23 ستمبر 2018
تازہ ترین

عمران اور شہباز میں کڑا مقابلہ عمران اور شہباز میں کڑا مقابلہ

پاکستان کی سیاست میں پھر محاذ آرائی اور دست و گریباں کا زمانہ آرہا ہے۔ پہلے یہ دور 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں گزرا، جب (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے مابین کھینچا تانی رہی۔ نوازشریف اور بینظیربھٹو مدمقابل تھے، پھر میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے ایک دوسرے کے دست وبازو بن گئے۔ اب تحریک انصاف اور (ن) لیگ میں جوڑ پڑا ہے، اس معرکے میں عمران خان اور شہبازشریف آمنے سامنے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے ٹاکرے کو جنون اور (ن) کا مقابلہ کہا جائے گا۔ آئندہ کی سیاست میں تاریخ نے خود کو دہرایا تو قوم سیاستدانوں سے بیزار ہوجائیگی۔ اس بیزاری میں بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کا بڑا عمل دخل ہے، جس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کا کردار نمایاں ہے۔ 
عمران خان اور شہبازشریف ملک کے دو نمایاں رہنما ہیں، شہباز شریف کا بطور اپوزیشن لیڈر پہلا امتحان ہے جب کہ عمران خان سربراہ مملکت کی حیثیت سے ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نبردآزما ہورہے ہیں۔ شہبازشریف ایسے رہنما کا سامنا کررہے ہیں جس نے شریف برادران کو ان کے ہوم گراؤنڈ پنجاب میں مشکل سے دوچار کردیا۔ عمران خان اور شہبازشریف کا مقابلہ مرکز اور پنجاب میں زور پکڑے گا، یہ ماحول دونوں کو فائدہ دے سکتا اور مصائب کی دلدل میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ دونوں رہنما کام کرنے کے حوالے سے جارحانہ مزاج رکھتے ہیں۔ عمران نے کرکٹ کے بعد سیاست میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، انہیں مرکز اورپنجاب میں اپنی ٹیم کی تشکیل اوربہتر کارکردگی کے حوالے سے ہمیشہ خیال رہے گا کہ ان کا مقابلہ شہبازشریف سے ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ شہباز شریف اچھے چیلنجر ہیں، انہیں اُن کی صورت بڑے حریف کا سامنا ہے۔ عمران خان اس لیے پنجاب میں اپنی حکومت کی کارکردگی کی خود نگرانی کریں گے، اگر وہ مستقبل میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پنجاب میں ان کی حکومت کو شہباز شریف سے بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ 
عمران خان جانتے ہیں کہ پنجاب کے عوام پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی اور ترقیاتی کاموں کا (ن) لیگ کی سابق حکومت کے کاموں سے موازنہ کرتے رہیں گے۔ پی ٹی آئی پنجاب کے نمبر گیم سے بھی بخوبی آگاہ ہے اورقومی اسمبلی میں نشستوں میں کمی سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ (ن) لیگ آج بھی پنجاب کی بڑی جماعت ہے، جو شہباز کی کارکردگی کی مرہون منت ہے، کئی لیگی رہنما اقرار کرتے ہیں کہ اگر پارٹی کا بیانیہ صرف پنجاب میں ترقیاتی کاموں پر مشتمل ہوتا تو انتخابی نتائج مختلف ہوتے۔
شہباز شریف بھی عمران خان کی طاقت، قابلیت اور جنون سے آگاہ ہیں، اب وزیراعظم، شریف برادران کی ترقی کی پالیسی کی پیروی کریں گے یا دیرپا ترقی کی کوئی پالیسی اپنائیں گے، یہ آئندہ چند ماہ میں واضح ہوجائے گا، یہ بھی دلچسپ ہوگا کہ عمران خان مزید موٹرویز سمیت ٹرانسپورٹ کے میٹرو اور اورنج منصوبے شروع کرتے یا کچھ نیا کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں انہوں نے موٹروے کو ترک نہیں کیا اور کے پی میں پی ٹی آئی حکومت نے بھی میٹرو بس منصوبہ شروع کیا۔ عمران خان نے (ن) لیگ کی سابق حکومت کے کسی پروجیکٹ کی اہمیت کو مسترد نہیں کیا، بلکہ وہ اس میں مزید شفافیت لاسکتے ہیں۔ تحریک انصاف نے نئے بلدیاتی نظام کا اعلان کیا ہے، تاہم عمران خان بلدیاتی نظام میں تبدیلی لانے تک اپنے کارکنوں کو کوآرڈی نیٹرز تعینات کرکے بلدیاتی اداروں کا کام چلاسکتے ہیں۔
بطور وزیراعظم دباؤ عمران خان پر ہوگا، کپتان کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایسی حکومت فراہم کریں جو کسی بھی مالی اور دیگر سکینڈلز سے پاک ہو اور جو پنجاب میں اہم مقاصد حاصل کرے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عمران خان جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے اور ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنانے پر کیسا ردعمل دکھاتے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وزیراعظم کو ان عوامی حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوجائے گی جو طویل عرصہ سے ایسی کوششیں کررہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے لیے مشکل یہ ہوگی کہ اس معاملے کی حمایت کی جائے یا مخالفت۔ سیاسی طور پر وہ اس طرح کی کسی بھی قانون سازی کی مخالفت نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ان کا بھی وعدہ اور مطالبہ تھا، تاہم پی ٹی آئی حکومت اور شہبازشریف کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن میں نوک جھونک کسی نہ کسی ایشو پر ہوتی رہے گی اور عوام کافی سیاسی ہنگامہ آرائی دیکھیں گے۔
پی ٹی آئی حکومت ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کو اولین ترجیح دے گی، اسی اثناء میں کرپشن کے خلاف نیب کی کارروائیوں میں تیزی آئے گی جب کہ اپوزیشن جماعتیں دھاندلی اور احتساب کا واویلا مچاکر دمادم مست قلندر کا ماحول بنائیں گی۔ آئندہ دنوں میں این آر او کی زیادہ صدائیں آئیں گی، اسحاق ڈار سمیت حسین اور حسن نواز کی گرفتاری کے لیے اقدامات کا شور رہے گا، نندی پور منصوبہ سمیت شریف فیملی کے خلاف باقی دو نیب ریفرنسز کی سماعت ہر طبقہ میں مرکز نگاہ ہوگی، زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی کارروائی زبان زدعام رہے گی جب کہ صاف پانی سکینڈل کیس اہمیت اختیار کرجائے گا۔ ایسے میں پی ٹی آئی حکومت ملکی معیشت کی خطرناک صورتحال کو فوکس کرے گی۔ پی ٹی آئی کے مطابق 5 سال قبل جب (ن) لیگ حکومت بنی، تب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب ڈالر سالانہ تھا، اب ماہانہ بنیادوں پر خسارہ ہورہا ہے اور گزشتہ 3 ماہ سے ماہانہ 2ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے۔ حکمراں جماعت کے قائدین سمجھتے ہیں کہ عمران خان اپنے اعلانات پر عمل درآمد نہ کراسکے تو گھر جانا پسند کریں گے۔
ماضی میں (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی میں کھینچا تانی سے حکومتوں کا دھڑن تختہ ہوتا رہا، مہنگائی اور بیروزگاری کا ازدحام دیوقامت بن گیا، منشیات اور اسلحے کے انبار لگ گئے، لاقانونیت اور بدامنی کے سائے گہرے اور لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ہر سو پھیل گئے۔ 
اب ملک کسی سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جس نے یہ راستہ اختیار کیا، وہ عوام اور جمہوریت سے دشمنی کرے گا۔ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرکے برداشت کا رجحان پروان چڑھانا ہوگا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کی بقا اور نظریات کی آڑ میں صرف ذاتی مفادات کے حصول کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ عوام کو ہاتھی کے دکھانے اور کھانے کے دانت معلوم ہوچکے ہیں۔ اب سیاستدانوں کے لیے جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹ کر احتساب کا راستہ روکنا اور عوامی ہمدردیاں سمیٹنا ممکن نہیں رہا۔