15 نومبر 2018
تازہ ترین

عمران خان کو مبارک عمران خان کو مبارک

زارینہ نے عمران خان کو مبارک باد دینے کے بعد اطمینان سے کہا، ’’دیکھنا اب کیسے بنتا ہے نیا پاکستان‘‘۔ ہم نے کہا، ’’لیکن رات بھر پورے کراچی کی بتیاں گل رہیں، روشنیوں کا شہر تاریکی میں رہا‘‘ یہ تو کسی ’’شرپسند‘‘ کی شرارت تھی کہ لوگ کہیں کہ یہ کیا بنائیں گے نیا پاکستان، پرانے کی لائٹیں جلا نہیں سکتے، ’’پہلی رات، پہلا تحفہ‘‘ یہ ہمارا تبصرہ تھا۔ زارینہ تڑپ کر بولیں، ’’کچھ دن نکل جائیں پھر تبدیلی دیکھئے‘‘ وہ ٹیکس کے ذریعے تبدیلی لائیں گے۔ اس میں بھی غریب ہی پھنسیں گے کیا؟ یہ ہمارا بیان تھا، ہم نے کہا، ’’تبدیلی آہستہ سے آتی ہے جب تک نہ آئے اسے ووٹرز کو راغب کرنے کا نعرہ ہی سمجھیں یعنی سیاسی نعرہ، ہمارے مسائل بہت ہیں۔‘‘ ہم نے جوں ہی اپنی تقریر ختم کی، زارینہ نے قصہ چھیڑدیا،’’ایک غریب ٹھیلے والا تھا، اس کو بھتا دینا پڑتا تھا، تھانہ کی موبائل کو، محرر کو اور کے ایم سی کو ٹھیلا لگانے کا جرمانہ، اس کو سی بی آر نے سب کے ٹیکس بھیج دیے، وہ کیا کرے؟‘‘ ہم نے کہا، وہ سی بی آر کو بتائے کہ سب وہی نہیں کھاتا، کچھ کھلاتا بھی ہے۔ پھر دیکھئے تیل اور اس کی دھار، نئے پاکستان میں یہ سب نہیں چلے گا‘‘ اس کو لے دے کر دوسوروپے ہی بچتے ہیں۔ 
’’پاکستان جیسے مسائل کے ملک پر حکومت کرنا آسان نہیں یہ تو سیاستدانوں کی ’’سیاست‘‘ ہے کہ عمران کو بھی اپنے جیسا بنالیں‘‘ ہم نے حسب معمول بقراطیت جھاڑی، زارینہ نے کہا، آپ کی منفی سوچ اپنی جگہ لیکن دیکھتے ہیں کون کس جیسا بنتا ہے۔ ہم نے دعا کی کہ سب اپنے ہی جیسے رہیں، بس جو بگڑے ہیں ان میں سدھار آجائے کسی حد تک۔ کسی حد تک کیوں؟ زارینہ تنک کر بولیں، ’’وہ یوں کہ شناخت بھی کوئی چیز ہوتی ہے، یہ برقرار رہنی چاہیے‘‘ ہم نے زارینہ کو جواب دیا۔ پھر انہوں نے پرانا قصہ سنایا، ’’ایک طیارے میں شریر بچّے بھی سوار تھے، جیسے ہی پرواز ہموار ہوئی اور سیٹ بیلٹ کھولنے کا اشارہ ہوا، بچّوں نے پھر دھماچوکڑی شروع کردی، یہاں تک کہ کھانا بانٹنے والی ایئرہوسٹس بھی عاجز آگئی، اس نے ڈانٹ کر کہا کھیلنا ہے تو کھیلو ورنہ باہر نکل جائو، طیارہ اس وقت بلندی پر تھا‘‘ ہم نے کہا، ’’ہو نہ ہو ایئرہوسٹس پہلے ٹیچر رہی ہوں گی۔ دونوں ہی معزز پیشے ہیں لیکن عام افراد کے ہیں، لہٰذا ہمارے حکمران ان میں نہیں رہے۔‘‘ شروعات تو نئے پاکستان میں جانے کی کرنا ہوگی کہیں سے، پھر کیوں نا تعلیم سے شروع کیا جائے۔‘‘
’’لیکن یہ تو صوبائی معاملات ہیں‘‘ تو کیا ہوا وفاق اپنے اداروں میں تنخواہیں روک لے عملے کی۔ زارینہ نے ہمارے اعتراض پر تجویزدی، عملے ہی پر بجلی کیوں گرے؟ یہ کوچۂ تعلیم ویسے بھی ’’لوٹا مارا ہے حسن والوں کا‘‘.’’حسن والوں‘‘ ہی کی تنخواہیں اور مشاہرے جو بھاری ہوتے ہیں، کیوں نا روکے جائیں؟ ہم نے عرض کیا، زارینہ بھی تیار تھیں، قصے کے لیے اس مرتبہ انہوں نے محکمہ تعلیم کا قصہ سنایا۔ ’’محکمۂ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسر تھے ان کو ’’پی آر‘‘ کا بڑا شوق تھا، بڑی آسانی سے تقاریب میں جانے کی فرصت نکالتے، کیوںکہ محکمے میں تو کام تھا نہیں۔ ان افسر صاحب کا ایک تقریب میں ایک ہیڈ مسٹریس پر جو کسی سکول کی تھیں، دل آگیا، انہوں نے پیش قدمی کی لیکن ان خاتون کو ’’عزت راس‘‘ نہیں آئی، اعلیٰ افسر کی وہ ٹھکائی کی کہ ان کے ہوش ٹھکانے آگئے، ’’حسن والوں‘‘ کے ہوش ٹھکانے لانا پڑتے ہیں ہوتے نہیں۔‘‘
پرانے پاکستان کو ٹھوک پیٹ کر نیا بنانا ضروری ہے اور وہ یہی کریں گے کیونکہ اسی پر منتخب ہوئے ہیں۔ جس طرح تاریخ بننے میں تاریخ لگتی ہے اسی طرح ٹھوکنے پیٹنے میں وقت لگتا ہے، کام کسی کا مسئلہ نہیں، کام چوری کے چور دروازے تلاش کرنا سب کا مسئلہ ہے۔ پرانے لوگ اس تلاش میں کہاں تک ساتھ دیں؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ کام کے لوگ ہمیشہ کم ہوتے ہیں، لیکن وہ کسی کے خلاف اتحاد نہیں بناتے، کیونکہ ’’کام‘‘ میں مگن رہتے ہیں اور ہماری تعلیم تو کام چوری کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، بھری نہ ہو تو خالی ہو؟
جس طرح روز ایمرجنسی نہیں ہوتی اور جو روز ہو وہ ایمرجنسی نہیں معمول ہوتا ہے، اسی طرح ہمارے تعلیمی اداروں میں جو روز ہوتا ہے وہ معمول ہے، روز ہمارے تعلیمی اداروں میں کلاسز ہوتی ہیں؟ تعلیم اور صحت کے شعبے مشنریز کے سپرد کرکے دیکھ لیں یا مشن بناکر بات ایک ہی ہے۔
زارینہ بہت غصے میں تھیں، انہوں نے رات بھر انتظار کیا تھا اپنے دنبے کی کھال شوکت خانم کا اشتہار پڑھ کر اسے دینے کے لیے آپ نے ٹھیک کہا، پرانے ہی میں کوئی جگاڑ کرکے اسے نئے کے طور پر پیش کردیں گے کھالوں کا سسٹم تو کراچی میں بنا نہیں۔ وہ ہم سے متفق ہوئیں لیکن بعد از خرابی بسیار۔۔۔۔
وہ تبدیلی ایسے ہی لائیں گے؟ چوہا بلی کی ٹھکائی لگائے گا۔ زارینہ نے چوہے بلی کی کہانی پر بات ختم کی۔