16 نومبر 2018

عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے! عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے!

پائوں لٹکا کر جانب دنیا
آئو بیٹھیں کسی ستارے پر
(نصیر احمد ناصر)
برادرم بابر سہیل نے یہ خوبصورت شعر بھیجا۔ مگر اس کیلئے تو فراغت چاہیے ہے، وہ کہاں سے لائیں۔ رام ریاض نے کہا تھا کہ:
تو بھی حسیں، زمانہ بھی حسیں ہے
تجھ کو دیکھیں کہ ضرورت دیکھیں
جبکہ منیر نیازی نے تو حد ہی کر دی، کہا کہ:
تیری چاہت کا مختصر موسم
رزق کی جستجو میں بیت گیا
سچی بات تو یہ ہے کہ لکھنے کا موڈ نہیں تھا۔ صبح ٹی وی کھولا تو شفقت محمود وزیراعظم ہاؤس سے لے کر گورنر ہاؤس تک میں تعلیمی ادارے قائم کر رہے تھے۔ ماشاء اللہ کیا ’’فروعی ترجیحات‘‘ ہیں۔ چلیں مری، پنڈی والی بات تو سمجھ میں آتی ہے، گورنر ہاؤسز بھی سمجھ میں آتے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس والی بات تو انتہائی نامعقول آئیڈیا ہے۔ پھر آپ ایوان صدر حتیٰ کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو بھی یونیورسٹی میں کیوں تبدیل نہیں کر دیتے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا ہے، کنونشن سنٹر میں بلا لیا کریں۔ پارلیمنٹ میں ہزاروں لوگ کام کر رہے ہیں، 98فیصد لوگوں کو اپنی ’’جاب ڈسکرپشن‘‘ کا ہی پتا نہیں ہے۔ سپیکرز اور چیئرمین سینیٹ صاحبان نے ’’دل اور پیٹ بھر کر‘‘ بندے بھرتی کیے ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا، یو ایس ایڈ کا باقاعدہ سروے ہوا تھا۔ دونوں ہاؤسز کی قائمہ کمیٹیاں الگ الگ کیوں ہیں، ایک کمیٹی کیوں نہیں بنائی جا سکتی۔ ان قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی کا آڈٹ کرائیں، فنڈز کا بھی بتائیں کتنے خرچ ہوئے؟ سب دودھ کا دودھ بلکہ پانی کا پانی رہ جائے گا۔ پی اے سی میں جو کچھ ہوتا ہے سب کو پتا ہے، ان کا کام نگرانی تھا، قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس ’’ذاتی کاموں‘‘ کیلئے بلائے جاتے رہے ہیں۔ ابھی تک یہی پریکٹس رہی ہے ’’تبدیلی‘‘ کا بھی جلد ہی پتا چل جائے گا۔
جناب مجھے تعلیمی ادارے چاہئیں ہیں مگر اب اللہ کا واسطہ ان بڑے شہروں سے نکلو، کوئی پسماندہ علاقوں کا بھی رخ کرو۔ کم از کم ہر ضلع میں یونیورسٹی دو۔ میڈیکل، انجینئرنگ، زرعی یونیورسٹیاں دو۔ آخر ہم نے کیا قصور کر لیا ہے کہ ہر ادارہ بڑے شہروں ہی میں بنے گا، کیوں، آخر کیوں؟ اس کا ہمیں جواز بتائیں۔ یہ سب کچھ تو تحصیل کی سطح پر ہونا چاہیے۔ ہر تحصیل اور یونین کونسل کی ترقی کا ماسٹر پلان بناؤ۔ آپ ہمیں کس سمت لے کر جا رہے ہیں، جو کرنے والے کام ہیں، وہ کرو۔ یکساں نصاب پر گزشتہ پانچ سال کام ہوتا رہا، اس کو اب ختم کریں، بتائیں کہ 100 دن میں یہ کام ہو جائے گا کہ نہیں۔ یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انگلش کو بطور زبان پڑھائیں، پرائیویٹ سکول میں جب بچہ بآسانی یہ زبان سیکھ سکتا ہے تو سرکاری سکول میں کیوں نہیں؟ اور دوسرے اردو پر خاص توجہ دیں۔ یہ دیکھ لیں کہ انگلش نیوز چینل یہاں کامیاب نہیں ہو سکا، انگلش والوں کو اردو کی طرف آنا پڑا ہے۔ انگلش کی اہمیت سے انکار نہیں ہے، دنیا کا بہترین علم اس زبان میں ہے، اچھی کتابوں کے معیاری تراجم ضروری ہیں مگر ’’ٹرمنالوجی‘‘ کا اللہ کا واسطہ ترجمہ نہ کرائیں، موبائل کو موبائل ہی رہنے دیں۔ ہمیں بتائیں کہ انٹرنیشنل معیار کی سرٹیفکیشن کیلئے آپ کیا کر رہے ہیں، لوگوں کو باہنر بنانے کیلئے آپ کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ ٹیکنیکل ادارے تو یونین کونسل کی سطح پر ہونے چاہئیں تاکہ ہمارے بچے بچیاں ہنر سیکھ کر اپنے قدموں پر کھڑے ہوں۔ ہمیں معیاری اور فری تعلیم چاہیے، اچھے ہسپتال چاہئیں، اپنے قریب تر چاہئیں۔ آج ہر چھوٹے علاقے کا مریض بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں کیوں ریفر ہو رہا ہے، اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہمیں 24 گھنٹے تین شفٹوں میں کیوں نہیں مل سکتا۔ سسٹم بنانا تو آپ کا کام ہیں۔ آج پمز ہسپتال میں کچن اور لانڈری آمنے سامنے ہے، وزارت ہیلتھ والوں کو ڈوب مرنا چاہیے۔ پمز ہسپتال کا ایئر کنڈیشنگ پلانٹ ایک عرصہ سے بند پڑا ہے، قائداعظم یونیورسٹی چلے جائیں، کلاس رومز اور یونیورسٹی کا ماحول دیکھیں، آپ شرم سے ڈوب مریں گے۔ کلاس رومز میں ساؤنڈ سسٹم تک نہیں ہے، لیبارٹریز تباہ ہو گئی ہیں۔ تعلیم نہیں ہے مگر اچھی کوالٹی کی منشیات بآسانی دستیاب ہیں۔
سی ڈی اے نے اسلام آباد شہر کو تباہ و برباد کر دیا ہے، تجاوزات ہی تجاوزات ہیں، کچی آبادیاں ہی کچی آبادیاں ہیں، پورے پاکستان کے عیسائی یہاں آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ ہر گندے نالے پر ان کا قبضہ ہے، چند دنوں میں ان آبادیوں میں، جو غیر قانونی اور قبضے ہیں بجلی، گیس اور پانی سب کچھ پہنچ جاتا ہے۔ فری کے پلاٹ پر چند دنوں میں گھر بن جاتے ہیں۔ ہمارا کیا قصور ہے جن کی کمریں کرائے ادا کر کر کے دوہری ہو گئی ہیں؟ ہفتے کے بعد مہینہ آ جاتا ہے جو تنخواہ آتی ہے وہ مالک مکان، سکول اور بجلی والے لے جاتے ہیں۔ باقی عمومی طور پر راشن کیلئے ادھار یا ایکسٹرا کام کرنا پڑتا ہے۔اسلام آباد میں اگر سرکاری سکول اور پرائیویٹ سکول کا باہمی مقابلہ نہیں ہو سکتا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ آج اسلام آباد میں صفائی ستھرائی کا انتہائی ناقص انتظام ہے، اس کی ٹریفک پولیس، یوٹرن پولیس ہے۔ وہ اپنی جان چھڑاتی ہے، یوٹرن لگا دیتی ہے۔ اسلام آباد کی جس مارکیٹ میں چلے جائیں تجاوزات ہی تجاوزات ہیں۔ سی ڈی اے، تاجروں اور پولیس والوں کے قبضے اور بھتےہیں۔ ان کی پشت پر سیاستدان اور بابو ہیں۔ پورے ایف ایٹ پر وکیلوں کا قبضہ ہے، یہ قانون کے ’’باپو‘‘ بچوں کے فٹ بال گراؤنڈ پر قبضے کیے بیٹھے ہیں۔ پولیس تھانے کے اطراف کی زمین پر قبضہ کر لیا، پولیس کی پٹائی الگ سے کی۔ آپ نے جو کرنا ہے کر لیں، ان کو آپ نہیں پوچھ سکتے۔ یہ تو اب اعلیٰ عدالتوں کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ یہ افتخار چودھری اور اعتزاز احسن کا قوم کو عظیم تحفہ ہے۔ گراؤنڈز اور پارکوں پر مافیاز قابض ہیں، ہزاروں مالی اور بیلدار افسروں کے گھروں پر سالہا سال سے کام کر رہے ہیں، کئی تو سنا ہے وہیں سے ریٹائرڈ ہو گئے۔ گرین ایریاز سی ڈی اے کے افسروں کو بخش دیے گئے ہیں، یہ ہزاروں کینال گرین ایریاز ہڑپ کر گئے ہیں ان کے چیئرمینوں، ممبروں، ڈی جیز، ڈائریکٹروں، ڈپٹی ڈائریکٹروں، اسسٹنٹ ڈائریکٹروں، بلڈنگ انسپکٹروں کے گھرگھر ہیں۔ سی ڈی اے کا شاید ہی کوئی بدقسمت ملازم ہو جس کے پاس اپنا اور قبضے کا گھر نہ ہو۔ کچی آبادیوں میں بھی ان کا حصہ ہے، شہر کو تباہ کرنے پر یہ پلاٹ کے حقدار ٹھہرتے ہیں۔ جدھر دیکھو گٹر بہہ رہے ہیں، فٹ پاتھوں پر اور پارکنگ پر شو رومز والے قابض ہیں، شہریوں کے پاس چلنے کیلئے فٹ پاتھ نہیں، گاڑی پارک کرنے کیلئے پارکنگ نہیں ہے۔
میرا یہ ماننا ہے کہ اگر اسلا م آباد اتنے بُرے اور پتلے حالات میں ہے تو باقی کا یہ ملک ویسے ہی تباہ ہو چکا ہے۔ آپ اسلام آباد کو بطور پائلٹ پروجیکٹ لیں، اگر یہاں قانون نظر آئے گا، کام ہو گا تو اس کے اثرات نیچے تک جائیں گے۔ اب لپ سٹک، نیل پالش اور فیس پالش سے کام نہیں چلے گا۔ مریض کا مرض ٹھیک کریں، اس کے جسم کو اصل حالت میں بحال کریں۔
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے