26 اپریل 2019
تازہ ترین

علماء کرام کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم! علماء کرام کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم!

یہ حقیقت ہے کہ اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اُسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جن لوگوں پر دنیا میں ہی اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ ایسے افراد ہیں جنہیں اللہ دین کا علم عطا کرتا ہے۔ ان میں سب سے اول انبیاء و رسل ہیں اوراس کے بعد دین کا حقیقی علم حاصل کرنے والے دیگر افراد۔ چونکہ علماء، دین کا حقیقی علم حاصل کرتے ہیں اور ایک بڑی ذمہ داری پر فائز ہوتے ہیں، شاید اسی لیے علماء کو انبیا کا وارث بھی کہا گیا ہے۔ پھر اسی علم پر مبنی اہم ترین ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں بلندی، کامیابی اور سرخروئی بھی عطا کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اعمال صالحہ و حسنہ کی ادائیگی پہ خوشخبری دیتے ہیں اور برے اعمال کے نتائج سے ڈراتے ہیں۔ چونکہ علماء کی حیثیت جہلا کے مقابلہ زیادہ ہے، اسی لیے انہیں معاشرے میں وہ عزت و مقام بھی حاصل ہے جو دیگر افراد کو نہیں ہے۔  روز اول سے علمائے کرام کو مسجد و منبر کے علاوہ سماجی  زندگی میں انتہائی فیصلہ کن مقام حاصل رہا ہے ۔شرعی معاملات ہوں یا زندگی کے نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہو نے کیلئے اجماع و قیاس کی ضرورت ، علمائے دین نے ہر مرحلے پر عام مسلمانوں کی بھر پور انداز میں رہنمائی فرمائی ۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر اگر موقع برست عناصر نے دین کی تعلیمات کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کی  یا امت میںبگاڑ کی سازش کی گئی تو بھی علمائے حق نے سامنے آ کر ایسی سازشوں کا ناکام بنا ڈالا۔لیکن اگر اہل علم اپنے مقام، رتبہ اور حیثیت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، نیز اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دیتے، تب وہی خدا گرفت بھی کرتا ہے، جس نے عزت وقار عطا کیا ہے۔
 اہل کتاب کے علماء کی مثال دیتے ہوئے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اہلِ کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔‘‘ (التوبہ: 34)۔ یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں، رشوتیں کھاتے ہیں، نذرانے لوٹتے ہیں، ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جن سے لوگ اپنی نجات اِن سے خریدیں اور اُن کا مرنا جینا اور شادی و غم کچھ بھی اِن کو کھلائے بغیر نہ ہوسکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکے دار اِن کو سمجھ لیں، بلکہ مزید براں اپنی اِنہی اغراض کی خاطر یہ حضرات خلقِ خدا کو گمراہیوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور جب کبھی کوئی دعوتِ حق اصلا ح کے لیے اُٹھتی ہے تو سب سے پہلے یہی اپنی عالمانہ فریب کاریوں اور مکاریوں کے حربے لے لے کر اس کا راستہ روکنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہے۔ اس ایک آیت سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اہل ایمان علماء کو اپنی حیثیت کے پیش نظر کس قدر محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیوںکہ جس خدا نے انہیں دنیا میں صرف علم دین کی بناء پر عزت و سربلندی عطا کی ہے، اگر وہ اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام نہیں دیں گے تو وہ خدا گرفت کرنے سے بھی نہیں چُوکے گا۔
ابتدائی گفتگو کے پس منظر میں یہ بات کافی ہے کہ عالم دین اسے کہا جائے گا جو دین کا حقیقی علم رکھتا ہو اور یہاں دین سے مراد قرآن و حدیث کا علم ہے۔ لہٰذا ایک سچا اور مخلص عالم وہی کہلائے گا جو دین کا علم بھی رکھتا ہو اور ساتھ ہی محمد رسول اللہﷺ کے مشن کو انجام دینے کے لیے بھی سرگرم ہو۔ اس کا فرض ہے کہ ہر مرحلہ زندگی میں افراد معاشرہ کی اصلاح و بہتری کیلئے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سامنے لائے ۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ علماء کرام جہاں دین کا مکمل علم حاصل کریں، وہیں دیگر باطل عقیدہ ہائے علم سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ ناواقفیت کے نتیجے میں باطل حق اور حق باطل بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دین میں ایک جانب تفقہہ پیدا کیا جائے، وہیں دوسری طرف دور جدید کی صورت حال سے بخوبی واقفیت حاصل کی جائے۔ تفقہہ فی الدین کا معاملہ کسی طرزِ فکر، نقطۂ نظر اور مسلک کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ دین کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس سے مراد دین کی وہ گہرائی ہے جو ایک عالم کو عصرِ حاضر کے چیلنجوں کے لیے تیار کرتی ہے۔ یونانی فلسفے کا دور ہو یا مغربی سائنس کا زمانہ، نوآبادیاتی نظام کا وقت ہو یا مابعد نوآبادیاتی نظام، سرمایہ دارانہ نظام ہو یا جاگیردارانہ نظام، سوشلزم ہو یا کمیونزم، مغربی فلسفہ الہاد ہو یا لادینیت، جدیدیت ہو یا مابعد جدیدیت الغرض کوئی گمراہی و ضلالت کی شکل ہو وہ اپنے زمانے کے چیلنجز کا شعور بھی رکھتا ہے اور تفقہہ فی الدین کی قوت سے ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ 
سورۃ النحل میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دعوت کے تین اصول بیان کیے ہیں: 1۔ حکمت 2۔موعظت حسنہ 3۔مجادلہ حسنہ۔ حکمت کے بے شمار معنی مراد لیے جاسکتے ہیں، لیکن دعوتِ دین کے معاملے میں حکمت سے مراد دلیل و برھان ہے جو عقل و فطرت کے تقاضے کے مطابق ہو، جسے سمجھنے میں عقل و فطرت کو اجنبیت نہ ہو۔ لہٰذا ضروری ہے کہ جب علمائے کرام عوام النّاس کو دین کی طرف بلائیں تو حکمت کے تمام پہلوئوں کو ہمیشہ مدنظر رکھیں۔     (جاری ہے)