19 مارچ 2019
تازہ ترین

علامہ اقبال اور قائد اعظم میں فکری ہم آہنگی علامہ اقبال اور قائد اعظم میں فکری ہم آہنگی

مسلمانان ہند کی جدوجہد آزادی اور تحریک پاکستان کی کامیابی علامہ اقبال اور قائد اعظم کی رہنمائی اور قیادت کا نتیجہ ہے۔ مسلمانان ہند کی تحریک آزادی کی قیادت کا چہرہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب علامہ اقبال اور قائد اعظم کو یکجان سمجھا جائے۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی فکری اور ذہنی ہم آہنگی مسلمانوں کی جد و جہد آزادی کی کامیابی کا سبب بنی۔ 6 اپریل 1941ء کو بمبئی سے چھپنے والے ماہانہ انگریزی رسالے Muslim Progress کے مدیر کو قائد اعظم نے خط لکھا۔ مسلم پراگریس نے خصوصی اقبال نمبر شائع کیا تھا اور اس کا نسخہ قائد اعظم کی خدمت میں بھیجا تھا۔ قائد اعظم نے مسلم پراگریس کی اس کاوش کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مدیر کے نام لکھا کہ اقبال مسلم قومیت اور اسلامی فلسفہ حیات کے سچے ترجمان تھے۔ انہوں نے اپنی نظموں اور دوسری تحریروں کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو بالعموم اور ہندوستان کے مسلمانوں کو بالخصوص صحیح راستہ دکھایا اور ان کے ذہنوں کو بدل کر راست فکر پر ڈال دیا۔ علامہ اقبال نے مسلم قوم کے لیے عظیم خدمت انجام دی اور ہمیں ہر ممکن طریقے سے ان کی یاد کو تازہ رکھنا چاہیے۔ میں اپنے عظیم فلسفی اور استاد کی یاد میں شائع ہونے والے آپ کے رسالے کے خصوصی نمبر پر آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔
گلبرگہ میں ہونے والے یوم اقبال کے لیے 9 اگست 1941ء کو حیدر آباد دکن سے پیغام جاری کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا: ہر عظیم تحریک کا کوئی فلسفی ہوتا ہے اور علامہ اقبال مسلم ہندوستان کی قومی نشاۃ نو کے فلسفی ہیں۔ انہوں نے اپنی تصانیف کی صورت میں اپنے پیچھے عظیم اور قابل قدر ورثہ چھوڑا ہے۔ ان کا پیغام نا صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ دنیا کی تمام دوسری قوموں کے لیے بھی ہے۔ اقبال وہ شاعر ہیں جنہوں نے مسلم قوم میں اسلام کی ماضی کی عظمت اور شان و شوکت کو بحال کرنے کا جذبہ اور روح پیدا کی۔ اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن جیسے جیسے مسلم ہندوستان آگے بڑھے گا اور ارتقا پذیر ہو گا علامہ اقبال کی یادیں زیادہ تازہ ہوتی چلی جائیں گی۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی تصانیف کو پڑھے اور اپنے قلب و روح پر نقش کرے اور اس فکر کی روشنی میں ہمیں ہندوستان کے مسلمانوں میں وحدت پیدا کرنے اور انہیں معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر منظم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تحریک آزادی کے دوران قائد اعظم جب مختلف جلسوں میں جاتے تھے تو انہیں عوام کی طرف سے استقبالیہ خطبات پیش کیے جاتے تھے۔ بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ان جلسوں میں پیش کیے جانے والے استقبالیہ خطبات علامہ اقبال کے ذکر اور ان کے اشعار سے خالی ہوں۔ مسلم سٹوڈنس فیڈریشن کے زیر اہتمام ہونے والے ایک جلسے میں جو خطبہ استقبالیہ پیش کیا گیا اس میں حالات حاضرہ، قائد اعظم کے کردار اور مسلمانوں کے مستقبل کا جہاں جہاں ذکر ہوا اس کی مزید وضاحت علامہ اقبال کے اشعار کے ساتھ کی گئی۔ مثلاً ہندوستان کے سیاسی ماحول میں قیادت کے فقدان کا ذکر کرتے ہوئے یوں کہا گیا:
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا میں صدف صدف
قائد اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے خطبہ استقبالیہ میں کہا گیا کہ کتنی مسرت کی بات ہے کہ آپ ہر جگہ دوسری اقلیتوں کے جواب میں صاف صاف اعلان کر رہے ہیں کہ پاکستان میں قانون فطرت یعنی قرآن مجید کا نفاذ ہو گا اور اس قرآنی حکومت میں صرف مسلمان سے ہی نہیں بلکہ غیر مسلم قوموں کے ساتھ بھی رواداری اور انصاف کا سلوک روا رکھا جائے گا۔ مسلمان نوجوان اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ہماری آخری منزل پاکستان سے بھی کہیں آگے ہے۔ ہم پاکستانی نظام کو تمام دنیا میں دیکھنے کے آرزو مند ہیں ہمارا تصور تو تسخیر عالم ہے:
عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے!
اس خطبہ استقبالیہ میں علامہ اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ علامہ اقبال کا قول تھا کہ مسلمان کی اصل شخصیت اس وقت تک مکمل ہی نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی ہمت سے اپنے لیے ایک ایسی پکی اسلامی دولت جمہوریہ قائم و دائم نہ کر لے جس کی اساس، اس کی شریعت، اس کے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے قرآن کے مساوات اور اخوت کے اخلاقی اصولوں پر ہو۔ اقبال کے الفاظ شاعرانہ تھے۔ اس کے اشارے اور کنائے عارفانہ تھے مگر اس کا پیغام سیاسی نوعیت کا تھا، ہر لحاظ سے سیاسی نوعیت کا اور اس نے ان تمام سیاسی کامرانیوں کی راہ دکھا دی جو اس وقت سے ہم نے حاصل کی ہیں۔ اقبال کے بعد اس کے مشورں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اور اس کے خوابوں کی تعبیر پیدا کرنے کے لیے محمد علی جناح کی عظیم، حیات بخش اور بیباک شخصیت آئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ شاید خدا نے اقبال کا پُر سوز شکوہ سن لیا ہے اور متاثر ہو کر اس کے جواب میں اس نے ہمارے لیے قائد اعظم بھیج دیا ہے۔
جب حیدر آباد دکن کے انعام اللہ خان کے علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کو خصوصی طور پر شائع کر کے اس کی چند کاپیاں قائد اعظم کو ارسال کیں جو اس وقت سری نگر میں تھے، تو اس پر قائد اعظم نے بہت مسرت کا اظہار کیا اور سرینگر سے انعام اللہ خان کے نام 16 مئی 1944ء کو اپنے جوابی خط میں لکھا مجھے آپ کا خط اور علامہ اقبال کے صدارتی خطبے کا ری پرنٹ موصول ہوا ہے جو ڈاکٹر سر محمد اقبال نے 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے الہ آباد اجلاس میں پیش کیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ 1929ء کے بعد سے میری اور ڈاکٹر سر محمد اقبال کے افکار اور سوچ میں یکسانیت اور ہم آہنگی موجود تھی اور وہ واحد عظیم اور نمایاں مسلم رہنما تھے جنہوں نے آخری لمحے تک میری حوصلہ افزائی کی اور میرے ساتھ کھڑے رہے۔ علامہ اقبال کے صدارتی خطبے کی اشاعت کے لیے آپ کی یہ کاوش میرے لیے باعث مسرت اور قابل تحسین ہے۔ 
علامہ اقبال اور قائد اعظم کی اس فکری اور ذہنی ہم آہنگی کو اجاگر کرنے اور آج کی نسل نو کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی ذہنی ہم آہنگی
 ہمارے سیاسی کلچر میں بھی سرایت کرنی چاہیے۔ ہمیں تعمیر پاکستان ہی نہیں کرنی بلکہ بانیان پاکستان کے وژن کے مطابق اسلام کے آفاقی اور انسانیت نواز پیغام کو دنیا تک عملاً پہنچانا ہے اور وہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کی فکری اپروچ سے ہی ممکن ہے۔
(ایوان اقبال میں 10 جنوری کو منعقد ہونے والے سیمینار میں پڑھا گیا)