21 ستمبر 2018
تازہ ترین

علوی، اعتزاز، فضل الرحمٰن علوی، اعتزاز، فضل الرحمٰن

عارف علوی کے صدر منتخب ہوتے ہی پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک اور تحفہ مل گیا۔ مسلم لیگ(ن) اور اتحادی اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار مولانا فضل الرحمٰن دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری اعتزاز احسن تیسرے نمبر پر رہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی والوں نے خصوصاً اعتزاز احسن کو امیدوار بنا کر عارف علوی کی کامیابی کیلئے راستہ صاف کر دیا ہے، یہ اعتراض ہرگز بے جا نہیں۔ حالات و واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی، ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر کوئی متفقہ امیدوار لے آتی تو صورت حال بہت دلچسپ ہو سکتی تھی۔ گو پی ٹی آئی کو الیکٹورل کالج میں شامل اپنے ووٹروں کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کے باوجود اس مقابلے کو کسی حد تک مشکل بنایا جا سکتا تھا۔ ایسا ہونا مگر ممکن نہ تھا۔ پیپلز پارٹی سندھ کی حکومت سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ اسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی خاطر کوئی خطرہ مول لے۔ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں میں شامل زیرک سیاسی لیڈروں کو پیپلز پارٹی کے ارادوں کا علم نہ ہو۔ اس کے باوجود سیاست میں راستے کھلے رکھنے اور چانس لینے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دور میں جب آصف زرداری اپنی مشہور ’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ والی تقریر کر کے اگلے روز ملک سے باہر چلے گئے تھے، تو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے مخالف ہیں یا اپنے کیے پر نادم ہیں۔ کم و بیش ایک سال بعد ان کی وطن واپسی ہوئی تو آرمی کمانڈ تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ ’’مردحر‘‘ کا رویہ بھی بدلا بدلا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ سے بنا کر چلنے کی پالیسی اختیار کی گئی۔ اس پالیسی کا لازمی حصہ ن لیگ کی مخالفت اور اس سے دوری رکھنا تھا جو حکومت میں ہونے کے باوجود بُری طرح سے زیر عتاب تھی۔ سب کو نظر آ رہا تھا کہ معاملات ہموار طریقے سے چلتے رہے تو ن لیگ سینیٹ میں اپنا چیئرمین لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اچانک غیبی ہاتھ حرکت میں آیا اور راتوں رات بلوچستان میں ن لیگ کا صفایا کر دیا گیا۔ اس مہم میں ریاستی اداروں نے جوڑ توڑ کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے آصف زرداری کو بھی بعض ڈیوٹیاں سونپیں۔ اس کامیاب آپریشن کے بعد چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر الیکشن کے موقع پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے کھل کر بتا دیا کہ آگے ہونے والی سیاست میں دونوں حریف نہیں بلکہ حلیف ہوں گے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے ہی پری پول رگنگ کا جو کھلم کھلا کھیل شروع ہوا، اس پر ن لیگ تو بہت تلملائی مگر پیپلز پارٹی کا رویہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف رہا۔
اب لگتا ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد سے بہت پہلے ہی طے پا گیا تھا کہ بعض شرائط کی پابندی کرنے پر پیپلز پارٹی کو سندھ حکومت دی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دے دی گئی کہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش مہنگی پڑے گی۔ اس حوالے سے سب سے پہلا دھچکا تو اس وقت لگا جب الیکشن دھاندلی کے خلاف متحدہ اپوزیشن بنا کر احتجاج کا پروگرام بنایا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حوالے سے ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کردار بھی مایوس کن تھا مگر پیپلز پارٹی جو کر رہی تھی وہ باقاعدہ پلاننگ کے تحت تھا۔ احتجاج تو کہیں بیچ میں ہی دھرا رہ گیا۔ یہ طے پایا کہ سپیکر، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے لیے متحدہ اپوزیشن متفقہ امیدوار کھڑے کرے گی۔ یہ مشق اسی طرح سے جاری رہتی تو یقیناً صدر مملکت کے عہدے پر بھی متفقہ امیدوار ہی آنا 
تھا۔ پیپلز پارٹی نے سپیکر کے لیے متحدہ اپوزیشن کے ووٹ لیے اور اس کے بعد وزارت عظمیٰ کے لیے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے انکار کر کے اپنے ہی دعوے کی نفی کر دی۔ آصف زرداری کا یہ جملہ ویسے بھی تاریخ میں رقم ہو چکا ہے کہ ’’وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘۔ صدارتی انتخاب کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر کوشش کی کہ متفقہ امیدوار لا کر حکومت کو ٹف ٹائم دیا جائے تاکہ یہ تاثر قائم ہو کہ انتخابی دھاندلیوں اور دیگر امور پر حزب اختلاف کی پارٹیاں مل کر چلیں گی۔ سیاسی مبصرین اس وقت حیران رہ گئے جب دیکھا کہ پیپلز پارٹی نے رضا ربانی یا کسی اور غیر متنازع رہنما کو امیدوار بنانے کے بجائے شریف خاندان پر تنقید میں تمام حدیں پھلانگ جانے والے اعتزاز احسن کو نامزد کیا ہے۔ شریف خاندان بشمول لندن میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کلثوم نواز کے بارے میں اعتزاز نے فواد چودھری، فیاض چوہان اور عمران خان سے بڑھ کر الزامات لگائے۔ بیان بازی کی حد تک ہی معاملہ بے حد خراب تھا۔ اس سے کہیں بڑھ کر ن لیگ کے اعتزاز احسن کی سرگرمیوں کے بارے میں اعتراضات ہیں، کئی ن لیگی لیڈر کھل کر کہتے ہیں اعتزاز احسن دراصل اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جب کہا جاتا ہے تو  باور کرایا جاتا ہے کہ یہ اعتزاز ہی ہیں جو آصف زرداری کو پیپلز پارٹی سے مائنس ہونے کا مشورہ دیتے پائے جاتے تھے۔ عدلیہ بحالی تحریک میں اعتزاز کے انتہائی اہم کردار پر بھی ان حلقوں کا یہی کہنا ہے کہ جنرل کیانی کی قیادت میں پاک فوج بطور ادارہ جنرل مشرف کو بوجھ تصور کرتے ہوئے باہر کا راستہ دکھانا چاہتی تھی۔
ججز بحالی تحریک میں اعتزاز کی سرگرمیوں کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ بطور وزیر داخلہ مشرقی پنجاب میں سکھوں کی لسٹیں بھارت کو فراہم کرنے کی بات بھی دوہرائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے خود بے نظیر بھٹو نے بی بی سی کو انٹرویو میں تسلیم کیا تھا ’’ہم نے سکھوں کے معاملے پر بھارت کی مدد کی‘‘۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایسا ہوا تو تمام ریاستی سٹیک ہولڈروں کی مرضی سے ہی ہوا ہو گا۔ تب بھی بہرحال ایک الزام تو موجود ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی میں رہ کر تحریک انصاف کے لیے جو کام کر دکھایا ہے شاید وہ پی ٹی آئی میں جا کر بھی نہ کر پاتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سی ایس ایس میں ٹاپ کر کے سول سروس جائن کرنے کے بجائے شعبہ وکالت میں آ کر اپنے نام کا ڈنکا بجانے والے اعتزاز احسن انتہائی قابل اور باصلاحیت وکیل ہیں، لیکن اس امر سے انکار بھی ممکن نہیں کہ یہ ان کی ذات ہی تھی کہ جس کی نامزدگی نے صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کو متفقہ امیدوار لانے کے پلان پر عملدرآمد سے روک ڈالا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ صدر مملکت کے عہدہ کے لیے سب سے بہتر امیدوار اعتزاز احسن ہی تھے۔ مخالفین مگر اس تاثر کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اعتزاز اور پیپلز پارٹی کے ذمہ جو ڈیوٹی لگی تھی انہوں نے پوری کر دکھائی۔ صدر پاکستان منتخب ہونے والے عارف علوی ایک زمانے میں جماعت اسلامی میں تھے پھر پی ٹی آئی کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ ان کے بارے میں ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ 2014ء کے دھرنوں کے دوران ریاستی عمارتوں پر دھاوا بولنے والوں میں شامل رہے۔ اس کی باقاعدہ آڈیو ریکارڈنگ بھی ہے۔ ایک مرتبہ کراچی میں بلاول ہاؤس کی دیواریں گرانے بھی پہنچ گئے تھے۔ پورا ملک بند کرنے کے دعووں کے دوران چار پانچ بندوں کو ساتھ لے کر کراچی کی ایک آدھ سڑک بھی بند کرتے پائے گئے۔
صدارتی الیکشن میں دوسرے نمبر پر آنے والے مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت بھی خامیوں سے پاک نہیں، یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں، ان کی عالمی اور قومی امور پر گرفت اور سیاسی معاملہ فہمی کا مگر کوئی مقابلہ نہیں۔ مولانا کا ایک بدترین سیاسی مخالف یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ان کی سمجھ بوجھ کا لیول ایک تجربہ کار وفاقی سیکرٹری سے بھی زیادہ ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن پر مختلف ادوار میں کچھ الزامات لگے لیکن کسی کا ثبوت سامنے آیا نہ ہی کوئی مقدمہ یا ریفرنس دائر ہوا۔ اس لیے اگر کہا جائے کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنے مخالفین کی پراپیگنڈا مہم کا نشانہ بنتے رہتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ 2018ء کے عام انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے جو لب ولہجہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اختیار کیا اس میں کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ دھاندلی کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کے پہلے ہی اجلاس کے بعد انہوں نے دنیا بھر کے میڈیا کو کھل کر بتایا کہ الیکشن کے نتائج کیسے بدلے گئے۔ ظاہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس حوالے سے صرف ناراض ہی نہیں سیخ پا بھی ہے۔ اس لیے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور سیکولر حلقے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے فیاض چوہان جیسے وزیر جو سٹیج اداکاروں کے متعلق منفی تبصرے کر کے معافیاں مانگنے پر مجبور ہو گئے۔ اب مولانا فضل الرحمٰن کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ لگتا ہے اس حوالے سے بڑے پیمانے پر ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے راہ فرار اور شہباز شریف کی سربراہی میں ن لیگ کی کمزور پالیسی کے باوجود اپوزیشن کے موقف کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن آج بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بدلے ہوئے عالمی و مقامی حالات میں ان کی جماعت اور نظریات کو بھی نشانہ بنایا جانا مقصود ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے اسٹیبلشمنٹ بھی ناراض ہے اور دہشت گرد عناصر بھی، جو ان کی جان لینے کے لیے خودکش حملے بھی کر چکے ہیں۔ ن لیگ کی طرح جے یو آئی (ف) پر بھی کڑا وقت ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے دیگر چھوٹی جماعتوں سے مل کر جو سٹینڈ لیا ہے وہ وقت کی آواز ہے۔ اگر وہ صدر پاکستان منتخب ہو جاتے تو ملک میں نا صرف سیاسی توازن پیدا ہوتا بلکہ حقیقی جمہوریت کی جانب بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ ہر انسان کی طرح ہر سیاستدان کی بھی اپنی اپنی خصوصیات اور قابلیت ہوتی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن ہی صدر پاکستان کے عہدہ کیلئے سب سے بہتر امیدوارتھے۔
بقیہ: حروف