتدار آ کر 90 دنوں میں کرپشن کا خاتمہ کر دیں گے اور ملک سے غربت اس حد تک مٹا دیں گے کہ کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ہو گا۔ یہ لاف زنی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی شہرت یافتہ کرپشن کے پیش نظر نہایت مضحکہ خیزہے۔ پرویز خٹک کی کرپشن کا پول سابق صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی اور حال ہی میں تحریک انصاف کو چھوڑ جانے والی ایم این اے عائشہ گلالئی نے کھول دیا ہے۔ عائشہ کے بقول پرویز خٹک کا بیٹا نوکریاں دلانے کے پیسے لیتا ہے اور اس کا بھتیجا خیبر بینک کے سکینڈل میں ملوث ہے۔ عائشہ کے بقول انہوں نے پرویز خٹک کی کرپشن کے ثبوت بنی گالہ آ کر عمران خان کو دیے تو خان صاحب نے ایک طرف پھینک دیے۔ خیبر پختونخوا میں جب نیب نے پی ٹی آئی کے لوگوں پر ہاتھ ڈالا تو احتساب کے قانون اور طریقہ کار میں تبدیلیاں کر کے وزیر اعلی نے اپنے ہی مقرر کیے ہوئے چیئرمین احتساب کمیشن لیفٹیننٹ جنرل(ر) محمد حامد خان کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ حال ہی میں پی پی پی کے سابق مرکزی وزیر نذر محمد گوندل پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں جن کے بھائی ظفر گوندل (ایمپلائزاولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کے سربراہ) چالیس ارب روپے کی کرپشن میں ملوث رہے۔ گلالئی نے الزام لگایا ہے کہ پی ٹی آئی میں عمران خان سے خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں اور وہ ان کو غلط میسج کرتے ہیںنیز وہ یہاں مغربی کلچر پھیلانا چاہتے ہیں۔
31 جو لائی کو بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی نے ملتان کی پریس کانفرنس میں عمران خان کے سازشی ذہن اور جمہوریت دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔ انہوں نے حلفاً کہا کہ عمران خان نے ان سے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس تصدق جیلانی کے بعد آنے والے جج پارلیمنٹ توڑ دیں گے اور نواز شریف نا اہل ہو جائیں گے۔ ٹیکنو کریٹ حکومت کے بعد ستمبر میں الیکشن ہوں گے اور کسی میں ہمارے مقابلے کی جرأت نہیں ہو گی۔ یوں پی ٹی آئی بر سر اقتدار آ جائے گی۔ اس پر جاوید ہاشمی ناراض ہو کر ملتان چلے گئے تھے اور پھر عارف علوی اور دیگر انہیں منا کر لائے اور عمران خان نے ٹیکنو کریٹ حکومت کا بیان واپس لے لیا۔ جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ ’’دھرنے کے لیے اسلام آباد روانگی سے پہلے عارف علوی، شیریں مزاری اور شفقت محمود ان کے پاس آئے کہ عمران خان نے پارلیمنٹ پر حملے کا فیصلہ کیا ہے، آپ انہیں سمجھائیں۔ میں نے خان صاحب سے کہا کہ پارلیمنٹ قوم کی ماں ہے، اس پر حملے کا خیال چھوڑ دیں۔ کپتان نے کہا تھا کہ آگے طاہر القادری کے لوگ ہوں گے اور پی ٹی آئی والے پیچھے ہوں گے۔ پھر طے یہ ہوا کہ صرف ڈی چوک تک جائیں گے لیکن اسلام آباد میں انہوں نے کنٹینر پر یہ کہا کہ ہمیں آگے جانا ہے۔ شاید انہیںکوئی اشارہ ملا تھا۔ انہوں نے کندھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’وہ ‘‘ بھی یہی کہتے ہیں۔‘‘
عمران خان کو جاوید ہاشمی نے چیلنج کیا کہ وہ بھی حلفاً میری باتوں کا جواب دیں لیکن گوئبلز کی بدروح کو حلف اٹھانے کی کیا ضرورت ہے، انہوں نے الٹا الزام لگا دیا کہ جاوید ہاشمی ٹکٹ بیچتے رہے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو خان صاحب نے فوراً ان کے خلاف انضباطی کارروائی کیوں نہ کی؟ اس کا تو مطلب یہ بھی ہے کہ خان صاحب اپنی پارٹی میں کرپٹ لوگوں کو گوارا کرتے ہیں۔ آخر میں ایک 25 سالہ خاتون کی ماں کا مقدمہ۔۔۔ امریکا سے عظیم ایم میاں لکھتے ہیں: ’’ٹیریان جیڈ 15 جون 1992ء کو پیدا ہوئی۔ کیلیفورنیا میں مقدمہ نمبر BF-009322 ،  مدعی اینالوئسا وائٹ (سیتا وائٹ) بنام عمران خان کا عدالتی فیصلہ 13 اگست1997ء کو ہوا جس میں عمران خان کو کمسن بچی ٹیریان کا فطری باپ قرار دیا گیا۔ 1959ء میں پیدا ہونے والی سیتا وائٹ جب کینسر کا شکار ہو کر 15 مئی 2004ء کو موت کی آغوش میں چلی گئی تو اس سے پہلے عمران خان کو اپنی بیٹی ٹیریان جیڈ کو اپنی حوالگی میں لینے کے پیغامات بھیج چکی تھی اور پھر عمران خان جو پہلے انکاری تھے، بالآخر امریکا جا کر انہوں نے 13 سالہ ٹیریان جیڈ کو اپنی حوالگی میں لینے کی کارروائی خاموشی سے مکمل کی اور اسے لے جا کر برطانیہ میں اپنی مطلقہ جمائما خان کی نگرانی میں چھوڑ دیا۔ مشرف حکومت میں وزیر قانون ڈاکٹر شیر افگن نے یہ تمام عدالتی ریکارڈ حاصل کر کے کیلیفورنیا کے سیکرٹری آف سٹیٹ اور پھر امریکی وزارتِ خارجہ سے تصدیق کرا کر نیز پاکستانی سفارتخانہ واشنگٹن سے تصدیق کے بعد ان دستاویزات کو عمران خان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی تو جنرل مشرف نے مداخلت کر کے یہ معاملہ ٹھپ اور عمران خان کو مشرف حکومت کی مخالفت کرنے سے چپ کرا دیا۔‘‘