عالمی عسکری بجٹ عزائم کا عکاس عالمی عسکری بجٹ عزائم کا عکاس

دنیا کی عظیم ترین عسکری طاقتوں میں امریکا سرفہرست ہے، جس کا سالانہ عسکری بجٹ612بلین ڈالر ہے۔ دوسرے نمبر پر چین 155.6بلین ڈالر اور تیسرے پرروس جس کا بجٹ 76.6بلین ڈالر ہے، چوتھے نمبر پرحیران کن طور پرسعودی عرب ہے، جس کا بجٹ 56.7بلین ڈالرہے۔ بھارت 56بلین ڈالر بجٹ کے ساتھ پانچویں، برطانیہ55بلین ڈالر بجٹ کے ساتھ چھٹے، جاپان49بلین ڈالر ساتویں، جرمنی45.3بلین ڈالر آٹھویں، فرانس 43بلین ڈالر نویں اور اٹلی 34بلین ڈالر بجٹ کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔ اسی فہرست میںاسرائیل بھی شامل ہے جس کا سالانہ عسکری بجٹ 15.6بلین ڈالر ہے۔ دوسری طرف 50 برسوں سے زائد مسلسل حالت جنگ کا سامنا کرنے والے ممالک پاکستان اور ایران کا سالانہ فوجی بجٹ محض بالترتیب 7بلین ڈالر اور 6.3 بلین ڈالر ہے۔ 
ان تمام تر بھاری عسکری بجٹ کے علاوہ دنیا میں 9بڑی ایٹمی عسکری طاقتوں کا الگ سے ایٹمی بجٹ بھی ہے۔ اس وقت دنیا کے مختلف ملکوں کے پاس 18 ہزار فعال ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جو غلط ہاتھوں میں جانے یا کسی حادثے کی صورت میں زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اہم مقامات پر نصب شدہ ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں30 فیصد اضافہ ہوا۔ جن میں روس 8950، امریکا 7800، فرانس 300، چین250 ,برطانیہ 225، پاکستان220، بھارت 120، اسرائیل80 اور شمالی کوریا کے 10 وار ہیڈز مختلف حفاظتی مقامات پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ اگرچہ روس اور امریکا نے بظاہر اپنے نیو کلیئر وار ہیڈ تلف کیے لیکن یہ تلفی محض رسمی تھی۔ اب بھی سب سے زیادہ ایٹم بم روس اور امریکا کے پاس ہیں۔ 
گزشتہ25سال میں دہشت گردی کے 92فیصد واقعات ان ممالک میں ہوئے جہاں ریاستیں سیاسی تشدد کو فروغ دینے کی ذمے دار ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی تمام اسلامی ممالک کا مسئلہ نہیں۔ 
اسلامی ممالک میں سے بھی انہی میں ہی دہشت گردی پنجے گاڑ سکی جو سیاسی عدم استحکام کا شکار یا آمریت کے شکنجے میں جکڑے ہیں، مثلاً دہائیوں تک صدام کی آمریت سے آج سیاسی و فرقہ وارانہ تقسیم کے شکار عراق میں 15-2001ء کے دوران 50ہزار اور ملائیشیا میں صرف 6افراد دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔ 2016ء کے دوران اس سے گزشتہ برس کی نسبت 16ء میں ہلاکتوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمی آئی۔ پاکستان میں 2016ء میں مسلسل تیسرے سال دہشت گرد حملوں میں کمی دیکھنے میں آئی، گزشتہ 10برس میں سب سے کم 956ہلاکتیں بھی اسی سال میں ہوئیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عالمی سطح پر اسلحے کی تجارت بڑھتی جارہی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 2008ء سے 2012ء کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ اسلحہ اور گولا بارود درآمد برآمد کیا گیا۔ عالمی سطح پر 38فیصد اسلحہ مشرق وسطیٰ کے ممالک نے خریدا ہے۔ اس میں ہر تیسرا ہتھیار بھارت، سعودی عرب، مصراور متحدہ عرب امارات نے خریدا اور یہی وہ ریاستیں ہیں، جن کی اسلحے کی درآمدات دوگنا بڑھی۔
اسلحے کی فروخت میں امریکا پہلے، روس دوسرے، فرانس تیسرے، جرمنی چوتھے اور چین پانچویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں عالمی منڈی میں فروخت کیے جانے والے اسلحے میں ان پانچوں ممالک کا حصہ 74فیصد بنتا ہے۔ عالمی سطح پر اسلحے کی فروخت میں امریکا کا حصہ 34فیصد بنتا ہے۔ امریکا کل 98ممالک کو اسلحہ بارود برآمد کرتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران روس کی اسلحے کی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی تاہم اس کے باوجود عالمی منڈی میں فروخت کیے جانے والے روسی اسلحے کا تناسب قریباً 22فیصدہے۔ اسلحے کی خریدیا درآمدات کی بات کی جائے تو بارہ فیصد کے ساتھ بھارت پہلے نمبر ہے۔ اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک میں بھارت کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور آخر میں چین کا نام آتا ہے۔ چین سب سے زیادہ اسلحہ پاکستان، الجزائر اور بنگلادیش کو فروخت کرتا ہے۔
امریکا کی ایک ریسرچ گروپ نے انکشاف کیا کہ حکومت نے 21کھرب ڈالر اس انداز سے خرچ کر دیے کہ اسے معلوم ہی نہیں اتنی بڑی رقم کہاں خرچ ہوئی۔ فوربز میگزین کے مطابق امریکی حکومت کے دومحکموں نے ممکنہ طور پر 1998ء سے لے کر 2015ء تک یہ رقم خرچ کی اور ان کے پاس اس کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ ریاست مشی گن کی سرکاری یونیورسٹی کے پروفیسر اسکڈ مور نے او آئی جی کی ویب سائٹ پر موجود معلومات پر سوالات اٹھانا شروع کیے تو پُراسرار انداز سے ویب سائٹ پر موجود اکائونٹنگ ایڈجسٹمنٹ کے متعلق معلومات صاف کردی گئیں۔ کہا جاتا ہے یہ دولت امریکا سمیت ان سامراجی عزائم رکھنے والی ممالک نے انڈر ورلڈاوردہشت گرد تنظیموںکی مجرمانہ نیٹ ورکنگ سے کمائی ہے۔ امریکا اور دیگر عالمی طاقتیں اسلحے کی تخفیف کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں حالانکہ امریکا سمیت ان ممالک کی بیسیوں کمپنیاں اور فرمیں اسلحہ پھیلانے میں لگی ہوئی ہیں۔ 
2017 میں دنیا بھر میں مجموعی طور پر 1.98 ٹریلین ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کیے گئے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے ۔اس کمائی میں سے اکثر کا تعلق انڈر ورلڈ سے ہے، کہا جاتا ہے کہ اگرچہ ابھی انڈر ورلڈ کی78کمپنیاں نیوکلیئر ہتھیاروں تک نہیں پہنچ پائیں، لیکن یہ 10 بڑے ممالک کی 78 کمپنیاں ہیں جو پوری دنیا میں کیمیائی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیار پھیلارہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے 24 کا تعلق امریکا، 3 کا چین ، 8 کا فرانس، 17 کا برطانیہ، 6 کا روس، 5 کا جاپان، 3 کا ہالینڈ، 7 کا بیلجیئم، 3 کا اسپین اور 2 کا سوئیڈن سے ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا تعلق بھی کسی اسلامی ملک سے نہیں۔ دنیا بھر کے 245 ممالک میں سے 57 مسلم ممالک ہی خلفشار اور حالت جنگ کا شکار ہیں، لیکن اسلحہ ساز 78 ملٹی نیشنل کمپنیاں اور 93 فرمیں اپنا ہر قسم کا اسلحہ بلاتفریق سب کو فروحت کررہی ہیں۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم ممالک میں نفرت، تفرقہ بازی اور شدت پسندی کو ہوا دے کر آپس میں جنگیں کرائی جارہی ہیں۔ جس کی واضح مثال شام، لبنان، یمن، عراق، ایران، مصر، افغانستان اور پاکستان سمیت دیگر ممالک ہیں۔ 
تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ القاعدہ، داعش، النصرۃ فرنٹ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کو براہ راست تشکیل دینے، فنڈنگ اور کنٹرول کرنے سمیت دیگر حربوں کے ذریعے بھرپور عدم استحکام پیدا کیا۔ وار آن ٹیرر جیسے دلفریب نعروں کے ذریعے کمزور ممالک پر قبضے کیے گئے اور کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے اپنی موجودگی کے جواز کو قانونی حیثیت دی گئی۔ یوںدنیا بھر میںمجموعی طور پر 1.98 ٹریلین ڈالر ہتھیاروںکی فروخت کی راہ ہموار کی گئی۔ کیسی مکاری ہے کہ ایک طرف دنیا اور انسانوں کو ہتھیاروں کی فروخت سے غیر محفوظ بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف خود ہی مختلف عالمی فورمز کے ذریعے انسانیت کا راگ الاپا جارہا ہے۔