23 ستمبر 2018
تازہ ترین

عمرانی تبدیلی عمرانی تبدیلی

آپ سب جانتے ہیں کہ ہم سب ڈرامے کے کتنے شوقین ہیں۔ ٹی وی کا پرائم ٹائم ڈرامہ ہو یا حکومت کا پرائم منسٹر ٹائم ڈرامہ، ہم سب ڈرامہ بازی کے عادی ہیں۔ کچھ لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ اسلام آباد میں ڈرامہ کرنے کیلئے کوئی ہال نہیں، حالانکہ اسلام آباد میں ڈرامے کا سب سے بڑا ہال موجود ہے، جسے اسمبلی ہال بھی کہتے ہیں۔ چونکہ آج کل اسمبلی ہال خالی ہی پڑا رہتا ہے چنانچہ ہم یہ ڈرامہ وہاں بھی کر سکتے تھے، مگر ہم نے یہ ڈرامہ وہاں اس ڈر سے نہیں کیا کہ آپ اسے جعلی ڈرامہ سمجھ کر وہاں آنے سے گریز کریں گے۔
بقول انکل سرگم ہمارے ہاں سٹیج ڈرامہ اب اس سٹیج پہ پہنچ چکا ہے جسے آخری سٹیج بھی کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سٹیج ڈرامہ اب صرف مردوں کے دیکھنے کے قابل ہی رہ گیا ہے چنانچہ مرد حضرات جو ڈرامہ سٹیج پہ دیکھتے ہیں وہی ڈرامہ اپنے اپنے گھروں میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بیویوں سے مار بھی کھاتے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا ڈرامہ آپ روزانہ ٹی وی کے کسی نہ کسی چینل پہ دیکھ لیتے ہوں گے۔ ایک زمانے میں ڈرامہ کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا پھر جب پورے ملک میں ڈرامے باز لڑکے اور ڈرامے باز لڑکیاں، جنہیں ہیرو اور ہیروئن کہا جاتا ہے، کی گھر گھر شہرت ہونے لگی تو اچھے بھلے گھرانوں کے چشم و چراغ ٹی وی ڈراموں میںآنے لگے۔
رولے ؔ، ماسی مصیبتےؔ، اور بونگے ؔ کا کہنا ہے کہ ہماری قوم ڈرامے کی بڑی شوقین ہے۔ ٹی وی کا ’’پرائم ٹائم‘‘ ہو یا ’’پرائم منسٹر ٹائم‘‘، ہم کسی قسم کا کوئی ڈرامہ دیکھنا نہیں چھوڑتے۔ سیاسی ڈرامے دیکھ دیکھ کر ہم یقیناً بور ہو چکے ہیں، چنانچہ ہم اس بار آپ کے لیے دفتری ڈرامہ لے کر آئے ہیں۔ اس کی پہلی قسط میں آپ کو رشوت، سفارش، غفلت، لاپروائی، کام چوری، غیر حاضری، بہانہ بازی، سستی، کاہلی، نا اہلی، توہین آمیز اور غیر ذمہ دارانہ رویے جیسے بارہ مسالے ملیں گے۔ اس ڈرامے میں آپ بھی پارٹ ادا کر سکتے ہیں، چنانچہ فون اُٹھایئے اور کسی بھی سرکاری دفتر کا نمبر ملایئے۔ ’’ہیلو‘‘ جواب آئے گا، ’’جی؟‘‘۔ ’’ یہ ڈائریکٹر روڈز کا آفس ہے؟‘‘۔ ’’جی جی‘‘، ’’ڈائریکٹر صاحب ہیں؟‘‘، ’’جی وہ تو نہیں ہیں، آپ کون صاب بول رہے ہیں؟‘‘۔ ’’ میں اسلام آباد کا ایک رہائشی بات کر رہا ہوں‘‘۔ ’’ صاحب تو ’’سائٹ‘‘ پہ گئے ہوئے ہیں، آپ نے کس سلسلے میں بات کرنی ہے؟‘‘۔ ’’جی میں نے روڈ اور فٹ پاتھ کے بارے میں بات کرنی ہے‘‘۔ ’’روڈز اور فٹ پاتھ کے بارے میں بات کرنی ہے تو اس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب سے بات کیجئے‘‘۔ ’’ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب کا نمبر ہو گا آپ کے پاس؟‘‘۔ ’’وہ تو آپ کو ایکسچینج سے ملے گا‘‘۔
(ایکسچینج کا نمبر دس پندرہ منٹ کی جدوجہد کے بعد ملتا ہے اور ایکسچینج سے ایک بیزار کن آواز آتی ہے، ’’جی فرمایئے؟‘‘)
’’جی مجھے ڈپٹی ڈائریکٹر روڈز کا نمبر چاہیے‘‘ (نمبر ملنے کے بعد ڈائل کیا جاتا ہے، جو انگیج ملتا ہے۔۔۔ اور پھر پانچ سات مرتبہ ٹرائی کرنے کے بعد مل جاتا ہے) ’’ہیلو‘‘، ’’جی؟‘‘۔ ’’یہ ڈپٹی ڈائریکٹر روڈز کا آفس ہے؟‘‘۔ ’’جی جی‘‘۔ ’’صاحب ہیں؟‘‘۔ ’’جی وہ تو میٹنگ میں ہیں، آپ کون بول رہے ہیں؟‘‘۔ ’’میں اسلام آباد کا ایک رہائشی بات کر رہا ہوں، میں نے ایف الیون کی روڈز اور فٹ پاتھ کے بارے میں بات کرنی ہے‘‘۔ ’’آپ ڈپٹی ڈائریکٹر روڈ ٹُو سے بات کیجئے، یہ ڈپٹی ڈائریکٹر ون کا آفس ہے‘‘۔ (ایکسچینج سے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹو کے آفس کا نمبر لے کے ڈائل کیا جاتا ہے) ’’ہیلو‘‘۔ ’’جی؟‘‘۔ ’’یہ ڈپٹی ڈائریکٹر روڈز کا آفس ہے؟‘‘۔ ’’جی جی‘‘۔ ’’ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب ہیں؟‘‘۔ ’’جی بول رہا ہوں‘‘۔ ’’السلام علیکم، میں نے ایف الیون سیکٹر کی خستہ حال روڈ کے بارے میں بات کرنی ہے‘‘۔ ’’آپ نے روڈ رپیئر کے بارے میں بات کرنی ہے یا روڈ کارپیٹنگ کے بارے میں ؟‘‘۔ ’’جی میں نے، جی میں نے فٹ پاتھ کے بارے میں‘‘(بات کاٹ کر) ’’ہمارا تعلق روڈ رپیئرنگ سے ہے، آپ ڈائریکٹر فٹ پاتھ کے آفس سے رابطہ کریں‘‘۔ (ڈائریکٹر روڈ کارپیٹنگ کے آفس کا نمبر ایکسچینج سے حاصل کرنے کے بعد ملایا جاتا ہے)۔
’’ہیلو‘‘۔ ’’جی؟‘‘۔ ’’یہ ڈائریکٹر روڈ کارپیٹنگ کا آفس ہے؟‘‘۔ ’’جی جی‘‘۔ ’’ڈائریکٹر صاحب ہیں؟‘‘۔ ’’جی وہ تو نہیں ہیں، آپ کون صاب بول رہے ہیں؟‘‘۔ ’’میں اسلام آباد کا ایک رہائشی بات کر رہا ہوں، ڈائریکٹر صاحب سے ضروری بات کرنی ہے‘‘۔
’’ڈائریکٹر صاحب تو چھٹی پہ ہیں، آپ ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب سے اس نمبر پہ بات کر لیں‘‘۔ (ڈپٹی ڈائریکٹر روڈز اینڈ فٹ پاتھ کے نمبر پہ فون کرتے ہوئے) ’’ہیلو‘‘۔ ’’جی؟‘‘۔ ’’یہ ڈپٹی ڈائریکٹر روڈز اینڈ فٹ پاتھ کا آفس ہے؟‘‘۔ ’’جی جی‘‘۔
’’ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب ہیں؟‘‘۔ ’’جی نہیں‘‘۔ ’’اسسٹنٹ ڈائریکٹر صاحب ہیں؟‘‘۔ ’’جی وہ بھی نہیں ہیں‘‘۔ ’’چلیں کسی اور سے ہی بات کرا دیں‘‘۔ ’’جی میں بات کر رہا ہوں نہ‘‘، ’’آپ کون ہیں؟‘‘۔ ’’جی میں چوکیدار بول رہا ہوں، دفتر میں چھٹی ہو چکی ہے، آپ پرسوں فون کریں اس لیے کہ کل اتوار کی چھٹی ہے‘‘۔ عمران خان صاحب، یہ جانتے ہوئے کہ آپ آج کل اس ملک کی ’’معا شی حالت‘‘ درست کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر آپ کسی دن اپنی مصروفیت میں سے چار پانچ گھنٹے نکال کر بذات خود کسی سرکاری دفتر میں ایک عام شہری کی حیثیت سے فون کر کے دیکھیں تو آپ کو اس ملک کی معاشی حالت سے زیادہ اس کے سرکاری دفتروں کی ’’بدمعاشی حالت‘‘ درست کرنے کی فکر لاحق ہو جائے گا۔
تو جناب یہ کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم عمران خان سے پوچھیں کہ وہ ستر سال سے نااہلی اور رشوت خوری میں ڈوبے ان سرکاری ملازمین پہ کیسے نظر رکھیں گے؟ انہیں حلال کی کمائی کھانے پہ کیسے آمادہ کریں گے؟ انہیں اپنا فرض دیانت داری سے سرانجام دینے پہ کیسے مجبور کریں گے۔ ان نااہل سرکاری ملازمین اور آفیسرز جن کی لاکھوں روپوں میں تنخواہیں ہمارے خون پسینے کی کمائی ادا کی جاتی ہیں، ان کے مردہ ضمیر کو کیسے زندہ کریں گے؟ ہمارے ذہن میں اس کے لیے چند تجاویز ہیں جو ہم پیش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
عمران خان کی ٹیم میں پاکستان کے وہ ذہین ترین جوان شامل کیے جا سکتے ہیں، جو اس ملک کی معاشی حالت اور بیروز گاری کے ڈر سے یہ ملک چھوڑ کر بیرون ممالک میں کام کر کے اُن کی معاشی زندگی کو سنوار رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اب واپس تو بلایا جا سکتا نہیں کہ وہ وہاں پہ سیٹل ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ جتنا وہ بیرون ممالک میں کما رہے ہیں اتنا معاوضہ تو ہم انہیں دے نہیں سکتے، البتہ گورے کو انٹرنیٹ کی ایجاد کے لیے دعا دیتے ہم ان جوانوں سے درخواست کریں کہ وہ ہمیں اور ہماری وزارتوں کو بذریعہ ای میل گائیڈ کیا کریں۔ مجھے یقین ہے کہ چونکہ عمران خان کو ملک سے باہر بسنے والے لاکھوں پاکستانی والہانہ طور پہ پسند کرتے ہیں چنانچہ وہ ہر ممکن مدد کرنے پہ آمادہ ہو جائیں گے۔ اگر ہو سکے تو ان کو برائے نام معاوضہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ملک کے اندر سرکاری دفتروں میں حرام خوری کا تعلق ہے تو اس کے لیے شہروں کے تمام سینئر سٹیزن اور دانشوروں سے کام لیا جا سکتا ہے جو جہاں جائیں وہیں سے تمام خرابیاں نوٹ کر کے رپورٹ کریں اور ان کی نشاندہی پہ خرابی پیدا کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ اس کام کیلئے تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور معاشرے میں ہر محب وطن کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ٹریفک کنٹرول پہ نظر رکھنے کے لیے گاڑی میں سفر کرنے والے موقع پہ موجود سینئر سٹیزن کی خدمات بلا معاوضہ لی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں ٹریفک پولیس والوں کا یونیفارم دیکھ کر گاڑی چلانے والے محتاط ہو جاتے ہیں، جب انہیں یہی معلوم نہیں ہو گا کہ کوئی ان کو دیکھ رہا ہے تو وہ محتاط ہی رہیں گے۔ اسی طرح کی باقی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں بلا معاوضہ کام کرنے والے اور اس ملک میں عمرانی تبدیلی لانے کے خواہشمند والنٹیئرز عمران خان کے اس نیک اور ملک بچاؤ منصوبے کا حصہ بننے کو تیار ملیں گے۔