21 نومبر 2018
تازہ ترین

عامر احمد علی مجھے بیعت کر لو! عامر احمد علی مجھے بیعت کر لو!

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تیری کیا
ہر شخص میرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا
ویسے تو ایک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے
ایسے کوئی طوفاں، ہلا بھی نہیں سکتا
گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری
میں ہوں کہ چراغوں کو بجھا بھی نہیں سکتا
(وسیم بریلوی)
آپ یقین کریں کہ نیا پاکستان ہر صورت میں معرض وجود میں آئے گا۔ ہماری نوبیاہتی حکومت اپنے ہنی مون پیریڈ میں ایسی ایسی اٹھکیلیاں کر رہی ہے کہ بڑے بڑے تجربہ کار منہ کے بل ڈھے جائیں۔ ان کا کابینہ کا انتخاب ہو کہ وزرائے اعلیٰ کا، گورنرز کا انتخاب ہو کہ مشیران کا، پرنسپل سیکرٹری کا انتخاب ہو کہ چیف سیکرٹریز کا، وفاقی بیورو کریسی کا انتخاب ہو کہ خودمختار اداروں کے سربراہان کا۔ ’’تبدیلی‘‘ کو ان لوگوں نے چار چاند لگا دیئے ہیں۔ چائنہ کا مصنوعی چاند جو کہ شنید ہے ہر شہر میں چمکا کرے گا، جب وہ مارکیٹ میں آیا تو ’’تبدیلی سرکار‘‘ اس کا بھی بدرجہ اتم اہتمام کرے گی۔
میں کافی عرصہ سے بیورو کریسی میں بڑی یاد اللہ رکھتا ہوں، ہمارا کام جو ٹھہرا۔ رابطے رہتے ہیں، کبھی گرم تو کبھی سرد، یہ ’’دھندے‘‘ کا حصہ ہے۔ ہم نے ملک آصف حیات، محمود سلیم محمود، اسلم سنجرانی، امتیاز قاضی، محمد احسن راجہ جیسے دبنگ بیورو کریٹ دیکھے۔ اس کے علاوہ بھی ایک طویل فہرست ہے، حاضر سروس میں بھی کئی بڑے نام ہیں جو انتہائی شاندار کیریئر رکھتے ہیں۔ وہ بھی دیکھے جو صرف ’’کام، کام اور صرف کام‘‘  لگانے پر یقین رکھتے تھے، انہوں نے خوب کام میں جی لگایا۔ بہت سے ان کے جانشین ابھی بھی اسی راستے پر گامزن ہیں اور دن رات محنت کر رہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اور لاہور کی اپنی ایک خاص کشش ہے، جو بیورو کریٹ یہاں رہ جائے پھر اسے تمام دوسرے سٹیشن حقیر لگتے ہیں۔ باامر مجبوری کبھی کراچی کا قصد کر لیتے ہیںاس کے علاوہ قوم پر احسان کرتے ہوئے بس یونہی امریکا، یورپ، کینیڈا، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، آج کل چین، سنگاپور اور ملائشیا وغیرہ بھی دو تین سال کیلئے چکر لگا لیتے ہیں البتہ کبھی کبھی سعودی عرب کو چکر دے آتے ہیں۔ یو اے ای کو بھی کبھی شرف زیارت دے دیتے ہیں۔
بہرحال بیورو کریسی میں ان لوگوں کے بچوں نے خوب ترقی کمائی، جنہوں نے آداب نوکرشاہی کو ایمان کا حصہ بنا لیا۔ وہ اپنے بابا، بھائی، ماما، بہنوئی، سسر، ہم زلف، سالے اور سالیوں کے بنائے زریں اصولوں پر چلتے ہیں۔ اسلام آباد میں پی ایس پی اور پاس کے ویسے تو کئی افسران ہیں مگر تین لوگوں نے بطور خاص خصوصی شہرت پائی۔ یہ اس شہر سے نکلتے ہی نہیں ہیں۔ اگر کہیں نکلتے بھی ہیں تو ہاتھ لگاکر واپس آ جاتے ہیں۔ ان میں دو پی ایس پی ہیں۔ نمبر ایک کلیم امام ہیں جو سالہاسال سے وفاق کی محبت میں گرفتار ہیں۔ میاں اسد حیا الدین انہیں جنرل کہہ کر پکارتے ہیں۔ 16ویں کامن کے درخشندہ ستارے ہیں۔  سلطان اعظم تیموری کے کے بزرگوار بھی سینئر آفیسر تھے، انہوں نے لڑکپن، نوجوانی اور جوانی یہیں پر مختلف عہدوں پر گزار دی۔ پولیس میں وہ ہر عہدے پر یہاں رہے۔19ویں کامن کے آفیسر کی اس بار آئی جی اسلام آباد پھر سے آنے کی کوششیں رنگ نہ لا سکیںلیکن یقین رکھیں وہ پھر سے آ جائیں گے۔
اب 25ویں کامن سے تعلق رکھنے والے ’’پاس‘‘ کے عامر احمد علی کی جانب آتے ہیں۔ میاں نوازشریف کے پرنسپل سیکرٹری اور معتمد خاص قبلہ سعید مہدی کے یہ فرزند ارجمند ہیں۔ چودھری احمد سعید کے داماد ہیں۔ عمران خان کے مشیر ماحولیات ملک امین اسلم کے ہم زلف بتائے جاتے ہیں۔ راجہ سلطان سکندر جلال کے برادر نسبتی ہیں۔ بنیادی طور پر ’’انتہائی سمارٹ‘‘ اور خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ دورانیہ 8 سال سے زیادہ کا ہے اور مسلسل ہے۔ ا س کے بعد یہ ممبر سی ڈی اے ایڈمنسٹریشن لگ گئے جہاں یہ سی ڈی اے کے ڈی فیکٹو چیئرمین تھے۔ اس کے بعد انہیں ایک اور اعزاز بھی حاصل ہوا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ان کیلئے سینئر مینجمنٹ کورس  (S.M.C) بطور خاص اسلام آباد میں رکھوایا گیا۔ یہ اتنے محنتی ہیں کہ بیک وقت دو دو جگہ پر مشقت کرتے رہے۔ صرف ایک تنخواہ پر اتنی فرض شناسی کامران لاشاری کے بعد دوسری بار دیکھنے میں آئی۔ پھر انہیں پاسپورٹ کے محکمہ میں ڈی جی بنا کر بھیج دیا گیا، وہ محکمہ بھی پرواز کرنے لگا۔ پھر انہیں ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ لگا دیا گیا۔ نگران حکومت آئی توعامر احمد علی پنجاب چلے گئے، وہاں ان کے ساتھ محترم اکبر درانی اور یوسف نسیم کھوکھر نے بڑی زیادتی کی، انہیں کرنے کو کوئی کام نہیں دیا۔
اسلام آباد میں ملک ریاض سے لے کر بری امام کے راجوں، کھوکھروں اور ملکوں سمیت سب لوگ ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے دیوانے تھے۔ ان کے بنائے ہوئے سسٹم کو کوئی توڑ نہیں سکتا تھا، جس نے توڑا وہ راندہ درگاہ ہو گیا۔ بڑے پیر سعید مہدی کی طرح صاحب کرامت ہیں۔ (ن) لیگ چلی گئی، پی ٹی آئی کی تبدیلی پرانی ہو گئی، وہ سوئی گیس کمپنی کے ویسے ہی چیئرمین برقرار ہیں۔ ان کیلئے گیدڑ سنگھی کا لفظ لکھنا نامناسب ہے، یہ صاحب کشف اور صاحب کرامت خاندان ہے۔ یہ ’’پارس‘‘ ہیں، جو ان سے مس ہو جاتا ہے اس کے بھی مزے ہو جاتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو عامر الیاس رانا اور رئوف کلاسرہ سے آپ تصدیق کر سکتے ہیں۔ دونوں ’’دھانسو‘‘ صحافی ہیں۔
مجھے عامر احمد علی کا مستقبل انتہائی روشن محسوس ہوتا ہے بلکہ محسوس نہیں ہوتا، یقین ہے۔ اگلی حکومت میں پیپلزپارٹی آ جائے یا ’’دوست‘‘ ان کا ستارہ عروج پر ہی رہے گا۔میں عامر احمد علی کو پیر مانتا ہوں۔ ان سے درخواست ہے، قبلہ و کعبہ ’’خواجہ‘‘ عامر احمد علی مدظلہ مجھے بیعت کر لیں۔
جہاں پناہ مجھے بازوئوں میں لے لیجئے
 میری تلاش میں ہیں گردشیں زمانے کی
نوٹ: پوسٹنگ نہ ملنے والے میرے کئی او ایس ڈی دوستوں کو بھی مشورہ ہے کہ وہ اپنا پیر اور پیر خانہ بدل لیں۔ آگے آپ کی مرضی ہے، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔
دریچوں تک چلے آئے تمہارے دور کے خطرے
ہم اپنے گھر سے باہر جھانکنے کا حق بھی کھو بیٹھے
(وسیم بریلوی)