26 ستمبر 2018
تازہ ترین

عراق میں تبدیلیوں کی لہر عراق میں تبدیلیوں کی لہر

ایرانی رہنما عراق میں داعش کے خلاف کامیابیوں کے دعوے کرنے میں مصروف ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے رواںہفتے کہا: ’’عراقی فوج میں الحاشد الشابی ملیشیا کی شمولیت نے داعش کے قدم روکے، عراقی آرمی کو بھی حزب اللہ بنادیا گیا ہے۔‘‘ یہاں تک بات درست ہے کہ ایران نے عراقی فوج میں جزوی طور پر فرقہ واریت کا رنگ بھرا، اس کے باوجود موصل کی لڑائی میں ایرانی ملیشیائوں کا خاص کردار نہیں تھا، جس کی وجہ ان کے جنگی جرائم تھے۔ تہران عراق میں فوجی موجودگی میں توسیع کے مقاصد بھلے حاصل کرچکا ہو، سیاسی اثررسوخ مستحکم بنانے کی کوششوں میں اسے رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ 2003ء کے بعد ہر الیکشن میں ایران نے اپنے پراکسی استعمال کے لیے حکومت پر غلبہ پانے کی کوشش کی، مگر ایسا ممکن نہیں ہوسکا، ایران کے تنخواہ دار ہونے کے باوجود عراقی فرقہ پرست سیاستدان باہمی تقسیم پر قابو نہ پاسکے۔
گزشتہ ہفتے عراق کی نمایاں ترین اسلامک سپریم کونسل کے فرقہ پرست رہنمائوں میں غیر معمولی پھوٹ دیکھنے میں آئی۔ یہ کونسل 1982ء میں ایران نے تشکیل دی، جلاوطن عراقیوںپر مشتمل اس کونسل کو ایران عراق جنگ کے دوران اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران ایران نے لبنان، بحرین اور سعودی عرب میں جنگجوئوں کو فنڈز فراہم کرنے شروع کیے، جس کا مقصد ان ملکوں کے نظام کا تختہ کرنا تھا۔ اسلامک سپریم کونسل کے مسلح ونگ البدر بریگیڈ کے بارے میں عراق میں تاثر عام ہے کہ 1980ء کی جنگ کے وہ غدار ہیں، کہ انہیں تہران جنگی قیدیوں پر تشدد اور پوچھ گچھ کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اسی لیے جب 2003ء میں اسلامک سپریم کونسل کی عراق واپسی شروع ہوئی، انہیں مشکوک نظروں سے دیکھا گیا۔
عراقی سرزمین پر اسلامک سپریم کونسل ایران نے بھاری خرچے کے بغیر دوبارہ قائم کرلی، اس کی بدر بریگیڈ نے وزارت داخلہ پر غلبے کی وجہ سے ملک کی سیکیورٹی فورسز پر مکمل تسلط جمالیا۔ سابق وزیراعظم نورالمالکی کی اسلامی دعوت پارٹی اور مقتدہ الصدر تحریک کے تعاون سے فرقہ پرست گروپ اور ان کے اتحادی پارلیمنٹ میں پچاس فیصد کے قریب نشستیں حاصل کرسکے، انہیں قریب لانے میں ایران نے اہم کردار ادا کیا۔ اسلامک سپریم کونسل کے ایران سے روابط نے اس کا ووٹ بینک متاثر کیا، 2010ء میں اس کی انتخابی حمایت بری طرح گرگئی۔ اسی دوران حکیم خاندان کی صورت میں کونسل کی نئی قیادت سامنے آئی۔ عمار الحکیم کا وژن کافی مختلف تھا، انہوں نے کونسل کو تہران سے دُور کرنے کے لیے آیت اللہ خامنہ ای سے وفاداری ختم کرکے اُسے عراقی مفتی اعظم آیت اللہ علی سیستانی سے وابستہ کرلیا اور ہر فرقے کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ نئی پالیسی کے باعث 2013/14 کے انتخابات میں کونسل کی حمایت بڑھ گئی۔ الصدر تحریک بھی اسی طرح کی تبدیلی سے گزری، فرقہ واریت ختم کرکے قوم پرستی اور تہران مخالفت کا رنگ دیا گیا۔
ان تبدیلیوں پر ہر کوئی خوش نہ تھا۔ 2014ء میں جب داعش کے خلاف شیعہ رہنمائوں نے ملیشیا کھڑی کرنا چاہی، اس وقت بعض مسلح گروپ اسلامک سپریم کونسل سے وابستہ تھے، عاشورہ گروپ الحکیم اور السیستانی، شام میں متحرک جہادی گروپ اور انصار العقیدہ ایران سے وابستہ تھے۔ چونکہ دونوں گروپوں کو بھاری فنڈنگ ہوتی تھی، اس لیے ان کی وفاداری بڑا مسئلہ بن گئی۔ ایران اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ اسلامک سپریم کونسل اس کے دائرہ اثر سے نکل جائے۔ جب کونسل میں نظریاتی کشیدگی انتہا پر پہنچنے لگی، جس کے نتیجے میں رواں ہفتے الحکیم گروپ نے علیحدگی اختیار کرکے ’’نیشنل وزڈم موومنٹ‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ تب سے کونسل کے اثاثوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی کشمکش جاری ہے۔ اصل امتحان 2018ء کا الیکشن ہوگا کہ آیا دونوں گروپ اختلافات ختم کرتے ہیں یا نہیں، اور یہ کہ الحکیم گروپ غیر فرقہ وارانہ بنیاد پر ٹکٹ جاری کرکے انتخابات میں حصہ لیتا ہے کہ نہیں۔ ایک بڑا سیاسی دھماکہ اسلامی الدعوت پارٹی میں متوقع ہے جو ایران نواز المالکی گروپ اور وزیراعظم حیدر العبادی کے حامیوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ العبادی فرقہ پرست ملیشیاؤں کو مزید پھلنے پھولنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ دونوں حریفوں میں پارٹی پر غلبے کے لیے مسابقت جاری ہے، تاہم پارٹی ابھی تک تقسیم کا شکار نہیں ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ العبادی، الحکیم اور الصدر فرقہ واریت مخالف ہونے کے باعث فطری اتحادی ہیں۔ اگر وہ سیکولر، سنّی اور کُرد پارٹیوں کو ساتھ ملانے میں کامیاب رہے تو اگلی پارلیمنٹ میں باآسانی اکثریت حاصل کرلیں گے۔ ایسی صورتحال ایران اور الحاشد الشابی ملیشیا کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔ دونوں یہ یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں کہ اسلامک سپریم کونسل، الدعوت پارٹی اور ان کے اتحادی متحد رہ کر اگلے انتخابات میں پارلیمانی اکثریت حاصل کریں۔ اس وقت بہت کچھ دائو پر لگا ہے، ایک طرف عراقی ریاست و معاشرہ ہے، جس میں الحاشد ملیشیا کی کوئی جگہ نہیں بنتی، دوسری جانب تہران کی تابع فرمان عراقی ریاست ہے، جس میں بے لگام فرقہ پرست مسلح گروپ ہیں اور عراقی معاشرے کے مختلف حلقے تنہائی اور بددلی کا شکار ہیں، بعض بنیاد پرست ہوچکے ہیں۔
ایران بہت طاقت ور ملک نہیں، جب عراق، لبنان اور بحرین کے سیاست دان اپنے فیصلے خود کرنے لگیں گے، تہران ازخود کمزور پڑ جائے گا۔ عراق کے پاس تاریخی موقع ہے کہ اپنی سیاست کی سمت درست اور بے لگام فرقہ پرست تنظیموں کو طاقت ور بنانے کی ایرانی کوششیں ناکام بنادے، جو عراقی ریاست کے لیے تباہ کن ہیں۔ بغداد کے دوست سنّی، شیعہ اور کُرد اعتدال پسندوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ عراق کے گزشتہ انتخابات میں جب مغربی اور علاقائی طاقتوں نے اپنا اثررسوخ استعمال کرنا چاہا، اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی اور اُن کے پاس عراقی حکومت کی حمایت کے علاوہ کوئی چوائس نہ تھی۔ 
اسلامک سپریم کونسل اور اسلامی الدعوت پارٹی میں حالیہ تبدیلیوں سے متعلق مغربی میڈیا نے ابھی تک رپورٹس جاری نہیں کیں۔ امید ہے کہ سفارتی حلقے ان تبدیلیوں اور مواقع سے پوری طرح آگاہ ہیں جو منظرعام پر آرہے ہیں۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ ڈیلی عرب نیوز)